قرآن کی معنوی تحریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قرآن کی معنوی تحریف

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 1 از 3

قرآن کی معنوی تحریف

شیعہ کے عقیدہ تحریف قرآن کے دو پہلو ہیں اول تحریف لفظی جس کا تفصیلی ذکر ہو چکا کہ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ قرآن میں کمی کی گئی، اضافہ کیا گیا، ترتیب سورتوں کی بدل گئی ترتیب الفاظ و کلمات بدلی گئی اور ترتیب آیات بدل دی گئی ہے ان تمام پہلوؤں پر اجمال بحث ہو چکی ہے اب ان کے عقیدہ تحریف کے دوسرے پہلو یعنی تحریف معنوی کا بیان کیا جاتا ہے۔

ہمارے کتب خانے میں شیعہ کی چودہ مستند تفاسیر موجود ہیں کہنے کو تو یہ تفسیر ہی ہیں مگر ان میں سے ایک کتاب بھی ایسی نہیں جسے تفسیر قرآن کہا جا سکے ، نہ الفاظ کا حل نہ آیات کی وضاحت نہ کلمات کے مدلول مطابق کی طرف توجہ نہ لغت عربی کا لحاظ نہ کلام و محاور، عرب کا پاس نہ سیاق و سباق کا خیال ، بس ساری توجہ اور سارا زورکلام قرآن مجید کو مکمل اور محرف ثابت کرنے پر صرف کیا گیا اور اس ساری کوشش میں مواد جو لیا گیا اور اس ساری کوشش میں مواد جو لیا گیا ہو زیادہ تیز زرارہ اور ابوالعبیر کی روایات سے اور یہ دونوں وہ بزرگ ہیں جن کو شیعہ کتب رجال میں بالاتفاق گمراہ کیا گیا ہے ۔ دیکھئے رجال کشی اور حق الیقین۔

معنوی تحریف کا سہرا شیعہ مفسرین کے سر ہے۔ اور یہ کام ہی اہل علم کا ہے کہ خواہ الفاظ میں سے معنی اخذ کریں خواہ الفاظ کو اپنی پسند کے معنی پہنائیں۔ لہذا اب شیعہ مفسرین کی نکتہ آفرینیوں کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

1_تفسیر قمی علی بن ابراہیم کی تصنیف ہے جو شیعہ کے گیارہویں امام حسن عسکری کا شاگرد بیان کیا جاتا ہے۔ (طبع نجف اشرف)

اس کے مقدمہ کے ص21 پر قرآن فہمی کا ایک اصول لکھا ہے۔

ان كل ما ورد في القرآن من المدح كناية و صراحة فهو راجع إلى محمد واله الطاهرين وكل ما ورد في القرآن من القدر كذلك فهو لا عدائهم اجمعين السابقين والاحقين ويحمل عليه جميع الایات من هذا القبيل و ان كان خلافاً الظاھر۔

قرآن میں جو الفاظ مدح و ثنا کے بیان ہوئے کتابستہ رہوں یا صراحتہ ان سے مراد نبی کریمﷺ اور ان کی آل ہیں جو الفاظ ندمت یا برائی کے معنی میں ہیں وہ ان کے دشمنوں کے حق میں ہیں وہ دشمن خواہ سابقہ امنوں کے ہوں یا بعد کے اور تمام آیات قرآنی کو اسی پر محمول کیا جائے گا خواہ وہ مفہوم ظاہر قرآن کے خلاف ہو۔

اس اصول کی تفصیلات پر غور کیجئے۔

1_ قرآن مجید میں نبی کریمﷺ کے اوصاف، کمالات اور فضائل کا بیان ہونا تو قدرتی بات ہے۔ مگر حضورﷺ کے علاوہ تمام الفاظ مدح کو آل رسول میں محصور کر دینا اس امر کا اعلان کے نبی کریمﷺ نے 23برس میں کوئی قابل تعریف انسان اپنی تربیت سے تیار نہیں کیا۔ گویا یزکیھم ویعلمهم الكتاب والحكمة کے الفاظ محض برائے وزن بیت قرآن میں لائے گئے ہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ آل رسول سے مراد وہی ہے جسے شیعہ آل قرار دیں ورنہ نسلی اعتبار سے یا معنوی اعتبار سے حضور اکرمﷺ کے ساتھ جن کا تعلق ہے وہ آل شمار نہیں ہوں گے۔ اور شیعہ نے تو آل رسول کو خواہ خونی اور نسلی اعتبارسے دیکھا جائے ٹکڑے کر کے ان کا ایک حصہ مقبول تسلیم کیا اور دوسرے حصے کو خوض قرار دے دیا۔

