خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے…

خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’ اے علی! اگر کوئی شخص اس قدر عرصہ دراز تک اللہ کی عبادت کرے جتنا عرصہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ٹھہرے تھے اور احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں صرف کرے؛ اور پا پیادہ ایک ہزار مرتبہ حج کرے ؛پھر بحالت مظلومی صفاء و مروہ کے مابین مارا جائے؛ اور اے علی ! وہ تجھے دوست نہ رکھتا ہو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا اور نہ وہ اس میں داخل ہوگا۔‘‘ [مزید من گھڑت روایات ملاحظہ فرمائیں ]

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 6

۱۰۔ حکیم بن حزام اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ؛ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ خندق کے دن عمرو بن عبد ود کے مقابلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکلنا میری امت کے قیامت تک کے اعمال سے زیادہ افضل ہے ۔

۱۱۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا، مگر انھوں نے انکار کردیا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی کہ تم علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو گالی کیوں نہیں دیتے؟ تو بتایاکہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتیں بتائی تھیں ، اس وجہ سے میں ہر گز آپ کو گالی نہیں دوں گااور اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہو جائے تو وہ سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔میں نے سناکہ بعض غزوات میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں چھوڑ کر گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا:’’ اے علی! تجھے مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔بس صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘ [رواہ البخاری۵؍۱۸۔ علامہ موسیٰ جار اللہ اپنی کتاب’’ الوشیعہ‘‘ میں ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ‘‘ کی تشریح میں فرماتے ہیں :دراصل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا کہ اگرچہ تیرا مقام نیکی میں بلند ہے لیکن سیدنا ہارون علیہ السلام کی طرح تم خلافت کا بوجھ نہیں اٹھا سکو گے، سیدنا ہارون چالیس دن بھی خلافت کا بار نہ اٹھا سکے اور مقصد یہ تھا کہ تم خلافت کے جھنجھٹ میں نہ پڑنابلکہ تعلیم و تعلّم کے کام میں مشغول رہنا۔ حالانکہ ہارون نبی علیہ السلام تھے اور تم نبی بھی نہیں ہو ۔] غزوہ خیبر کے موقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لأعطین الرایۃ غداً رجلاً یحب اللہ و رسولہ و یحبہ اللہ و رسولہ۔ )) 

’’ کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور اللہ اوراس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘

ہم آپس میں چہ می گوئیاں کرنے لگے ۔ [جب صبح ہوئی تو] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طلب کیا۔ آپ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ۔آپ نے [ان کی آنکھوں میں لعاب ڈالا ] اور پھر انہیں جھنڈا عطا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر فتح عطا کی۔

جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

{ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَ کُمْ}

[آل عمران ۶۱] 

’’پس آپ فرما دیجیے : آئیے !ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ ۔‘‘

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؛ فاطمہ ؛ حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا ؛ اورفرمایا؛ ’’ اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ۔‘‘

[شیعہ نے یہ حدیث تفصیلاً ذکر کی ہے اور قبل ازیں یہ بیان کی جا چکی ہے] ۔‘‘

[انتہی کلام الرافضی] 


[جواب ] :

خطیب اعظم خوارزمی کی اس بارے میں ایک کتاب ہے ؛ اس میں اتنی جھوٹی روایات ہیں جن کا من گھڑت ہونا کسی ادنی علم رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ۔علماء حدیث کی تو بات ہی کچھ دیگر ہے۔نیز خطیب خوارزمی کا شمار محدثین میں نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا یہ مقام و مرتبہ ہے کہ دقیق علمی مسائل میں اس کی طرف رجوع کیا جائے۔ اس نے وہ روایات نقل کی ہیں جن کے بارے میں تمام محدثین جانتے ہیں کہ یہ من گھڑت اور جھوٹی روایات ہیں ۔رافضی مصنف نے اپنی کتاب کے شروع میں دعوی کیا تھا کہ وہ اپنی کتاب میں وہی روایات نقل کرے گا جو اہل سنت والجماعت کے ہاں صحیح ہوں گی۔ اور انہوں نے اپنی معتمد کتابوں اور معتمد اہل علم کے اقوال سے نقل کیا ہوگا۔ تو پھروہ ایسی روایات کیونکر ذکر کرتا ہے جن کے من گھڑت اور جھوٹ ہونے پر تمام اہل سنت کا اجماع ہے۔جب کہ معتمد کتب ِ احادیث سے کوئی بھی روایت ہی نقل نہیں کی۔ اور نہ ہی کوئی ایسی روایت ہے جسے ائمہ محدثین نے صحیح کہا ہو۔

یہ دس روایات جو اس نے ذکر کی ہیں ؛ شروع سے لیکر آخرتک دس کی دس روایات محض جھوٹ ہیں ۔سوائے عمرو بن عبدود کے قتل کے واقعہ کے۔

۱۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا، مگر انھوں نے انکار کردیا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی کہ تم علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو گالی کیوں نہیں دیتے؟ تو بتایا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتیں بتائی تھیں ،اس وجہ سے میں ہر گز آپ کو گالی نہیں دوں گا؛اور اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہو جائے تو وہ سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے....الخ۔

یہ حدیث صحیح ہے اورامام مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔

[صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ ، (ح:۳۲؍۲۴۰۴)] 

اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تین فضائل بیان ہوئے ہیں : مگر اس میں ائمہ کی کوئی خصوصیت نہیں ۔اورنہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی خصوصیت ہے۔یہ قول کہ : بعض غزوات میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں چھوڑ کر گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا:’’ اے علی! تجھے مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔بس صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ حاکم مدینہ مقرر کرنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی خصوصیت نہیں ، اور نہ ہی آپ کو نائب مقرر کرنا دوسروں کو نائب مقرر کرنے سے زیادہ کامل ہے۔یہی وجہ تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ عرض کی تھی : آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ اس لیے کہ ہر غزوہ میں مدینہ میں کچھ نہ کچھ مرد مہاجرین و انصار میں سے موجود رہتے تھے؛ سوائے غزوہ تبوک کے ۔اس موقع پر آپ نے تمام لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا تھا۔

صفحہ 2 از 6