اعتراض: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایاکہ ’’:جاؤ اور اس شخص کو قتل کردو‘‘… وہ کنویں میں نہارہا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو باہر نکالا دیکھا کہ اس کا عضو کٹا ہوا تھا۔‘‘
محمد حسین میمن’’خیر خواہی ‘‘‘کے نام پرانسٹھواں(59)اعتراض:
اعتراض: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایاکہ ’’:جاؤ اور اس شخص کو قتل کردو‘‘… وہ کنویں میں نہارہا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو باہر نکالا دیکھا کہ اس کا عضو کٹا ہوا تھا۔‘‘
ڈاکٹر رقمطراز ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایاکہ ’’:جاؤ اور اس شخص کو قتل کردو‘‘… وہ کنوی یں نہارہا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو باہر نکالادیکھا کہ اس کا عضو کٹا ہوا تھا۔‘‘
[صحیح مسلم:بحوالہ:سیدنا انس،باب برأت حرم النبی صلی اللہ علیہ وسلم.]
اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد مصنف لکھتا ہے:’’تحقیق کے بغیر سزا،ام ولد رضی اللہ عنہ پر اتنا بڑا الزام اور پھر مذاق!‘
‘(اسلام کے مجرم صفحہ۸۰)
ازالہ:۔
اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ اپنی صحیح میں ذکر فرماتے ہیں:
’’انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:ایک شخص سے لوگ تہمت لگاتے تھے(یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد لونڈی کو)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جاؤ اس شخص کی گردن ماردو۔(شاید وہ منافق ہویا کسی اور وجہ سے قتل کے لائق ہو)سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے،دیکھا کہ وہ ٹھنڈک کیلئے ایک کنوی یں غسل کررہا ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ باہر نکل، اس نے اپنا ہاتھ علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا،انہوں نے اسے کنویں سے باہر نکالا،دیکھا تو اس کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے،سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مارا،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ وہ تو مجذوب تھا۔(یعنی اس کا ذکر کٹا ہوا تھا)‘‘
قارئین ِکرام!اس حدیث کا تعلق سزا اور تحقیق کے ساتھ ہے۔اس حدیث سے جوباتیں معلوم ہوئیں ہیں اس کے نتائج قابل ِغور ہیں:
1. لوگوں نے ام ولد رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی۔
2. اس کا حل بھی اس طرح کرنا تھا کہ لوگوں کی غلط فہمی دور ہوجائے۔
3. قتل کا حکم اس لئے دیا کہ ام ولد رضی اللہ عنہ پر الزام بہت بڑا لگایا گیا اور اس کی روک تھا م کیجا ئے،تاکہ بعد میں آنے والا کوئی اور ایسی جرأت نہ کرے۔
4. اگر لوگوں کی غیر موجودگی میں قتل کیا جاتا تولوگوں کی غلط فہمی کا ازالہ کیسے ہوتا؟
5. قتل نہ کرنے میں حکمت یہ تھی،کہ بات واضح ہوجائے کہ یہ صرف بہتان ہی ہے اس لئے کہ وہ شخص نامرد تھا۔
قارئین ِکرام!مندرجہ بالا نکاط پر غورکریں،تاکہ اس حدیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔اس حدیث کو مکمل پڑھنے کے بعد لوگوں کا ذہن صاف ہوا اور یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ صرف الزام ہی تھا۔
باقی رہا مسئلہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم کیوں دیا ؟تو اس کا جواب کئی طریقوں سے دیا جاسکتا ہے،لیکن مختصراً عرض کرتا چلوں کہ وحی کی قسمیں قرآن کے علاوہ بھی ثابت ہیں۔ہو سکتا ہے کہ یہ بھی وحی کے ذریعے علم دیا گیا ہو۔
جس طرح کہ سورۃ الکہف آیت:74،میں ذکر ہے کہ:
’’چنانچہ وہ دونوں(موسیٰ و خضر)چل کھڑے ہوئے،حتیٰ کہ ایک بچے کو ملے جسے خضر علیہ السلام نے مار ڈالا۔‘‘
یعنی خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو اللہ کے حکم سے قتل کردیا اور کوئی ظاہری وجہ قتل سے پہلے نہیں بتائی۔
اور یا اس کی تطبیق ہو کہ قتل کا حکم دیا جائے،تاکہ اس جرم کی سزا،یعنی امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن پر الزام کی سزا قتل کرنا ثابت ہوجائے۔اور لوگوں کے سامنے یہ بات بھی واضح ہوجائے کہ وہ شخص نامرد ہے۔
اس کی ایک اور مثال کچھ ایسے ہے کہ اگر آپ قرآنِ کریم کی تلاوت کریں تو اللہ تعالیٰ سیدنا یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے کہ:
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ
( [سورہ یوسف آیت70.] )
’’پھر انہیں ان کا سامان واسباب ٹھیک ٹھا ک کرکے دیدیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی کا ایک پیالہ رکھدیا،پھر آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ تم لوگ چور ہو۔‘‘
قارئین ِکرام!غور فرمائیں اس آیت ِمبارکہ پر اور اس کی حکمت پر کہ یوسف علیہ السلام نے خودہی یہ پیالہ رکھدیا اور پھر اعلان بھی کروادیا کہ تم چور ہو،حالانکہ بتایئے کہ پیالہ رکھنے والے خود یوسف علیہ السلام ہیں اور جن کو چورباو رکروایاگیا وہ ان کے اپنے بھائی ہیں۔اب اگر کوئی اعتراض کرنے والا حدیث کی طرح اس پر بھی اعتراض کرے تو اس کیلئے اللہ کا یہی جواب کافی ہوگا کہ:
كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ( [سورہ یوسف آیت76.] )
’’اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کیلئے تدبیر کی۔‘‘
بالکل اسی طرح اللہ نے اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى
( [ سورہ النجم آیت3،4.] )
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے،بلکہ جو کہتے ہیں اللہ کی وحی سے کہتے ہیں۔‘‘
اس آیت کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کسی بھی قسم کا الزام براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات پر الزام ہے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہربات اور ہر عمل کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام اللہ پر الزام ہے۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قتل کی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھایا تو ہمیں اس پردے میں جھانک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر شک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اور نہ ہی یہ دنیا کا پہلا یا انوکھا واقعہ تھا کہ اس کو اپنی ناقص عقل کی آزمائش کیلئے مشق ِستم بنایاجائے۔
خضر وموسیٰ علیہما السلام کے واقعے میں بھی یہی ’’بے گناہ‘‘قتل موجود ہے،فرق صرف یہ ہے کہ وہا وسیٰ علیہ السلام کے سوال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا۔مگر اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کو اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی عمل کے بارے میں سوال کریں،اسلئے کہ وہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی کام اپنی مرضی اور منشاء سے نہیں ہوتا،بلکہ اللہ کے حکم ہی سے ہوتا ہے۔ہمیں اس معاملے میں صرف ایمان لانے کا حکم ہے اور ہم اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔
لہٰذا حدیث اعتراض سے پاک ہے۔اور جہاں تک مصنف کی بات ہے تو ان کا مسئلہ کچھ ایسا ہے کہ ان کو آج تک Spitting Snake(کوبرا کی ایک انتہائی خطرناک قسم)نہیں ملا تو انہیں حدیث کی حکمت کیسے مل سکتی ہے؟؟