Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل سنت کے نزدیک جو لڑکی زنا سے پیدا ہوئی ہو وہ زانی کے لیے حلال ہے۔معاذاللہ۔

  امام ابن تیمیہ

[اہل سنت پر اعتراضات ] :

رافضی مضمون نگار رقم طراز ہے:قیاس کی وجہ سے اہل سنت لا تعداد امور قبیحہ میں گرفتار ہوگئے، چنانچہ حسب ذیل مسائل قیاس کی پیداوار ہیں:

۱۔ جو لڑکی زنا سے پیدا ہوئی ہو وہ زانی کے لیے حلال ہے۔

ان کے علاوہ بھی ایسے کئی مسائل ہیں جن کے بیان کا موقع یہ نہیں ہے ۔‘‘

[انتہیٰ کلام الرافضی] ۔


[جوابات] :

پہلا جواب:....ان میں ایسے مسائل بھی ہیں جو جمہور اہل سنت پر محض بہتان ہیں ۔جمہور اہل سنت والجماعت ان میں سے کسی کو بھی درست تسلیم نہیں کرتے۔ [جاہل شیعہ....جو روافض کے مشہور علماء میں شمار ہوتا ہے،....اور اس کے نظائر و امثال کی افتراء پر دازیوں نے علامہ ہندحضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی ابن شاہ ولی اﷲ دہلوی کو مجبور کیا کہ آپ شیعی فقہ کے رسوائے عالم مسائل و احکام کا راز طشت از بام کریں ، چنانچہ آپ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف تحفہ اثنا عشریہ کے ساتویں باب میں از صفحہ ۱۰۸ تا ۲۳۷ (طبع سلفیہ) اس قسم کے سب مسائل جمع کر دئیے ہیں ، ان سطور کے قاری سے گذارش کی جاتی ہے کہ امام ابن تیمیہ کی تنقیدات کا مطالعہ کرنے کے بعد تحفہ اثنا عشریہ میں شیعی فقہ کے اعجوبۂ روزگار اور حیران کن مسائل ملاحظہ کرے اور پھر شیخ الاسلام کے بیان کردہ حقائق سے ان کا موازنہ کرے۔] ان میں سے ہر ایک مسئلہ کے برعکس اقوال موجود ہیں ۔اگرچہ بعض لوگوں نے یہ باتیں کہی بھی ہوں ؛ تو اہل سنت میں دوسرے ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس حق اور صواب موجود ہے۔اوراگر ان میں سے کوئی بات درست ہو تو بھی حق اہل سنت و الجماعت کے ساتھ ہی ہے ۔دونوں صورتوں میں اہل سنت والجماعت حق سے باہر نہیں جاتے ۔

دوسرا جواب:....ہم کہتے ہیں کہ: خود رافضی فقہ میں بھی ایسے مسائل کی کمی نہیں ،جنہیں دین کے بارے میں ادنی معرفت رکھنے والا مسلمان بھی اپنی زبان پر لانا گوارہ نہیں کرتا۔ ان میں سے شیعہ کے یہاں بعض مسائل متفق علیہا ہیں اور بعض متنازع فیہا ہیں ۔ان میں سے چند مسائل ملاحظہ ہوں ۔

۱۔ شیعہ جمعہ و جماعت کے تارک ہوتے ہیں ۔

۲۔ روافض مساجد کو ویران رکھتے ہیں جنہیں آبادکرنے اوران میں جمعہ اور باجماعت نمازرمیں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اور مقبروں کو رونق بخشتے ہیں ۔جن کا بنانا ہی اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ان قبروں اور درگاہوں کو باڑے بنالیتے ہیں ۔اور ان میں بعض لوگ ان درگاہوں کی زیارت کو حج کے برابر قرار دیتے ہیں ۔ [عجیب بات یہ ہے کہ بعض قبروں میں وہ لوگ سرے سے مدفون ہی نہیں جن کے نام سے وہ مشہور ہیں مثلاً نجف میں حضرت علی کی قبر اور کربلا میں حضرت حسین کا مزار صرف اسی امکان کی بنا پر بنا دیا گیا کہ یہ دونوں حضرات وہاں مدفون ہیں ، یہ تاریخی حقائق ہیں شیعہ کا ان سے انکار ایک جدا گانہ امر ہے، لطف یہ ہے کہ مقبرے تعمیر کرتے وقت شیعہ اس حقیقت سے کلیۃً آگاہ تھے کہ وہ حضرات یقیناً ان میں مدفون نہیں اس کے باوجود وہ مزار تعمیر کرنے اور انہیں ان کے نام سے مشہور کرنے پر مصر تھے۔]

اس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ رافضی عالم شیخ مفید نے ’ مناسک حج المشاہد ‘‘ (حج قبور کے احکام) کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی ہے جو بالکل عیسائیوں کی کتابوں کی طرح کذب و شرک کا پلندہ ہے۔

