خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے…

خطیب اعظم خوارزمی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’ اے علی! اگر کوئی شخص اس قدر عرصہ دراز تک اللہ کی عبادت کرے جتنا عرصہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ٹھہرے تھے اور احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں صرف کرے؛ اور پا پیادہ ایک ہزار مرتبہ حج کرے ؛پھر بحالت مظلومی صفاء و مروہ کے مابین مارا جائے؛ اور اے علی ! وہ تجھے دوست نہ رکھتا ہو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا اور نہ وہ اس میں داخل ہوگا۔‘‘ [مزید من گھڑت روایات ملاحظہ فرمائیں ]

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 6 از 6

’’ یا اللہ اس کو بخش اور رحم کر اور اسے عافیت عطا فرما اور اسے معاف فرما اور اس کے اترنے کی جگہ کو کرم والی بنادے اور اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے پانی برف اور اولوں سے دھو دے اور اسکے گناہوں کو اس طرح صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے اور اسے اس کے گھر کے بدلے بہتر گھر عطا فرما؛ اوراسے قبر کے فتنہ سے نجات دے ؛ عذاب قبر سے بچا ؛ اور اس کی قبر کو وسیع کردے؛ اور اس کی قبر کو روشن کردے ۔‘‘

تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہہ اٹھے:’’ اے کاش! اس میت کی جگہ میں ہوتا۔

[صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمیت فی الصلاۃ (حدیث:۹۶۳) ۔] 

حالانکہ یہ دعا اس میت کے ساتھ مختص نہ تھی۔


صفحہ 6 از 6