تیسری بات یہ ہے کہ مفسر صاحب نے اپنے سفر کی ابتداء اس نیت سے کی ہے کہ الفاظ سے مافی اخذ نہیں کرتے بلکہ الفاظ قرآن کو اپنی پسند کے معنی پہنانے ہیں اس لیے اعلان کر دیا کہ مطلب وہی ہوگا جو ہم کہیں گے۔ خواہ وہ ظاہر قرآن یعنی الفاظ کے خلاف ہی ہو۔

چوتھی بات یہ ہے مفسر صاحب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ شیعہ مذہب ظاہر قرآن کے خلاف ہے یعنی الفاظ قرآن سے شیعہ کی حقانیت تلاش کرنا تکلف محض اور بے سود ہے۔ گویا تحریف معنوں کے لیےاب کھلا میدان ہے۔

2_تفسیر عیاشی - ابو النصر محمد بن مسعود عیاشی سمرقندی 13:1طبع تہران۔

عن الى جعفر قال ابو جعفر یا محمد اذا سمعت الله ذکر احد امن هذه الامة بخير فنحن هم و اذا سته ذكر الله قد ما بسر و ممن معنى فهم عددنا.

محمد بن مسلم امام باقی سے بیان کرتا ہے کہ امام نے فرمایا اے محمد! جب تم سنو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں کسی شخص کی خوبی بیان کی ہے جو اس امت سے ہے تو اس سے مراد ہم ہیں اور جب تم سنو کہ اللّٰہ نے کسی قوم کو جو ہم سے پہلے گزر چکی قرآن میں برائی سے یاد کیا تو سمجھ لو وہ لوگ ہمارے دشمن مراد ہیں یعنی (صحابہ کرام)

امام باقر کا سن وفات 113ھ ہے۔ اس روایت کا مطلب یہ ہوا قرآن میں کسی کا ذکر خیر آیا ہے تو صرف ان لوگوں کا جو نزول قرآن سے سو سال بعد ہوئے اور جنہوں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا تک نہیں اور برائی سے یاد کیا گیا ہے۔ تو ان لوگوں کو جنہوں نے 23 برس تک نبی کریمﷺ سے تربیت حاصل کی اور اسلام کی خاطر جان مال گھر بار سب کچھ قربان کر دیا۔

یہ اُصول اس لیے یاد رکھنا ضروری ہے کہ تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو جائے نبی کریمﷺ نے تو اپنے عہد میں کوئی آدمی تیار ہی نہیں کیا ۔

اس مفسر کی تائید میں چھٹی صدی ہجری کا ایک مفکر شہر بن آشوب متوفی 588ھ اپنی مشہور تصنیف مناقب شہر بن آشوب 370:13پر کہتا ہے کہ قرآن میں ہر مدح کا صیغہ ائمہ کے حق میں ہے اور ہر قدح کا صیغہ اصحاب رسول کے حق ہیں۔

3_تفسیر مراۃ الانوار مشکواۃ الاسرار۔۔۔سید حسن شریف تبعی تہران ص7

ما من اية تسوق الى الجنة الاوفى النبى صلى اللہ علیہ وسلم والائمة واشيعا هم واتباعهم وما من ایت تسوق الى النار الا وهى فى اعدائھم المخالفين لهم وان كانت الايت فی ذكر اولین فما كان منهانی خیر فهو اهل خير من هذه الامة وما كان منها فی شرفهو جارنی اهل الشر

جو آیت جنت کی طرف بلاتی ہے وہ نبی کریمﷺ کے حق میں ائمہ، شیعہ اور ان کے متبعین کے حق میں ہے اور جو آیت جہنم کی طرف بلاتی ہے وہ ائمہ اور شیعہ کے دشمنوں اور مخالفوں کے حق میں ہے اگرچہ آیات قرآن سابقہ اُمتوں کے حق میں نازل ہوئی ہوں ایسی آیتوں میں اچھوں سے مراد اس اداُمت کے اچھے لوگ اور بروں سے مراد اس اُمت کے بُرے لوگ ہوں گے۔

صفحہ 1 از 3