۳۔ شیعہ یہودیوں کی ہم نوائی کرتے ہوئے مغرب کی نماز میں تاخیر کرتے ہیں ۔

۳۔ اہل کتاب کا ذبیحہ روافض کے نزدیک حلال نہیں ۔

۵۔ شیعہ کے نزدیک ایک مخصوص مچھلی [مرماہی اور جری] حرام ہے۔

۶۔ بعض شیعہ کے نزدیک اونٹ کا گوشت حرام ہے۔

۷۔ بعض شیعہ طلاق کے وقت گواہوں کی موجودگی کوشرط قرار دیتے ہیں ۔

۸۔ مسلمانوں کے اموال میں سے اس کا پانچواں حصہ بطور خمس کے وصول کرتے ہیں ۔

۹۔ شیعہ کے نزدیک سب ورثہ بیٹی کو ملے گا،اور میت کے چچا اور باقی عصبہ کو کچھ نہیں ملے گا۔ [شیعہ اس مسئلہ میں تناقض کا شکار ہیں ؛ چنانچہ ان کی معتبر کتابوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ: جب کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کی غیر منقولہ جائیداد ( مکان، زمین وغیرہ ) میں سے عورتوں کو وراثت نہیں ملتی۔ ابو جعفر کہتے ہیں :’’ اﷲ کی قسم! یہ بات علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی املا کرائی ہوئی ہے۔‘‘بصائر الدرجات: ۱۸۵۔ ح: ۱۴۔ باب فی الائمہ علیہم السلام وأنہ صارت الیھم ....‘‘

 

الکلینی نے ابو جعفر رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ عورتیں زمینی جائیدار میں کسی چیز کی وارث نہیں ہوتیں ۔‘‘فروع الکلینی: ۷؍۱۶۷۸ کتاب المواریت، حدیث:۴، باب ان النساء لا یرثن۔ بحار الأنوار:۲۶؍ ۵۱۴۔ ح: ۱۰۱( باب جھات علومھم ....‘‘]

۱۰۔ شیعہ ہمیشہ کے لیے دو دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھتے ہیں ۔

۱۱۔ بعض شیعہ کے نزدیک روزوں کا انحصار دنوں کی تعداد پر ہے چاند پر نہیں ۔چاند نظر آنے سے پہلے روزہ رکھتے ہیں اور چاند نظر آنے سے پہلے عید کرلیتے ہیں ۔ اس طرح کے دیگر مسائل واحکام بھی ہیں جن کے بارے میں یقینی طور پر علم ہونے کے بعد بھی کہ یہ اس دین اسلام کے خلاف ہیں ‘جودین دیکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث فرمایا‘ اور آپ پر اپنی کتاب قرآن مجید نازل کی۔ [ پھر بھی شیعہ ان پر عمل پیرا ہیں ۔] ہم نے ابھی تک ان امور کا ذکر کیا ہے جو عقل و شریعت کی روسے باطل ہیں ۔اگرچہ بعض متقدمین نے اس پر ان کی موافقت کی ہو ‘ مثال کے طور پر :

۱۲۔ روافض کے نزدیک متعہ حلال ہے۔

۱۳۔ طلاق معلق بالشرط قصد و ارادہ کے باوجود واقع نہیں ہوتی۔

۱۳۔ جو طلاق کنایہ سے دی جائے وہ واقع نہیں ہوتی اور اس میں گواہ بنانا شرط ہے۔

تیسراجواب:.... [جو مسائل اہل سنت پر تھوپے جارہے ہیں ] ان کے کہنے والے فقہاء کے ہاں ان کا کوئی نہ کوئی ماخذ ضرور ہے؛ اگرچہ جمہور کے ہاں وہ خطا پر ہی کیوں نہ ہو۔اہل سنت خود ان لوگوں کی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں ۔اس وجہ سے حق و صواب ان سے باہر نہیں جاسکتا۔حق و صداقت کابیان ان ہی کے ساتھ لازم رہتا ہے ۔

[شیعی اعتراضات کے جوابات] :

زنا سے پیدا شدہ بیٹی کو جمہور اہل سنت جیسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ امام احمد اور امام مالک رحمہم اللہ ۔ایک روایت میں ۔

بالاتفاق حرام قرار دیتے ہیں ؛امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول بھی یہی ہے۔امام احمد رحمہ اللہ کا خیال نہیں تھا کہ اس مسئلہ میں کوئی نزاع ہوگا؛ اس وجہ سے انہوں نے اس کے مرتکب کے واجب القتل ہونے کا فتوی دیاتھا ۔ جن لوگوں نے اس کے جواز کا کہا تھا جیسے : امام شافعی اور ابن ماجشون ؛ [انہوں نے اسے احکام وراثت پر قیاس کیا تھا؛اس لیے کہ] ان کا خیال ہے کہ جب [زنا کی اولاد کو ] وراثت نہیں مل سکتی ؛ تو اس کے باقی سارے احکام کی بھی نفی ہوگی۔ اسی طرح حرمت کا مسئلہ بھی ان ہی احکام میں سے تھا۔ جن لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے ‘ وہ کہتے ہیں : نسب کے احکام وراثت کے احکام سے مختلف ہوتے ہیں ۔بعض انساب کے لیے ایسے احکام ثابت ہوتے ہیں جو دوسرے بعض انساب کے لیے نہیں ہوتے۔جب کہ تحریم کا لفظ ان تمام احکام کو بھی شامل ہے اگرچہ وہ مجازاً ہی اس کے دائرہ میں آتے ہوں ۔ یہاں تک کہ [اس ] بیٹی کی بیٹی بھی حرام ہوجاتی ہے۔بلکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں ۔تو پھر جو لڑکی اسی کے پانی سے پیدا ہوئی ہو وہ حکم ِ حرمت کی زیادہ حق دار ہے۔ بخلاف وراثت کے۔وراثت ان لوگوں کے لیے ہی ثابت ہوسکتی ہے جنہیں میت کی طرف منسوب کیا جاتا ہو۔ پس وراثت بیٹوں کی اولاد کے لیے توثابت ہوتی ہے مگر بیٹیوں کی اولاد کے لیے نہیں ۔