Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

’’اعتراض: ترمذی میں حدیث بیان ہوئی ہے،بحوالہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)اور انس رضی اللہ عنہ کہ جنت میں مرد کو 100مردوں کے برابر قوت عطا کی جائے گی،تاکہ وہ زیادہ عورتوں سے جماع کرے۔‘‘

  محمد حسین میمن

’’خیر خواہی ‘‘‘کے نام پرچھپنواں56 )) اعتراض:

ڈاکٹر شبیررقمطراز ہیں:

’’اعتراض: ترمذی میں حدیث بیان ہوئی ہے،بحوالہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)اور انس رضی اللہ عنہ کہ جنت میں مرد کو 100مردوں کے برابر قوت عطا کی جائے گی،تاکہ وہ زیادہ عورتوں سے جماع کرے۔‘‘

(اسلام کے مجرم،صفحہ77)

ازالہ:۔


Jam e Tirmazi - 2536


کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ

باب: جنتیوں کے جماع کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يُعْطَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ قُوَّةَ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْجِمَاعِ ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةٍ ،‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ.

ترجمہ:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں مومن کو جماع کی اتنی اتنی طاقت دی جائے گی“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اسے سو آدمی کی طاقت دی جائے گی“۔ 
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- قتادہ کی یہ حدیث جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں اسے ہم صرف عمران القطان کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں زید بن ارقم رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔


قارئین ِکرام!میرے خیال میں ڈاکٹر شبیر نے اس حدیث کو بھی قرآن کے خلاف ہی سمجھا ہوگا۔100آدمیوں کی طاقت کوئی غیرفطری عمل نہیں،کیونکہ اس کا اشارہ قرآنِ کریم سے بھی ملتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ

’’تمہارے لئے جنت میں جوڑے ہونگے۔‘‘

قارئین ِکرام!عربی زبان میں ’’زوج‘‘کی جمع ’’أزواج‘‘ہے،یعنی ’’جوڑے‘‘(بیویاں)اور عربی میں جمع تین سے شروع ہوتی ہے،لیکن اس کی انتہاء کوئی نہیں ہوتی۔اگر مصنف کو اعتراض ہے کہ 100بیویاں یا ان کی طاقت کیسے ہو سکتی ہے ؟تو وہ اٹکل کی جگہ پر قرآن سے دلیل پیش کریں کہ یہ ناممکن ہے،وگرنہ حدیث تسلیم کریں۔