Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عائلی زندگی

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمرؓ نے فرمایا: حاکم جب تک اللہ کے حقوق ادا کرتا ہے رعایا اس کے حقوق ادا کرتی ہے اور جب حاکم اللہ کے حقوق پامال کرنا شروع کردیتا ہے تو رعایا اس کے حقوق پامال کرنے لگتی ہے۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد قلعجی: صفحہ 164)

 یہی وجہ تھی کہ آپؓ اپنا اور اپنے گھر والوں کا سختی سے محاسبہ کرتے تھے۔ آپؓ جانتے تھے کہ نگاہیں آپؓ کی طرف دیکھ رہی ہیں اور اس میں کوئی فائدہ نہیں کہ خود اپنی ذات پر سختی کریں اور گھر والے عیش و عشرت کی زندگی گزاریں اور پھر بروز قیامت ان کے بارے میں باز پرس ہو، ساتھ ہی دنیا میں زبان خلق انہیں معاف نہیں کر سکتی، چنانچہ آپؓ جب کوئی امتناعی حکم جاری کرتے تو سب سے پہلے اپنے گھر والوں کے پاس آتے اور فرماتے: میں نے لوگوں کو فلاں فلاں کام سے روک دیا ہے، لوگ تم پر اسی طرح نگاہ رکھتے ہیں جس طرح گوشت خور پرندہ گوشت پر۔ پس اگر تم نے حکم کی خلاف ورزی کی تو وہ بھی کریں گے اور اگر تم دور رہے تو وہ بھی دور رہیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر میرے پاس کوئی فرد لایا گیا جو میرا قریبی ہے اور میرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے، تو میں اس کو دہری سزا دوں گا۔ لہٰذا جو چاہے خلاف ورزی کرے اور جو چاہے اس سے باز رہے۔

(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 893) 

آپؓ اپنی بیویوں، بچوں اور رشتے داروں کے رہن سہن اور اخراجات پر کڑی نگاہ اور سخت نگرانی رکھتے تھے۔ اس کی چند مثالیں یہاں ذکر کی جا رہی ہیں: