Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہجری تاریخ کا آغاز

  علی محمد الصلابی

تہذیب و تمدن کی ترقی کے مختلف میدانوں میں ہجری تاریخ کے آغاز کو ایک اہم مقام دیا جاتا رہا ہے۔ ہجری تاریخ کے موجد سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، ہجری تاریخ کی شروعات کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں:

میمون بن مہران کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کو ایک دستاویز پیش کی گئی جسے شعبان میں آپؓ کے پاس آنا چاہیے تھا حضرت عمرؓ نے کہا: کیا یہ وہ شعبان ہے جو گزر گیا، یا آئندہ شعبان ہے، یا جس شعبان کے مہینے سے ہم گزر رہے ہیں وہ مراد ہے؟ پھر آپؓ نے صحابہِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمع کیا اور ان سے کہا: لوگوں کے لیے کوئی تاریخ متعین کرو جو سب کو معلوم رہے، کسی نے مشورہ دیا کہ روم والوں کی تاریخ کا اعتبار کیا جائے، اس پر یہ کہا گیا کہ وہ بہت لمبا سال ہوتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ اپنی تاریخ ذوالقرنین کی پیدائش سے جوڑتے ہیں کسی نے مشورہ دیا کہ اہلِ فارس کی تاریخ کا اعتبار کر لیا جائے، اس پر یہ کہا گیا کہ وہاں کا ہر نیا بادشاہ اپنے پہلے حکمران کے تمام احکامات وغیرہ کو کالعدم قرار دے دیتا ہے پھر وہ اس بات پر متفق ہوئے کہ دیکھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے دنوں تک مدینہ میں رہے۔ چنانچہ انہوں نے حساب لگایا کہ اللہ کے رسول مدینہ میں دس سال رہے تو پھر آپ کی ہجرت کا اعتبار کرتے ہوئے اسی کو اسلامی تاریخ کا نقطہ آغاز بنا لیا گیا۔ 

(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 383، الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 280، 281 )

حضرت عثمان بن عبید اللہؓ (روضۃ الطالبین: جلد 11 صفحہ 137) سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیبؓ کو کہتے ہوئے سنا: سیدنا عمر بن خطابؓ نے مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور کہا: کب سے ہم اپنی اسلامی تاریخ مقرر کریں؟ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ جس دن آپﷺ نے دیار شرک کو چھوڑ کر ہجرت کی، سعید بن مسیبؓ کا بیان ہے کہ پھر اسی کو عمر بن خطابؓ نے مقرر کیا۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 12 صفحہ 228، 229 )

ابنِ مسیبؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے ڈھائی سال گزر جانے کے بعد سب سے پہلے اسلامی تاریخ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے حضرت علیؓ کے مشورہ سے محرم کی 16 تاریخ کو اسے مقرر کیا۔ 

(الأعلام، زرکلی: جلد 8 صفحہ 249)

ابوالزناد (السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 21 ) کا بیان ہے: حضرت عمرؓ نے اسلامی تاریخ کے بارے میں مشورہ لیا، تو ہجرتِ نبویﷺ کے واقعہ سے اسلامی تاریخ کے آغاز پر سب کا اتفاق ہو گیا۔ (السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 219 )

حافظ ابن حجرؒ نے ربیع الاوّل کہ جس میں نبی کریمﷺ کی ہجرت مکمل ہوئی تھی، کے بجائے محرم سے اسلامی سال کے آغاز کی وجہ یہ بتائی ہے کہ جن صحابہ کرامؓ نے حضرت عمرؓ کو ہجرتِ نبویﷺ سے اسلامی سال کے آغاز کا مشورہ دیا تھا انہوں نے سوچا کہ جو چیزیں سال کے آغاز کا سبب بن سکتی ہیں وہ چار ہیں: آپﷺ کی پیدائش، نبوت، ہجرت اور وفات، پھر انہوں نے محسوس کیا کہ آپﷺ کی پیدائش اور نبوت سے سرفرازی کا سال۔

بہرحال محل نزاع ہے اور تاریخ وفات کو اس لیے نہیں منتخب کیا کہ وہ مسلمانوں کے رنج و الم اور افسوس کو زندہ کرنے کا سبب تھی، لہٰذا صرف واقعہ ہجرت ہی اس کے لیے مناسب تھا، البتہ مہینہ کو ربیع الاوّل سے محرم تک اس لیے مؤخر کیا گیا کہ آپﷺ نے ہجرت کا عزم محرم ہی کے مہینہ میں کر لیا تھا، اس وقت جب کہ ذی الحجہ میں بیعت عقبہ ثانیہ ہوئی تھی اور وہی ہجرت کا پیش خیمہ تھی۔ اس طرح بیعت عقبہ ثانیہ اور ہجرت کا پختہ ارادہ کر لینے کے بعد جس مہینہ میں چاند طلوع ہوا وہ محرم کا مہینہ تھا، لہٰذا آپؓ نے مناسب سمجھا کہ اسے ہی نقطہ آغاز بنایا جائے۔ پھر آپؓ نے فرمایا: ماہِ محرم سے اسلامی سال کے آغاز کے بارے میں یہی سب سے مناسب توجیہ ہے جسے میں نے سمجھا۔ 

(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 316 ابن الجوزی: صفحہ: 69)

حکومتی سطح پر اس منفرد کارنامے کے ذریعہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جزیرۂ عرب میں مکمل اتحاد کا چراغ روشن کر دیا، چنانچہ دینِ واحد کے وجود سے عقیدہ کا اتحاد، تفریق کی تمام بنیادوں کو مٹا دینے سے امت کا اتحاد اور ایک اسلامی تاریخ متعین ہو جانے سے متعدد رجحانات کا اتحاد سامنے آیا اور تائید و نصرتِ الہٰی پر پورے اعتماد کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لائق ہو گئے۔ (آپ عبید اللہ بن ابی رافع نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے، عبید اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں)