خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے…

خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’ اے علی! اگر کوئی شخص اس قدر عرصہ دراز تک اللہ کی عبادت کرے جتنا عرصہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ٹھہرے تھے اور احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں صرف کرے؛ اور پا پیادہ ایک ہزار مرتبہ حج کرے ؛پھر بحالت مظلومی صفاء و مروہ کے مابین مارا جائے؛ اور اے علی ! وہ تجھے دوست نہ رکھتا ہو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا اور نہ وہ اس میں داخل ہوگا۔‘‘ [مزید من گھڑت روایات ملاحظہ فرمائیں ]

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 5 از 6

[صحیح بخاری:ح ۵۲]عن علِی وأبِی سعِید الخدرِیِ وجابِرِ بنِ عبدِ اللّٰہِ رضِی اللّٰہ عنہم فِی البخارِیِ:۴؍۲۰۰، کتاب المناقب باب علاماتِ النبوۃِ، مسلِم:۲؍۷۴۰، کتاب الزکاۃ، باب ذِکرِ الخوارِجِ وصِفاتِہِم، باب التحرِیضِ علی قتلِ الخوارِجِ، وانظر: جامِع الأصولِ لِابنِ الأثِیرِ:۱۰؍۴۳۶۔ سنن أبِی داود:۴؍۳۳۶، کتاب السنۃِ باب فِی قِتالِ الخوارِجِ، سنن ابنِ ماجہ:۱؍۶۰۔ المقدمۃ، باب فِی ذِکرِ الخوارِجِ، المسندِ ط۔ الحلبِیِ:۳؍۶۵۔] 

یہ خوارج حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کافر اور فاسق کہتے تھے ؛ اور آپ کو قتل کرنا حلال اور مباح سمجھتے تھے(معاذاللہ)۔ یہی وجہ تھی کہ ان خوارج میں سے ہی ایک شخص نے آپ کو قتل کردیا تھا۔اس قاتل کا نام عبد الرحمن بن ملجم المرادی تھا۔ حالانکہ یہ انسان لوگوں میں سب سے بڑا عبادت گزار تھا۔

اہل سنت والجماعت کو خوارج و نواصب سے مناظرہ کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان اور دین داری کے اثبات کے لیے کہیں بہت زیادہ اور قوی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے ؛ ایسے دلائل کی ضرورت شیعہ سے مناظرہ کرتے ہوئے پیش نہیں آتی۔ اس لیے کہ خوارج بڑے سچے اور دیندار لوگ ہوتے ہیں ۔اور ان کے ہاں جو شبہات پائے جاتے ہیں ؛ وہ شیعہ کے شبہات کی نسبت زیادہ طاقتور ہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمان جب حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں جب یہود و نصاری سے مناظرہ کریں ؛ تو انہیں ان دلائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے جن سے یہودیوں کے اس دعوی پر ردّ کرسکیں کہ آپ ولد الزنا یا جھوٹے ہیں ۔العیاذ باللہ ۔ اور انہیں ان دلائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے جن سے عیسائیوں پر رد کرسکیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رب اور معبود بنائے بیٹھے ہیں ۔ یہودیوں سے مناظرہ کرنا عیسائیوں سے مناظرہ کرنے کی نسبت زیادہ مشکل کام ہے۔ ان کے ایسے شبہات ہیں جن کو رد کرنا نصاری کے بس کی بات نہیں ۔ بلکہ ان کا جواب مسلمان ہی دے سکتے ہیں ۔ یہی حال نواصب کا ہے۔ ان کے ایسے شبہات ہیں جن کا جواب دینا شیعہ کا کام نہیں ۔ بلکہ ان کا جواب اہل سنت ہی دے سکتے ہیں ۔

