خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے…

خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’ اے علی! اگر کوئی شخص اس قدر عرصہ دراز تک اللہ کی عبادت کرے جتنا عرصہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ٹھہرے تھے اور احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں صرف کرے؛ اور پا پیادہ ایک ہزار مرتبہ حج کرے ؛پھر بحالت مظلومی صفاء و مروہ کے مابین مارا جائے؛ اور اے علی ! وہ تجھے دوست نہ رکھتا ہو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا اور نہ وہ اس میں داخل ہوگا۔‘‘ [مزید من گھڑت روایات ملاحظہ فرمائیں ]

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 3 از 6

اس موقع پر مدینہ میں وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جو یا تو معذور تھے ‘ یا بچے اور عورتیں یا پھر منافق؛ اوروہ لوگ جو غلطی یا سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پیچھے رہ جانے کو اچھا نہ سمجھا‘ اور عرض کیا :

’’کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں ؟ یعنی آپ مجھے ساتھ کیوں نہیں لے جارہے ‘ پیچھے کیوں چھوڑ رہے ہیں ؟

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا کہ : پیچھے رہنے میں کوئی نقص یا عیب نہیں ۔ بیشک موسی علیہ السلام نے بھی اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو پیچھے اس وجہ سے چھوڑا تھا کہ وہ آپ کے نزدیک امانت دار تھے۔ایسے ہی میں بھی آپ کو پیچھے اس لیے چھوڑ کر جارہا ہوں کہ آپ میرے نزدیک امانت دار ہیں ۔ مگر اتنا فرق ہے کہ موسی علیہ السلام نے اپنے بعد نبی کو پیچھے چھوڑا تھا ‘ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

[یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں ملاحظہ کی جائے۔

(۱) مسند احمد:۱؍۳۸۳، ح:۳۶۳۲۔(۲) مستدرک حاکم (۳؍۲۱،۲۲) (۳) ترمذی کتاب تفسیر القرآن۔ سورۃ الانفال(ح:۳۰۸۴) و سندہ ضعیف لانقطاعہ۔ ابوعبیدہ کا اپنے والد عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔ (۴) تفسیر ابن کثیر(۴؍۹۴۔۹۵)، (۵) مسند ابی یعلی(۲؍۲۴۱)، (۶) دلائل النبوۃ(۳؍۱۳۸)] 

ابن کثیر البدایۃ والنہایہ(۳؍۲۹۷۔۲۹۸)

پر لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیدیوں کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’یا رسول اﷲ !یہ آپ کی قوم و قبیلہ کے لوگ ہیں انھیں زندہ رہنے دیجیے ممکن ہے کہ اللہ ان کو توبہ کی توفیق عطا کرے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:’’ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا، لہٰذا ان کو تہ تیغ کردیجیے۔‘‘

عبد اﷲ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ ان کو نذر آتش کردیجیے۔‘‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ آپ نے قطع رحمی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب باتیں سنیں اور کوئی جواب نہ دیا، لوگ طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرنے لگے کسی نے کہا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کریں گے، کسی نے کہا، عمر کی تجویز کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ کسی نے کہا، عبد اﷲ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کریں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اورفرمایا: اﷲ تعالیٰ بعض لوگوں کے دل کو انتہائی نرم بنا دیتے ہیں اور بعض کا دل اتنا سخت ہوتا ہے کہ اس کے سامنے پتھر کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا، آپ کی مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام جیسی ہے، جنھوں نے فرمایا تھا:

{مَنْ تَبِعَنِی فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ}

(سورۂ ابراہیم:۳۶)

نیز آپ کی مثال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہے جن کا ارشاد ہے:

{ اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ}

(سورۃ المائدۃ:۱۱۸) 

پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: آپ کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام جیسی ہے، جنھوں نے فرمایا تھا:

{رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا}

(سورۂ نوح:۲۶)

نیز آپ کی مثال سیدنا موسیٰ علیہ السلام جیسی ہے، انھوں نے فرمایا تھا:

{ رَبِّ اشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَ لِیْمَ}

(سورۂ یونس:۸۸)

پھر آپ نے فرمایا: چونکہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کمزور ہے، اس لیے کفار یا تو فدیہ ادا کریں یا انھیں قتل کردیا جائے۔

یہ تشبیہ اصل استخلاف میں ہے ۔ اس لیے کہ موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو تمام بنی اسرائیل پر نائب بنایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کچھ تھوڑے سے مسلمانوں پر اپنا نائب بنایا تھا۔ جب کہ باقی سارے لوگوں کو آپ اپنے ساتھ جہاد پر لے گئے تھے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اگر ہارون علیہ السلام کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابراہیم و عیسیٰ رحمہم اللہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت نوح و موسیٰ رحمہم اللہ کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ چاروں پیغمبر حضرت ہارون علیہ السلام سے افضل تھے۔ مزید براں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہر دو کو دو دو انبیاء کے مشابہ قراردیا ہے، ایک کے نہیں ۔ بنا بریں یہ تشبیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تشبیہ سے عظیم تر ہے۔ نیز یہ کہ استخلاف علی رضی اللہ عنہ میں دیگر صحابہ بھی ان کے سہیم و شریک تھے مگر اس تشبیہ میں کوئی صحابی حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہماکا شریک نہیں ۔ لہٰذا یہ تشبیہ کسی طرح بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت قرار نہیں دی جا سکتی۔

ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان :’’ کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور اللہ اوراس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ [صحابہ کہتے ہیں :] ہم آپس میں چہ می گوئیاں کرنے لگے ۔

[جب صبح ہوئی تو] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طلب کیا۔ آپ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ۔آپ نے [ان کی آنکھوں میں لعاب ڈالا ] اور پھر انہیں جھنڈا عطا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر فتح عطا کی۔

صفحہ 3 از 6