اعتراض: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ عورت پسلی کی مانند ٹیڑھی ہے اگر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اسے ٹیڑھی رہنے دو اور فائدہ اٹھاتے چلے جاؤ۔‘‘صاحبو! یہاں یوں لگتا ہے کہ یہود ونصاری نے بائبل کی روایت ہماری صحیح بخاری میں ڈال دی ہے قرآن نہیں کہتا کہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا۔
محمد حسین میمناعتراض: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ عورت پسلی کی مانند ٹیڑھی ہے اگر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اسے ٹیڑھی رہنے دو اور فائدہ اٹھاتے چلے جاؤ۔‘‘صاحبو! یہاں یوں لگتا ہے کہ یہود ونصاری نے بائبل کی روایت ہماری صحیح بخاری میں ڈال دی ہے قرآن نہیں کہتا کہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا۔(اسلام کے مجرم صفحہ33)
خیر خواہی کے نام پر انیسواں(19)اعتراض:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ عورت پسلی کی مانند ٹیڑھی ہے اگرا سے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اسے ٹیڑھی رہنے دو اور فائدہ اٹھاتے چلے جاؤ۔‘‘صاحبو! یہاں یوں لگتا ہے کہ یہود ونصاری نے بائبل کی روایت ہماری صحیح بخاری میں ڈال دی ہے قرآن نہیں کہتا کہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا۔(اسلام کے مجرم صفحہ33)
ازالہ:۔
صحیح بخاری میں یہ روایت ان الفاظ سے منقول ہے۔
’’ عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال المرأۃ کالضلع ان أقمتھا کسرتھا واء ن استمتعت بھا استمتعت بھا وفیھا عوج( [1] )
’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو توڑدوگے اس سے فائدہ اٹھاؤ اسے ٹیڑھی ہی رہنے دو۔‘‘
قارئین کرام !
(صحیح بخاری کتاب النکاح باب مدارۃ مع النساء رقم الحدیث 5184.)
ڈاکٹر شبیرکو اس حدیث پر اعتراض ہے کہ عورت کو پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے اور اسکو’’ٹیڑھی ‘‘کہا گیا ہے۔
اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی کہ عورت سے زیادہ سختی نہ کرو اس کو سیدھا کرنے کے چکر میں کہیں اس کو توڑ نہ بیٹھنا کہ جس طرح پسلی کو سیدھا کرنے سے وہ سیدھی تو نہیں ہوتی مگر ٹوٹ جاتی ہے تو اسی طرح عورت کو توڑ نہ بیٹھنا اور عورت کو توڑنا کیا ہے وہ طلاق ہے جیساکہ صحیح مسلم کی روایت ہے
’’ و ان ذھبت تقیمھا کسرتھا وکسرھا طلاقھا‘‘( [صحیح مسلم بحوالہ فتح الباری جلد 6صفحہ 445.] )
’’اگر تم عورت کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسکو توڑ بیٹھو گے اسکو توڑنا اسکو طلاق دے دینا ہے۔‘‘
اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے
’’ استو صوا با لنساء ‘‘( [صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب خلق آدم رقم الحدیث 3331.] )
’’عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔‘‘
یہ حدیث عورتوں کے حقوق کے لئے ہے نہ کہ ان کی تنقیص کے لئے جیساکہ ڈاکٹر شبیرنے مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔
(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب خلق آدم رقم الحدیث 3331.)
دوسرا اعتراض
’’ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے
( [(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب خلق آدم رقم الحدیث 3331.)] )
یہ بات قرآن مجید میں وجود نہیں۔‘‘تو اسکا جواب یہ ہے کہ قرآن میں یہ بھی نہیں کہ عورت کو پسلی سے پیدا نہیں کیا گیا۔بلکہ قرآن مجید میں اسکا اشارہ موجود ہے کہ عورت کو آدم علیہ السلام سے پیدا کیا گیا ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ( [سورۃ النساء۔آیت 1.] )
’’اے لوگوں اپنے پر وردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اسکی بیوی کو پیدا کیا۔‘‘
اب اگر حدیث نے اس کی تشریح پسلی سے کردی تو اس پر اعتراض کیوں؟
(سورۃ النساء۔آیت 1.)
ڈاکٹر شبیرکا تیسرا اعتراض کہ یہود ونصاری نے بائبل کی روایت کو صحیح بخاری میں ڈال دیا۔
قرآن مجید میں اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے۔
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ( [سورہ یوسف۔آیت 4.] )
’’جب یوسف علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج وچاند کو(خواب میں)دیکھاکہ وہ سب مجھے سجدہ کررہے ہیں۔‘‘
یوسف علیہ السلام کے اس خواب کی تعبیریہ ہے کہ ایک طویل حادثاتی عرصے کے بعد جب ان کے تمام بھائی اور والدین ان کے پاس مصر پہنچے تو ان کے لئے سجدہ ریز ہوگئے۔
( [سورہ یوسف۔آیت 100.] )
اس واقعہ سے قطع نظر اب اگر کوئی اعتراض کرے کہ سجدہ تو صرف اللہ کے لئے ہے یہاں تو ایک نبی دوسرے نبی کو سجدہ کررہے ہیں۔
اب اگر اعتراضاً عبارت یوں ہو۔
صاحبو یہاں یوں لگتا ہے کہ یہود ونصاری نے بائبل
( [کیا میں اور تیری ماں اور تیرے بھائی سچ مچ تیرے آگے زمین پر جھک کر سجدہ کریں(بائبل پیدائش 10:37).] )
کی روایت ہمارے قرآن میں ڈال دی ہے۔
ہم اس اعتراض کا کیا جواب دیں گے ؟ہم صرف تاویل کریں گے اور یقینا کریں گے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے لئے الگ معیار کیوں؟
اسم الكتاب:
اسلام کے مجرم کون؟