خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے…

خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’ اے علی! اگر کوئی شخص اس قدر عرصہ دراز تک اللہ کی عبادت کرے جتنا عرصہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ٹھہرے تھے اور احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں صرف کرے؛ اور پا پیادہ ایک ہزار مرتبہ حج کرے ؛پھر بحالت مظلومی صفاء و مروہ کے مابین مارا جائے؛ اور اے علی ! وہ تجھے دوست نہ رکھتا ہو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا اور نہ وہ اس میں داخل ہوگا۔‘‘ [مزید من گھڑت روایات ملاحظہ فرمائیں ]

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 4 از 6

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں روایت کردہ احادیث میں سب سے صحیح حدیث ہے۔اسے امام بخاری اور امام مسلم نے کئی اسناد سے نقل کیا ہے۔مگر یہ وصف بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ یا ائمہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر متقی مؤمن سے محبت کرتے ہیں ؛ اور ہر متقی مؤمن اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ لیکن اس حدیث میں نواصب کا بہترین ردّ ہے، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بغض و عداوت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؛ آپ سے برأت کا اظہار کرتے ہیں اور آپ سے محبت و دوستی نہیں رکھتے۔نیزخوارج کی تردید ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرتے اور آپ کو فاسق کہتے ہیں ۔کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی ہے کہ آپ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں ۔

علاوہ ازیں اس حدیث سے ان روافض کی تردید ہوتی ہے، جو کہتے ہیں کہ جو احادیث فضائل صحابہ میں وارد ہوئی ہیں وہ ان کے مرتد ہونے سے پہلے کی ہیں ۔ خوارج بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہی کہتے ہیں ۔ حالانکہ خوارج و روافض دونوں کے اقوال سرے سے باطل ہیں ۔ [اہل سنت و الجماعت ان کے اقوال سے بری ہیں ] ۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے خوشنودی کا اظہار نہیں کر سکتے جس کے متعلق اس کو معلوم ہو کہ اس کی موت کفر پر ہوگی۔

اسی طرح یہ حدیث ان اہل ہویٰ اور گمراہ فرقوں جیسے معتزلہ ؛مروانیہ وغیرہ؛ پر بھی حجت ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں ‘ اور آپ پر سب و شتم کرتے ہیں ۔

واقعہ مباہلہ اور حدیث کساء

اسی طرح مباہلہ بھی آپ کی خصوصیت نہیں ، کیونکہ حضرت فاطمہ حسن و حسین رضی اللہ عنہم بھی اس میں آپ کے ساتھ شریک تھے۔جیسا کہ یہی لوگ چادر کے نیچے چھپائے جانے میں بھی آپ کے شریک تھے۔ پس اس سے معلوم ہوا یہ حدیث نہ ہی مردوں کے ساتھ خاص ہے ‘ اور نہ ہی ائمہ کے ساتھ خاص ہے۔بلکہ اس میں عورت ؛ بچے اور دوسرے لوگ بھی شریک ہیں ۔ کیونکہ مباہلہ کے وقت حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہماچھوٹے بچے تھے۔ مباہلہ کا واقع سن نو یا دس ہجری میں فتح مکہ کے بعد اس وقت پیش آیا جب نجران کے عیسائیوں کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عمر سات سال بھی نہیں تھی ۔ جب کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ سے ایک سال بڑے ہیں ۔ان کو بلانے کی وجہ یہ تھی کہ حکم یہی ملا تھا کہ ہر گروہ اپنے قرابت داروں بیٹوں اورعورتوں کو بلائے اور خود بھی حاضر ہو۔ تو ان دونوں فریقین میں سے ہر ایک نے اپنے قریب تر رشتہ داروں کو بلانا تھا۔ یہ لوگ نسب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی تھے۔ اگرچہ بعض دوسرے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان سے افضل تھے۔ اس لیے کہ آپ کو یہ حکم نہیں ملا تھا کہ اپنے افضل ترین اتباع کاروں کو بلائیں ۔ مقصود یہ تھا کہ لوگوں میں سب سے قریبی اورخاص افراد کو بلایا جائے۔ اس لیے کہ انسان کی فطرت میں ہے کہ [ایسے مواقع پر] اسے اپنی ذات اور اپنے قریبی خونی رشتہ داروں کا ایک خوف سا رہتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ چادر والی روایت میں اور دعا میں بھی انہیں ہی خاص کیا ہے۔

مباہلہ تو برابری کی بنا پر قائم تھا۔اس لیے عیسائیوں کو چاہیے تھا کہ وہ نسب کے لحاظ سے اپنے قریب تر رشتہ داروں کو بلا لائیں ۔ انہیں بھی اپنی اولاد کے بارے میں ایسے ہی خوف تھا جیسا خوف کسی اجنبی پر نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ مباہلہ کرنے سے رک گئے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں علم ہوچکا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں ۔اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا تو آپ کی بددعا ان کے لیے اور ان کے اقارب کے لیے قبول ہوجائے گی۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی انسان کو اپنی اولاد کے بارے میں اتنا خوف محسوس ہوتا ہے کہ اتنا خوف اپنی جان کے بارے میں محسوس نہیں ہوتا۔

اگر یہ کہاجائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جو فضائل صحیح سند کے ساتھ ثابت ہیں ؛ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان :

’’ کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور اللہ اوراس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘

اور حدیث : کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہے کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔‘‘

اور یہ حدیث: ’’یا اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ۔ان سے پلیدی کو دور کردے ‘ اور انہیں بالکل پاک کردے ۔‘‘

سوال :....اگر یہ کہا جائے کہ : یہ باتیں آپ کے خصائص میں سے نہیں ہیں ؛ بلکہ ان میں دوسرے لوگ بھی آپ کے شریک اور حصہ دار ہیں تو پھر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ تمنا کیوں کی تھی کہ ایک کاش ! یہ مقام اسے مل جاتا ۔جیسا کہ حضرت سعد اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ۔

جواب:

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہراً و باطناً حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مومن ہونے کی شہادت دی تھی۔اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے موالات کا اثبات اور آپ کے لیے اہل ایمان کی محبت وموالات کا وجوب تھا۔ اس میں ان نواصب کا رد ہے جو آپ کے کافر یا فاسق ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ اوراسلام سے خارج گروہ خوارج پر رد ہے ؛ جو لوگوں میں سب سے بڑھ کر عبادت گزار تھے؛ جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز اور ان کے روزہ کے مقابلہ میں اپنے روزے ؛ اور ان کی تلاوت قرآن کے مقابلہ میں اپنی تلاوت کو حقیر سمجھوگے۔وہ قرآن پڑھیں گے، جو ان کے حلق سے تجاوز نہ کرے گا۔ دین سے وہ ایسے نکل جائے گی، جیسے تیرکمان سے نکل جاتا ہے ؛ تم انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ تو قتل کر ڈالو۔‘‘

صفحہ 4 از 6