اہل سنت کے نزدیک جو انسان اپنے ذکر پر کپڑا لپیٹ کر اپنی ماں یا بیٹی سے زنا کرلے اور جو کوئی لواطت کرے (تواس پر کوئی حد نہیں) حالانکہ لواطت زنا سے زیادہ بری اور قبیح چیز ہے۔ معاذاللہ
امام ابن تیمیہ(اہل سنت پر اعتراضات):
اہل سنت کے نزدیک جو انسان اپنے ذکر پر کپڑا لپیٹ کر اپنی ماں یا بیٹی سے زنا کرلے اور جو کوئی لواطت کرے (تو اس پر کوئی حد نہیں) حالانکہ لواطت زنا سے زیادہ بری اور قبیح چیز ہے۔ معاذاللہ
(انتہیٰ کلام الرافضی)۔
جواب:
اکثر ائمہ لواطت کنندہ کے مطلق قتل کے قائل ہیں۔ اگرچہ وہ شادی شدہ نہ بھی ہو۔ بعض کے نزدیک اس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ اہل مدینہ جیسے: امام مالکؒ وغیرہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ امام احمدؒ و شافعیؒ سے بھی ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے۔اس کے مطابق اگر لواطت کرنے والا بالغ ہو تو اسے قتل کیاجائے۔ امام شافعیؒ کا دوسرا قول یہ ہے کہ لواطت کی حد وہی ہے جو زنا کی ہے، یہ امام ابو یوسفؒ و محمدؒ کا قول ہے اور امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کا بھی ایک قول یہی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لواطت کرنے والا زانی کی طرح ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے مفعول بہ کو مطلق طور پر قتل کیا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فاعل کے اعتبار سے اس میں فرق کیا جائے گا۔ حد شرعی کے اسقاط میں امام ابو حنیفہؒ منفرد ہیں (اور اس مسئلہ میں دوسرا کوئی امام آپ کا ہم خیال نہیں)۔
