داخلی امور کا انتظام وانصرام
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کے لیے جو سیاسی خاکہ تیار کیا تھا اس کو نافذ کرنا چاہا اور اس کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنا مساعد بنایا۔ چنانچہ امین امت حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کو وزیر مالیات مقرر کیا اور بیت المال کے امور ان کے حوالہ کیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے محکمہ قضا (وزارت عدل) سنبھالا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خود بھی قضاء کا منصب اپنے پاس رکھا اور سیدنا زید بن ثابتؓ نے محکمہ کتابت (وزارت مواصلات و ڈاک) سنبھالا.
(فی التاریخ الاسلامی، د: شوقی ابو خلیل: صفحہ، 218)
اور بسا اوقات آپؓ کے پاس موجود دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے سیدنا علی بن ابی طالب یا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم اس ذمہ داری کو نبھاتے۔
مسلمانوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول اللہ کا لقب دیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ سیدنا ابوبکرؓ کو خلافت کے لیے فارغ کر دیا جائے کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تاجر تھے، روزانہ بازار جاتے، بیع و شراء کرتے تھے، جب خلافت ملی تب بھی یہ مشغلہ جاری رکھا، کندھے پر کپڑوں کا گٹھر رکھ کر بازار کی طرف جا رہے تھے، راستے میں سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہما ملے، اس حالت میں دیکھ کر پوچھا:
اے خلیفہ رسول اللہ کہاں کا ارادہ ہے؟
فرمایا: بازار۔
دونوں نے کہا: جب آپؓ بازار جائیں گے تو مسلمانوں کے آپؓ جو حاکم بنانے گئے ہیں وہ ذمہ داری کیسے ادا ہو گی؟
آپؓ نے فرمایا: اگر میں بازار نہ جاؤں تو پھر اپنے بچوں کو کھلاؤں کہاں سے؟
دونوں نے کہا: آپؓ ہمارے ساتھ چلیں، ہم آپؓ کے لیے کچھ روزینہ مقرر کر دیتے ہیں۔
آپؓ ان دونوں کے ساتھ گئے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپؓ کے لیے یومیہ بکری کا ایک حصہ مقرر فرما دیا۔
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ، 291)
الریاض النضرۃ میں ہے کہ آپؓ کے لیے روزینہ جو مقرر کیا گیا تھا وہ ڈھائی سو دینار سالانہ اور ایک بکری، پیٹ، سر اور پائے کے علاؤہ تھا لیکن یہ آپؓ کے اہلِ وعیال کے لیے کافی نہ تھا اور آپؓ نے اپنے تمام درہم و دینار کو بیت المال کے حوالہ کر دیا تھا پھر آپؓ نے بقیع کی طرف رخ کیا اور خرید و فروخت شروع کی، اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے، دیکھا کچھ خواتین بیٹھی ہوئی ہیں، پوچھا:
کیا معاملہ ہے؟
انہوں نے کہا: ہم خلیفہ رسول سے ملنا چاہتے ہیں تا کہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیں۔
آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے ان کو بازار میں پایا، اپنے ہاتھ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پکڑا اور فرمایا: آپؓ یہاں تشریف لایئے! حضرت ابوبکرؓ نے کہا: مجھے تمہاری امارت کی ضرورت نہیں۔
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ، 291)
جو روزینہ آپؓ لوگوں نے میرے لیے مقرر کیا ہے وہ میرے لیے اور میرے اہل و عیال کے لیے کافی نہیں۔
فرمایا: ہم اضافہ کریں گے۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تین سو دینار اور ایک بکری مکمل چاہیے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو نہیں ہو سکتا۔
اتنے میں سیدنا علیؓ تشریف لائے اور فرمایا: مکمل کر دیجیے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپؓ کی یہ رائے ہے؟
فرمایا: ہاں۔
سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ہم نے ایسا ہی کر دیا۔
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ، 291)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور منبر پر تشریف لائے اور لوگ جمع ہو گئے اور آپؓ نے لوگوں سے خطاب فرمایا:
لوگو! میرا روزینہ ڈھائی سو دینار اور ایک بکری پیٹ، سر اور پائے کے علاؤہ تھا لیکن حضرت عمر و حضرت علی رضی اللہ عنہما نے تین سو دینار اور مکمل بکری مقرر کر دی ہے، کیا آپؓ لوگ اس سے راضی ہیں؟
