کیا سیدنا عمرؓ نے سیدہ فاطمہؓ بنت رسولﷺ کے گھر کا دروازہ…

کیا سیدنا عمرؓ نے سیدہ فاطمہؓ بنت رسولﷺ کے گھر کا دروازہ توڑا اور اسے جلایا پھر سیدہ فاطمہؓ کے بطن میں موجود حمل پر لات مار کر گرایا جس سے محسن دنیا میں آنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے؟؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

زیاد بن کلیب یہ واقعہ براہ راست بیان کر رہے ہیں حالانکہ وہ اس واقعہ میں موجود نہ تھے بلکہ وہ تو رسولﷺ کی وفات کے کافی دیر بعد اسلام لائے دوسرا ان کی وفات 110 یا 119ہجری میں ہوئی جبکہ رسولﷺ 11 ہجری میں وفات پا گئے۔

یہ واقعہ آپ ﷺ کی وفات کے فورا بعد کا ہے لہٰذا یہ ثابت ہی نہیں ہوتا کہ زیاد بن کلیب اس واقعہ میں موجود تھے۔  یہ روایت اس طرح منقطع ہو جاتی ہے۔ 

(تذھیب تھذیب الکمال۔ جلد 3، صفحہ 325, 326)

لہٰذا یہ روایت بھی سخت ضعیف اور ناقابل استدلال ہے۔ 

عجیب بات یہ ہے کہ یہ روایت نہ ہی شیعہ کی کتبِ اربعہ میں موجود ہے اور نہ ان کے ائمہ معصومین سے ثابت ہے۔

البتہ شیعہ کی کتاب احتجاج طبرسی میں یہ روایت موجود ہے لیکن وہاں بھی صرف دھمکی کا ذکر ہے وہ بھی دھمکی ان لوگوں کے لئے تھی جو گھر میں جمع ہوئے تھے نہ کہ  سیدہ فاطمہؓ  کو دھمکی دی گئی اور گھر جلا دینے اور  سیدہ فاطمہؓ کو مارنے اور ان کے حمل کو ضائع کرنے کا ذکر وہاں بھی نہیں۔

(احتجاج طبرسی: حصہ اول و دوم صفحہ 145) 

اسی طرح کا صریح الزام سیدنا ابوبکرؓ پر بھی لگایا جاتا ہے اور اس روایت کو بھی تاریخ طبری سے پیش کیا جاتا ہے۔ آئیے یہ روایت بھی دیکھ لیتے ہیں! 

سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کہ ہاں میرے دل میں دنیا کی حسرت نہیں ہے ، مگر تین چیزیں ایسی ہیں جو میں نے کی ہیں مگر کاش نہ کرتا ، اور تین چیزیں ایسی ہیں جو میں نے چھوڑ دی ہیں مگر کاش ان کو کرتا اور تین چیزیں ایسی ہیں کہ کاش میں رسول اللہ سے ان کے متعلق دریافت کر لیتا۔ وہ تین چیزیں جن کو میں چھوڑ دیتا تو اچھا ہوتا ان میں سے ایک یہ ہے کہ کاش میں فاطمہؓ کا گھر نہ کھولتا۔

(تاریخ طبری: جلد 8، صفحہ 152, 153) 

سبائی ٹولہ اس روایت سے گھر جلانا مراد لیتا ہے حالانکہ اس میں گھر جلانے کا کوئی تذکرہ نہیں

جبکہ اس روایت کی سند سخت ضعیف اور منکر ہے کیونکہ اس کی سند میں " علوان بن داؤد" جسے علوان بن صالح کہا جاتا ہے منکر الحدیث ہے۔

(لسان المیزان: جلد  5، صفحہ 472)

لہٰذا یہ روایت بھی کسی طرح حجت نہیں۔

اب دیکھتے ہیں کہ شیعہ کے یہاں اس منگھڑت افسانے کا اصل ماخذ کیا ہے!

یہ منگھڑت افسانہ سب سے پہلے شیعہ کی کتاب سلیم بن قیس الھلالی میں بیان ہوا:

سیدنا عمرؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے گھر کے دروازے کو توڑا اور پھر جلایا پھر  سیدہ فاطمہؓ کو مارا جس کی وجہ سے وہ اس دنیا سے رخصت ہوئیں

(کتاب سلیم بن قیس الھلالی: صفحہ 386, 387) 

سبائی ٹولے کی تاریخ میں سب سے پہلے یہ واقعہ کتاب سلیم ابن قیس العامری الھلالی میں نقل ہوا

یہ کتاب روایات سلیم ابن قیس الھلالی پر مشتمل ہے مگر یہ کتاب سلیم ابن قیس کی اپنی لکھی ہوئی نہیں، بعض سبائی کہتے ہیں کہ سلیم ابن قیس نے خود لکھی تھی۔

سچ و حق یہ ہے کہ کتاب سلیم ابن قیس کے دو مرتب ہیں: ایک نسخہ ابان بن ابی عیاش اور دوسرا نسخہ باقرالانصاری کا مرتب کردہ ہے۔

ان دو مولفین نے سلیم ابن قیس کی بیان کردہ روایات کتاب کی صورت میں تالیف کی ہیں۔

اس کتاب کے شروع میں لکھا ہے کہ ابان بن ابی عیاش اس کتاب کو مرتب کرنے والا ہے

(کتاب سلیم ابنِ قیس الھلالی: صفحہ نمبر 9) 

فہرست ابن ندیم میں ہے کہ سبائی ٹولے کی تاریخ میں سب نے ابان بن ابی عیاش سے اس کتاب کو روایت کیا ہے اس کے سوا کسی نے نہیں.

(فہرست ابن ندیم: صفحہ نمبر 307) 

یہاں سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا راوی ابان ابی عیاش ہے۔

آئیے اب شیعہ ہی کی کتب سے اس راوی کا حال معلوم کرتے ہیں۔ 

ابان بن ابی عیاش تابعی ضعیف ہے اس کی روایت پر توجہ و اعتماد نہ کیا جاے خاص کر اس نے ایک کتاب سلیم بن قیس بیان کی جو جھوٹ ہے

(خلاصہ اقوال  فی معرفۃ الرجال از علامہ حلی: صفحہ 325) 

ابان بن ابی عیاش نے جھوٹی کتاب گھڑی سلیم بن قیس جو کہ بالکل جھوٹی اور غیر ثقہ کتاب ہے

(تصحیح اعتقاد امامیہ للشیخ المفید: صفحہ 149) 

ابان بن ابی عیاش ضعیف ہے اس نے کتاب سلیم بن قیس گھڑی ہے

(کتاب الرجال از تقی الدین الحلی: جلد  2 صفحہ 414) 

ابان بن ابی عیاش ضیعف راوی ہے اسکی رویت قبول نہ کریں اور کتاب سلیم اس نے گھڑی ہے۔

(نقد الرجال تفرشی: جلد 1، صفحہ 39)

ابان بن ابی عیاش ضعیف راوی ہے 

(رجال طوسی از شیخ طوسی: صفحہ 126) 

یہاں سے اتنا ثابت ہوجاتا ہے کہ سبائی ٹولے کے گھر سے ہی اس افسانے کا من گھڑت ہونا ثابت ہوا اور اصل ماخذ کا ہی من گھڑت ہونا ثابت کیا گیا اس کے بعد جتنی کتب میں یہ واقعہ بیان ہوا وہ سب جھوٹ اور افسانے کے سوا کچھ نہیں۔



صفحہ 2 از 2