سوال نمبر 1:
رسول اللہﷺ کی تجہیز و تکفین و تدفین کو چھوڑ دیا گیا۔
سوال نمبر 2:
خلافت کو قائم کرنے کا غیر اسلامی، غیر شرعی اور فسادی طریقہ ایجاد سقیفہ میں کیا گیا۔
سوال نمبر 3:
رسول اللہﷺ کا وصیت کیا ہوا لکھوایا ہوا قرآن و دین و شریعت مسترد کر دیا گیا جو کتابِ علی کی شکل میں تھا۔
سوال نمبر 4:
مال خمس کا انکار کر دیا گیا اور فدک چھین لیا گیا۔
سوال نمبر 5:
بالجبر بیعت کا سلسلہ شروع کیا گیا، جو اسلام میں نہیں ہے۔
سوال نمبر 6:
زکوٰۃ نہ دینے والوں کی لشکر کشی کی گئی، جب کہ انہیں قتل کرنے کا حکم اسلام میں نہیں زیادہ سے زیادہ ان کی جائداد ضبط کر کے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم ہے۔
سوال نمبر 7:
خالد بن ولید کو صحابی رسول اللہﷺ کی بیوہ سے زنا کرنے پہ خلیفہ اول نے سزا نا دی بلکہ اسی کا تقرر برقرار رکھا۔
سوال نمبر 8:
احادیث رسول اللہﷺ کو جمع کرنے پہ پابندی لگا دی اور گھر گھر تلاشی لی گئی جس صحابی کے گھر سے لکھی ہوئی احادیث ملتیں اسے کوڑے مارے جاتے اصحاب نے اس خوف سے احادیث جلا دیں، شہروں، دریاوں میں بہا دیں زمیں میں دفنا دیں۔
سوال نمبر 9:
نماز تبدیل کر دی گئی اور اس کا وقت بھی۔
سوال نمبر 10:
خلافت کو ایک فرد نے دوسرے کو دے دیا بغیر مشاورت امت کے۔
سوال نمبر 11:
رمضان میں نماز تہجد کو باجماعت تروایح کی شکل بنا دیا گیا۔
سوال نمبر 12:
وضو تبدیل کردیا گیا۔
سوال نمبر 13:
حج تمتع ختم کر دیا گیا۔
سوال نمبر 14:
متعہ النساء کو حرام کر دیا گیا۔
سوال نمبر 15:
فتوحات کے لیے غیر اسلامی طریقہ ایجاد کیا گیا اسلام کی تبلیغ سے ہٹ کر دیگر اقوام پر لشکر کشی کی گئی۔
سوال نمبر 16:
غیر عادل حاکم علاقوں پر مسلط کیے گئے۔
سوال نمبر 17:
خلافت کے انتخاب کے لیے 6 رکنی کمیٹی بنا کر جو مخالف ہو اسے قتل کر دینے کی بدعت ایجاد کی گئی۔
سوال نمبر 18:
جو مغضوب تھے ان کو مدینہ واپس بلایا گیا رسول اللہﷺ کی نا فرمانی کر کے۔
سوال نمبر 19:
اقرباء پروری ایجاد کی گئی۔
سوال نمبر 20:
ابوذر صحابی رسول اللہﷺ کو شہر بدر کیا گیا۔