قتل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اجماع کا رافضی دعوی اور اس…

قتل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اجماع کا رافضی دعوی اور اس پر رد

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 6

[قتل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اجماع کا رافضی دعوی اور اس پر رد] 

[ شیعہ اعتراض] :

شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ قتل عثمان رضی اللہ عنہ پر سب مسلمانوں کا اجماع قائم ہو گیا تھا۔‘‘


[جواب] :

اس کے جواب میں کئی نکات ہیں :

پہلی وجہ :....یہ بڑا گھناؤنا جھوٹ ہے۔ اس لیے کہ جمہور نے نہ ہی قتل کا حکم دیا؛ نہ ہی اس قتل میں شریک ہوئے او نہ ہی وہ اس پر راضی تھے۔ علاوہ ازیں اکثر مسلمان مدینہ میں اقامت گزیں نہ تھے۔ بلکہ مختلف دیار و امصار مکہ ؛ شام ؛ یمن ؛ کوفہ ؛ بصرہ ؛ مصر اور بلاد مغرب سے لے کر خراسان تک آباد تھے۔اہل مدینہ ان مسلمانوں کا ایک حصہ تھے۔

دوسری وجہ:....یہ کہ چند شریراور فتنہ پروراور اوباش؛ زمین میں فساد پھیلانے والے آدمی اس فعلِ شنیع کے مرتکب ہوئے تھے، صلحائے امت نہ اس میں شریک تھے؛ اورنہ ہی ان میں سے کسی ایک نے آپ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ حلف اٹھایا کر فرمایا کرتے تھے:

’’ اللہ کی قسم ! میں نے نہ ہی عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور نہ ہی ان کے قتل کی کوئی سازش کی ۔‘‘ آپ قاتلین عثمان پر بددعا کیا کرتے اور فرمایا کرتے تھے:

’’ اے اﷲ! تو قاتلین عثمان پر بحر و برّ اور کوہ و میدان میں لعنت بھیج۔‘‘

[حضرت علی رضی اللہ عنہ نے متعدد مواقع پر قاتلین عثمان سے براء ت کا اعلان کیا اور ان پر لعنت بھیجی، حافظ ابن عساکر(۷؍۸۵) کی روایت کے مطابق آپ نے آخری اعلان واقعہ جمل کے موقع پر کیا۔ مورخ مذکور لکھتے ہیں : جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جنگ جمل کے لیے تشریف لے گئیں تو کعب بن سُور ازدی اونٹ کی مہار پکڑے آگے آگے چل رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کعب کو مخاطب کرکے کہا: ’’ مہار کو چھوڑیے اور آگے بڑھ کر لوگوں کو قرآن کی طرف بلایے۔‘‘ یہ کہہ کر آپ نے کعب کو قرآن کریم کا ایک نسخہ دیا۔دوسری جانب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں سبائی پیش پیش تھے۔ انھیں خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں فریقین میں صلح نہ ہو جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی فوج کو پیچھے دھکیل رہے تھے مگر وہ بزور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ سبائیوں نے آگے بڑھ کر کعب پر بیک وقت اتنے تیر چلائے کہ وہ موقع پر ہی جان بحق ہو گئے۔ سبائی پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے تو آپ نے پہلی مرتبہ ان الفاظ میں ان کو خطاب فرمایا:ارے لوگو! قاتلین عثمان اور ان کے انصارو اعوان پر لعنت بھیجئے۔‘‘حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔ بصرہ والے چیخ چیخ کر دعا کرنے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ آہ و بکا کیسی ہے ؟ جواب ملا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں بد دعا کر رہی ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی دعا کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا:

’’ اے اللہ! قاتلین عثمان اور ان کے ہم نواؤں پر لعنت بھیج۔‘‘ ]

اس باب میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ: جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کا حق تھا ‘ ایسے ان کی مدد نہیں کی گئی۔ چونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ معاملہ آپ کے قتل تک نہیں پہنچے گا۔

[جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو آپ کی حفاظت کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہر قیمت پر ان کی حفاظت کرنا خواہ تمہاری جان کیوں نہ چلی جائے۔ مگر حضرت عثمان برابر ان کو مدافعت سے منع کرتے رہے۔ حضرت حسن آخری شخص تھے جو سانحہ شہادت کے دن آپ کے گھر سے نکلے۔ حضرت حسن و حسین کے علاوہ عبد اﷲ بن عمر، عبد اﷲ بن زبیر اور مروان بن حکم بھی آپ کی حفاظت کے سلسلہ میں حاضر ہوئے تھے۔ مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتاکید ان سے کہا کہ ہتھیار رکھ کر اپنے گھروں کو چلے جائیں ۔

(دیکھئے:

العواصم من القواصم:۱۳۴)

حافظ ابن عساکرنے کہا کہ جب حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تو بنو عمرو بن عوف نے حضرت زبیر کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: ’’ ابوعبد اﷲ! ہم آپ کی خدمت میں حضرت عثمان کی مدافعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘ابوحبیبہ کہتے ہیں : حضرت زبیر نے یہ پیغام دے کر مجھے حضرت عثمان کے پاس بھیجا۔‘‘ بعد از سلام ان سے عرض کیجیے کہ تمہارا بھائی زبیر عرض کرتا ہے کہ بنو عمرو بن عوف نے آپ کی مدافعت کے لیے اپنی خدمات کی پیش کش کی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں بھی آپ کے یہاں چلا آؤں تاکہ جو تکلیف آپ کو پہنچے وہ مجھے بھی پہنچے۔ یا بنو عمرو بن عوف کے ذریعہ آپ کی مدافعت کروں جیسے آپ کا ارشاد ہو۔‘‘ ابوحبیبہ کا بیان ہے کہ میں حضرت عثمان کی خدمت میں حاضرہوا ۔ آپ کے یہاں حضرت حسن بن علی، عبد اﷲ بن عمر، ابوہریرہ،....اور عبداﷲ بن زبیر بھی موجود تھے، میں نے حضرت زبیر کا پیغام پہنچایا تو فرمانے لگے: اﷲاکبر! اﷲ کا شکر ہے جس نے میرے بھائی زبیر کو محفوظ رکھا۔ میری جانب سے انھیں کہئے: اگر آپ میرے گھر میں تشریف لائیں گے تو آپ کی وہی حیثیت ہو گی جو ایک مہاجر کی ہوتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مدافعت کے لیے بنو عمرو بن عوف کا انتظار کریں ۔‘‘ ابو حبیبہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور لوگوں کو مخاطب کرکے کہا: میرے ان دو کانوں نے آں حضرت کو یہ فرماتے سنا تھا کہ میرے بعد فِتَن و حوادث ظہور پذیر ہوں گے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! ان سے نجات کی کیا صورت ہو گی؟ آپ نے حضرت عثمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’امیر(عثمان) اور اسکی جماعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیے۔‘‘

(مسند احمد (۲؍۳۴۵) و فضائل الصحابۃ، (۷۲۳) مستدرک حاکم (۳؍۹۹، ۴؍۴۳۳) و صححہ و وافقہ الذہبی)

لوگوں نے عرض کیا ہمیں لڑنے کی اجازت دیجیے، حضرت عثمان نے فرمایا: میں اپنے اطاعت شعاروں کو بتاکید لڑائی سے روکتا ہوں ۔ابوحبیبہ کا بیان ہے کہ بنو عمرو بن عوف کے آنے سے پہلے ہی فتنہ پردازوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا۔

(سیرۃ ابن ہشام(ص:۲۲۷۔۲۲۹)، صحیح بخاری کتاب الصلاۃ۔ باب ھل تنبش قبور مشرکی الجاھلیۃ( ح:۴۲۸)، صحیح مسلم۔ کتاب الصلاۃ۔ باب ابتناء مسجد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (حدیث:۵۲۴) ۔]

صفحہ 1 از 6