مہاجرین نے کہا: ہاں، ہم راضی ہیں۔
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ، 291)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ولایت اور امانت حکومت کو اس طرح سمجھا تھا کہ اپنے خلیفہ کے لیے روزینہ مقرر کر کے اس کو تجارت سے بے نیاز کر دیا، کیونکہ اب وہ امت کی خدمت میں لگ گیا، وقت، محنت اور فکر کو پوری طرح اس میں لگائے اور یہاں سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلام میں ایک نرالا اصول مقرر کیا جو امت کے مال عام کو حاکم کے دسترس اور قبضے سے الگ کرتا ہے۔
یہ مفہوم اہلِ یورپ نے ابھی قریبی زمانے میں سمجھا ہے۔ ان کے یہاں قیصریت کا پرچم پورے آب و تاب کے ساتھ لہراتا رہا اور طویل زمانہ تک لوگوں سے اس کی خاطر برسر پیکار رہا، حکومت کے مال عام کے حاکم کے قبضے و دسترس میں ہونے سے متعلق بہتر تعبیر جس کا ہمیں پتا چلا ہے وہ پندرھویں لویس کا یہ مقولہ ہے: میں حکومت ہوں اور حکومت میں ہوں۔ لویس معروف تاجر تھا وہ اپنی قوم کے لیے خوراک کی تجارت کرتا اور قوم بھوک سے پیچ و تاب کھاتی، پھر بھی کوئی اس کو عار نہیں سمجھتا، کیا اس کی حیثیت جڑ اور قوم کی حیثیت شاخ کی نہیں ہے؟
(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ، 35)
ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ میں انسانیت آج کہاں ہے؟ حکومت کے خزانے ایسے افراد کے ہاتھ میں ہیں جو جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں اور جیسا چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں۔ ان کے خفیہ خرچ کا کوئی شمار نہیں اور مزید برآں مغربی ممالک کے بینک ان کے اموال سے بھرے ہوئے ہیں اور مغربی ممالک ان کے مال پر جی رہے ہیں۔ اور یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ یہ اموال اور جائدادیں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائیں کافی نہیں اور ان سے مالکان کو کوئی فائدہ نہیں۔ شاہ ایران اپنی بے حساب ثروت و دولت کے باوجود دنیا میں جائے پناہ نہ پا سکا اور آخرت کا معاملہ تو اور ہی سنگین ہے۔
(التاریخ الاسلامی: محمود شاکر صفحہ، 11)
مسلم حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اس صحابیؓ جلیل کی اقتداء کریں جس نے وفات نبویﷺ کے بعد اسلامی سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی، آپؓ نے کتنی اچھی بات کہی ہے: میری قوم کے لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا پیشہ میرے اہل و عیال کے اخراجات کے لیے کافی تھا لیکن اب میں مسلمانوں کے معاملات میں مشغول ہو گیا ہوں لہٰذا میرے اہل و عیال حکومت کا مال کھائیں گے اور میں مسلمانوں کے لیے کام کروں گا۔
(البخاری: البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ ، رقم: 2070)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انتہائی نرالے معانی و مفاہیم کی تاکید فرمائی ہے۔ اسلام میں ولایت و حکومت مال غنیمت نہیں کہ حاکم مزے اڑائے، اور اس کے لیے جو روزینہ مقرر کیا جاتا ہے وہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے کام میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنا ذاتی کاروبار نہیں کر سکتا۔
(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ، 35)
سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تاریخ کے صفحات میں سنہری نقوش چھوڑے ہیں، آج بشریت ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے کوشاں ہے، لیکن ان کے قدموں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔
(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ، 36)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلامی سلطنت کی بنیاد و تعمیر میں پوری محنت و تندہی کے ساتھ لگ گئے اور داخلی تعمیر کا اہتمام فرمایا اور کوئی شوشہ ایسا نہیں چھوڑا جو اسلام کی عظیم عمارت پر اثر انداز ہو۔ آپؓ نے رعایا کا انتہائی اہتمام کیا، اس سلسلہ میں آپؓ نے انتہائی تابناک مؤقف اختیار کیا۔ مسئلہ قضاء کو غیر معمولی اہمیت دی، امراء و والیان کے امور کا جائزہ لیتے رہے اور ہر قدم پر منہج نبوی کی اتباع کی۔ اس سلسلہ میں قدرے تفصیل پیش خدمت ہے،