ابو ذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف کی حقیقت اور اس…

ابو ذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف کی حقیقت اور اس بارے عثمان رضی اللہ عنہ کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ب: ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ: ’’میں شام میں تھا۔‘‘ انہوں نے شام میں رہائش اختیار کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’جب مدینہ کی تعمیرات ’’سلع‘‘ تک پہنچ جائیں تو پھر شام کوچ کر جانا۔‘‘ جب میں نے یہ کچھ دیکھ لیا تو میں شام چلا آیا اور یہاں رہائش اختیار کر لی۔

[المدینۃ المنورۃ، فجر الاسلام: ۲؍۲۱۹.]

ج: مال و زر کے بارے میں ابوذر کا موقف اس آیت کریمہ کے فہم میں ان کے اجتہاد پر مبنی تھا:

{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّہْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَ الْفِضَّۃَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍo یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَ جُنُوْبُہُمْ وَ ظُہُوْرُہُمْ ہٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَo}

(التوبۃ: ۳۴-۳۵)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک بہت سے عالم اور درویش یقینا لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے۔جس دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے خزانہ بنایا تھا، سو چکھو جو تم خزانہ بنایا کرتے تھے۔‘‘

احنف بن قیس سے ان کا یہ بیان مروی ہے کہ میں مسجد نبوی میں کچھ قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران بوسیدہ سے کپڑوں میں ملبوس پراگندہ بالوں اور عام سی ہیئت والا ایک آدمی آیا اور ان کے پاس کھڑا ہو کر انہیں سلام کیا، پھر فرمانے لگا: خزانہ جمع کرنے والوں کو گرم پتھر کی بشارت دے دو، وہ پتھر ان پر جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا، اسے ان کی چھاتی کی نوک پر رکھ دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ان کے کندھے کی نرم ہڈی کے پار ہو جائے گا، اسے کندھے کی نرم ہڈی پر رکھا جائے گا یہاں تک چھاتی کی نوک سے پار ہو جائے گا، اسی طرح وہ پتھر ڈھلکتا رہے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پیٹھ پھیری اور ایک ستون کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے چلا اور اس کے پاس جا بیٹھا، میں نہیں جانتا تھا کہ یہ شخص کون ہے۔ میں نے اس سے کہا: میرے خیال میں تمہاری اس بات کی وجہ سے یہ لوگ ناراض ہو گئے ہیں، اس نے کہا: یہ لوگ تو بے وقوف ہیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے استدلال کیا:

’’میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، اگر ہو تو میں وہ سارے کا سارا خرچ کر دوں بجز تین اشرفیوں کے۔‘‘

[بخاری: کتاب الزکوۃ، رقم الحدیث: ۱۴۰۷.]

د: جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ابوذر رضی اللہ عنہ کے موقف کے خلاف اس وعید کو مانعین زکوٰۃ پر محمول کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ وسق سے کم غلہ میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘

[بخاری، رقم الحدیث: ۱۴۰۵.]

اس حدیث کی شرح میں ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب یہ چیزیں پانچ سے بڑھ جائیں تو ان میں زکوٰۃ واجب ہے۔ اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے اس کا مالک اس وعید کی زد میں نہیں آتا اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے مال کو کنز سے موسوم نہیں کیا جائے گا۔

[فتح الباری: ۳/۲۷۲.]

میں نے اپنی کتاب ’’عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ‘‘ میں دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو جلاوطن نہیں کیا تھا، انہوں نے ان سے ربذہ منتقل ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اس کی اجازت دے دی۔

مگر اعدائے عثمان رضی اللہ عنہ نے گروہی تعصب سے کام لیتے ہوئے ان پر یہ الزام لگا دیا کہ انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے نکال دیا تھا۔ جب غالب القطان نے حسن بصری سے یہ سوال کیا: کیا عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے نکال دیا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: معاذ اللہ، ہرگز نہیں۔

[تاریخ المدینۃ، ابن شبہ، ص: ۱۰۳۷۔

اس کی سند صحیح ہے.]

جن روایات میں یہ بتایا گیا ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ سے نکال دیا تھا تو وہ تمام کی تمام ضعیف الاسناد ہیں اور ان میں کوئی نہ کوئی علت ضرورت پائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا متن بھی قابل انکار ہے اس لیے کہ وہ ان صحیح اور حسن روایات کے مخالف ہے جو یہ بتاتی ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے ربذہ منتقل ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اس کی اجازت دے دی۔

[فنتۃ مقتل عثمان رضی اللہ عنہ: ۱/۱۱۰.]

بلکہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے شام سے واپس آنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ مدینہ منورہ میں ان کی ہمسائیگی میں رہیں، پھر جب وہ شام سے واپس آئے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے تمہیں اچھے مقصد کے لیے یہاں آنے کو کہا تھا، آپ کو مدینہ میں ہماری ہمسائیگی میں رہنا چاہیے۔

[تاریخ المدینۃ، ص: ۱۰۳۷-۱۰۳۶۔

اس کی سند حسن ہے.]

عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بھی فرمایا: آپ میرے پاس رہیں تاکہ ہم صبح و شام ملاقات کرتے رہا کریں۔

[طبقات ابن سعد: ۴/۲۲۶-۲۲۷.]

کیا ان سے ایسی باتیں کرنے والا انہیں جلاوطن کر سکتا ہے؟

[فتنۃ مقتل عثمان: ۱/۱۱۱.]

انہیں ربذہ کے مقام پر جلاوطن کرنے کی ایک ہی روایت ہے جسے ابن سعد نے روایت کیا، مگر اس کے ایک راوی بریدہ بن سفیان اسلمی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ قوی نہیں ہے۔ اس میں رافضیت بھی تھی۔ کیا ایک رافضی کی ایسی روایت قبول کی جا سکتی ہے جو صحیح اور حسن روایات سے متعارض ہو؟

[فتنۃ مقتل عثمان: ۱/۱۱۱.]

صفحہ 2 از 3