مذکورہ بالا احادیث صحیح ہیں ‘ جو ظاہری و باطنی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں ۔ان میں نواصب پر رد ہے ؛ اگرچہ ان دلائل کا شمار آپ کے خصائص میں نہیں ہوتا؛ یہ احادیث ویسے ہی ہیں جیساکہ اہل بدر اور اہل بیعت رضوان کے ایمان پر دلالت کرنے والی نصوص ظاہر و باطن میں ان کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں ۔اس میں اختلاف کرنے والے دونوں گروہوں خوارج اور روافض پر رد موجود ہے۔اگرچہ ان میں سے کسی بھی روایت سے آپ کے خصائص پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ کسی معین شخص کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہادت دیں ؛ یا اس کے لیے دعا کریں ‘ تو بہت سارے لوگ چاہتے ہیں کہ اس کے لیے بھی ایسی ہی گواہی دی جاتی؛ یا پھر اس کے لیے بھی ایسی ہی دعا کی جاتی۔اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے لوگوں کے حق میں ایسی گواہی دی ہے‘ اور بہت سارے لوگوں کے لیے ایسی دعائیں بھی کی ہیں ۔مگر خاص طور پر کسی کے لیے ایسی دعاکرنا اس کے عظیم ترین فضائل و مناقب میں سے ہے۔ یہ ایسے ہی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت شماس بن قیس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگوں کے لیے جنتی ہونے کی بشارت دی تھی۔

[مسلِم:۱؍۱۱۰کتاب الإِیمانِ باب مخافۃِ المؤمِنِ أن یحبط عملہ، أن ثابِت بن قیس رضِی اللہ عنہ لما نزل قولہ تعالیٰ: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ النبِیِ} [ الحجراتِ: ۲] حزِن واحتبس عنِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وقال کلاما، آخِرہ: فأنا مِن أہلِ النارِ، فذکر ذلکِ سعد بن معاذ لِلنبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : بل ہو مِن أہلِ الجنۃِ، والحدِیث فِی المسندِ ط۔ الحلبِیِ: ۳؍۱۳۷، وفضائل عبداللّٰہ بن السلام رضی اللّٰہ عنہ روی البخارِی:۵؍۳۷، کتاب مناقِبِ الأنصارِ، باب مناقِبِ عبدِ اللّٰہِ بنِ سلام رضِی اللّٰہ عنہ، ومسلِم: ۴؍۱۹۳۰کتاب فضائل الصحابۃ، باب: مِن فضائِلِ عبدِ اللّٰہِ بنِ سلام رضِی اللّٰہ عنہ۔] 

آپ نے ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی جنت کی بشارت دی ہے۔اور جیسے کہ صحابی عبد اللہ الحمار رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی تھی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ؛ حالانکہ اسے شراب نوشی پر مار پڑ رہی تھی۔ اگرچہ آپ نے اس قسم کی گواہی ان لوگوں کے لیے بھی دی ہے جو اس صحابی سے افضل تھے۔ جیسا کہ آپ نے بنوعمرو بن تغلب کے بارے میں فرمایا کہ: انہیں نہ دینے کی وجہ ان کے دلوں میں بے نیازی اور خیر کی موجودگی ہے۔ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

’’ میں کسی کو دیتا ہوں اور کسی کو نہیں دیتا ہوں ۔ اور جسے میں نہیں دیتا ہوں وہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، جسے میں دیتا ہوں ۔ لیکن میں ان لوگوں کو دیتا ہوں ، جن کے دلوں میں بے چینی اور گھبراہٹ دیکھتا ہوں ۔ اور جنہیں میں نہیں دیتا ہوں ان لوگوں کو میں اس تونگری اور بھلائی کے حوالہ کر دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے۔ اور انہی میں سے عمرو بن تغلب بھی ہے۔‘‘

[صحیح بخاری:ح۸۸۰] 

حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے ایک شخص کا جنازہ پڑھتے ہوئے جب یہ دعا فرمائی:

(( اللہم اغفِر لہ وارحمہ وعافِہِ واعف عنہ وأکرِم نزلہ ووسِع مدخلہ واغسِلہ بِالمائِ والثلجِ والبردِ؛ ونقِہِ مِن الخطایا کما ینقی الثوب البیض مِن الدنسِ وأبدِلہ دارا خیرا مِن دارِہِ وأہلا خیرا مِن أہلِہِ وقہ من فتنۃ القبرعذابِ القبرِ و أفسح لہ في قبرہ ونوّر لہ فیہ۔ )) 

صفحہ 5 از 6