Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حمزہ کی شہادت پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روئے اور فرمایا۔ ہائے آج حمزہ کا ماتم کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

♦️*شیعہ دلیل*♦️

*حضرت حمزہؓ کی شہادت پر حضرت رسول اکرم ﷺ روئے اور فرمایا۔ ہائے آج حمزہ کا ماتم کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس پر صحابہؓ نے اپنی عورتوں سے کہا کہ تم حضرت حمزہؓ کا ماتم کرو اور عورتوں نے گریہ کیا اور صف ماتم بچھائی۔ آنحضرت ﷺ نے عورتوں کا گریہ سن کر خود گریہ کیا اور عورتوں کو ماتم کرنے کی وجہ سے دعائے خیر دی۔ (کتاب مغازی فتوح الشام صفحہ 108، سیرة ابن ہشام ،سیرة النبی شبلی نعمانی جلد اول)*

✳️*الجواب اہلسنّت* ✳️

1- اس عبارت میں بھی منہ پیٹنا اور سینہ کوبی کرنا ثابت نہیں جس سے مروجہ ماتم ثابت ہوتا ہے۔

2-سیرة النبی شبلی نعمانی حصہ اول 387میں تو یہ الفاظ ہیں۔

''آنحضرت ﷺ نے دیکھا تو دروازہ پر پردہ نشینان انصار کی بھیڑ تھی اور حضرت حمزہؓ کا ماتم بلند تھا۔ ان کے حق میں دعائے خیر کی اور فرمایا تمہارے ہمدردی کا شکرگزار ہوں لیکن مُردوں پر نوحہ کرنا جائز نہیں''

اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حمزہؓ کے ماتم میں عورتوں نے رواج کے تحت نوحہ (بین کرکے رونا)شروع کر دیا تھا جس سے رحمة للعالمین ﷺ نے ان کو منع فرمادیا۔

4- کیا پھر ہر سال حضرت حمزہؓ کی شہادت کے دن ماتم و گریہ کی مجلس بھی قائم کی گئی تھی؟ 

*5-* کیا آج کل کے ماتمیوں نے بھی کبھی حضرت حمزہؓ کی مجالسِ ماتم بپا کی ہیں۔اگر نہیں تو کیوں؟*