سانحہ کربلا کے وقت اسلام میں کوئی فرقہ بندی نا تھی قاتلانِ امام دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے تھے آج امام حسینؓ کا ذکر اور ان کی حمایت کرنا گویا امام مظلوم کا ساتھ دینا ہے۔ الخ
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند♦️*شیعہ دلیل*♦️
سانحہ کربلا کے وقت اسلام میں کوئی فرقہ بندی نا تھی قاتلانِ امام دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے تھے آج امام حسینؓ کا ذکر اور ان کی حمایت کرنا گویا امام مظلوم کا ساتھ دینا ہے۔ الخ
✳️*الجواب اہلسنّت*✳️
*1۔* ماتم کرنے کو امام حسینؓ کی حمایت سے کیا تعلق ہے؟ حسینیت تو یہ کہ امام حسینؓ نے جس شریعت اور سنت مقدسہ کے لیے اپنی جان قربان کی تھی اس کی اتباع کی جائے اور اعمال صالحہ کو رائج کیا جائے شرک و بدعت اور بت پرستی کے مظاہر کو مٹایا جائے۔
*امام عالی مقام کو دعوت دینے والے بھی کوفی ہیں اور یزیدیت کی حمایت میں شہید کرنے والے غدار بھی کوفی لوگ ہیں جو ماتم امام حسینؓ نے ساری عمر نہیں کیا اس کا ارتکاب حسینیت کی حمایت ہے یا مخالفت؟*
*2۔* اخبار ماتم ص 967 میں ہے کہ سب سے پہلے شہادت حسینؓ کا ماتم یزید کے گھر میں اس کی بیوی ہندہ نے بپا کیا تھا اب یہ نتیجہ نکالنا آسان ہے کہ حسینیت کیا ہے اور یزیدیت کیا؟