قرآن کی معنوی تحریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قرآن کی معنوی تحریف

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 2 از 3

شیعہ مفسرین کی اس تدریجی ترقی پر غور کیجئے۔ صاحب قمی نے کہا کہ اچھے لوگوں سے مراد نبی کریم اور ان کی آل ہے۔ تفسیر عیاشی میں بیان ہوا کہ اچھے لوگوں کے مراد "ہم"ہیں یعنی ائمہ اس تفسیر میں دو گروپ اور شامل کر لیے گئے یعنی اچھے لوگوں سے مراد نبی کریمﷺ ، ائمہ شیعہ اور شیعہ حضرات اور ان کے پیرو یہ بات پہلے مفسرین کو نہیں سوجھی یہاں تو منظر کچھ ایسا لگتا ہے جیسے "جمعہ جنج نال" بہر حال اہل جنت تو شیعہ ہی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ فوج اپنی یونیفارم سے پہچانی جاتی ہے ۔کسی مذہبی تقریب پر شیعہ کی ہئیت کذائی دیکھ کر واقعی یہ احساس ہونے ہونے لگتا ہے کہ ؎

اگر فردوس بروئے زمین است

ہمین است وہیں است وہیں است

4_ایضاً 258:1 داؤدراوی کہتا ہے کہ امام باقر نے مجھے فرمایا:

یا داؤد عدونانی کتاب الله الفحشاء والمنكر والبقى والخمر والميسر و الانصاب والازلام والاوثان و الجبت والطاغوت والميتة والدم ولحم حنزیر

اے داؤد!ہمارے دشمن (صحابہ اور سنی) قرآن میں سے ان الفاظ سے بیان کئے گئے ہیں فحشاء منکر یعنی شراب ، جوّا انصاب، ازلام ، جبت اور طاغوت مردار اور خنزیر کا کوشت۔

یعنی یہ الفاظ ان معنوں میں استعمال نہیں ہوئے جن کے لیے اہل زبان نے وضع کئے ہیں بلکہ صحابہ اور اہل السنّت ان الفاظ کا مدلول مطابقی ہیں۔ یہ ہے شیعہ علم کی جولانی اور یہ ہے فن تفسیر قرآن -

5_ایضاً 258:1

لعن باقر فى الابية المذكورة قال الفحشاء الاول والمنكر الثانى والبغی الثالث۔

امام باقی سے روایت ہے کہ اس آیت میں فحشاء سے مراد ابوبکر اور منکر سے مراد فاروق اور بغی سے مراد عثمان غنی ہیں۔

اس تفسیر پر کوئی کیا اظہار خیال کرے یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں مظلوم قرآن جیسا کوئی نہیں اور ظالم شیعہ مفسرین جیسا ڈھونڈے نہ ملے گا۔

6_ایضاً 258:2

عن الصادق فی قوله تعالی رينهى عن الفحشاء والمنكر والبغی قال فلان و فلان فلاں۔

امام جعفر فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ تمہیں منع کرتا ہے فحشاء سے منکر سے اور بغی سے یعنی ابوبکر سے عمر سے اور عثمان سے۔

یہاں پہنچ کرمفسر صاحب گویا بے حیائی کی معراج پر پہنچ گئے۔ اس مفہوم کا تاریخی تجزیہ کیجئے۔مفسر صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن روکتا ہے ابوبکر سے کہ وہ فخشاء مجسم ہے۔ (معاذ اللّٰہ) اور جس پر قرآن نازل ہوا اور جسے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ اُمت کو قرآن کا مفہوم علمی اور عملی دونوں صورتوں میں سکھائی وہ باصرار حکم دیتا ہے کہ میرے بعد میری اُمت کی امامت اسے کرنی ہے جسے میں امام مقرر کر رہا ہوں اور اُمت کو اس کی اقتداء کرنی ہوگی۔

اگر مفسر صاحب میں ایمان کی رمق بھی ہوتی تو کیا اللہ اور رسول كو دو مخالفوں مورچوں میں کھڑا کرنے کی حماقت کرتے۔

اللّٰہ کہتا ہے عمر سے بچو کہ یہ منکر ہے (معاذ اللّٰہ) اور اللّٰہ کا رسول کہتا ہے۔

اقتدوا بالذين من بعدى الى بكر و عمر کہ میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا شیعہ تفسیر کے مطالعہ سے تو یوں لگتا ہے جیسے اللّٰہ اور سول کی مستقل طور پر ٹھن گئی ہے۔

ایک میاں جی مدرسے میں بچوں کو پڑھا رہے تھے کہ ظلمت کے معنی مرغی، کسی بچے نے ہمت کر کے استاد کوٹوکا کہ ظلنت کے معنی تو اندھیرا ہوتا ہے کہنے لگے ارے جاہل! جب مرغی اپنے بچوں کو پروں کے نیچے دے لیتی ہے تو وہاں اندھیرا نہیں ہو جاتا۔ بس اسی وجہ سے تو ظلمت کے معنی مرغی ہے ۔

7_ایضاً ص487

و اماما ورد من الكفر بالنسبة الى الامم السالفته فهو ايضا لاجل انكار هو الاية الى ان قال وذكرنا ان جميع الامم كانوا مكلفين بالاقرار فتأمل كل من جحدهم ادانکر اما متهم اوشك فی ذالك فهو كافر و الكفر توله و اعتقادۃ۔

جو کفر گزشتہ امتوں کی طرف منسوب ہے وہ بھی شیعہ اماموں کے انکار کی وجہ سے ہے (یعنی اماموں کا انکار کیا تو عذاب آیا) میں نے ذکر کیا ہے کہ تمام سابقہ اُمتیں بارہ اماموں پر ایمان لانے کی مکلف تھیں۔ خوب سمجھ لو کہ جس شخص نے ائمہ شیعہ کا انکار کیا یا ان کی امامت میں شک کیا وہ کافر ہے اس کی بات بھی کفر اور اس کا عقیدہ بھی کفر۔

ایضاً ص3 مقدمہ کتاب

ان اكثر ايات الفضل والانعام والمدح والاكرام بل لها فيهم وفی اولیاء هم نزلت وان جل فقرات التوبيخ والتشنيع والتهديدايل جملتها فی مخالفيهم واعدائهم وردت بالتحقيق كما سيظهر عن قريب ان تمام القرآن انما انزل الارشاد اليهم والاعلام بهم وبيان العلوم والاحكام لهم و الامر باطاعتهم وترك مخالفتهم وان الله جعل جملة بطن القرآن فی دعوة الائغه والولايته .

قرآن کی اکثر آیات بلکہ تمام آیات جن میں مدح و ثنا فضیلت اور انعام و اکرام کا بیان ہے وہ ان اماموں اور ان کے شیعوں کے حق میں نازل ہوئی ہیں اور زجر و تو بیخ ، ڈراوے اور دھمکلی کی آیات اور الفاظ ائمہ اور شیعوں کے مخالفین کے حق میں نازل ہوئیں اس کی حقیقت عنقریب ظاہر ہو جائے کی حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن صرف اس لیے نازل ہوا کہ اماموں کی طرف اور شیعہ کی طرف رہنمائی کرے اور ان کا تعارف کرائے اور مخلوق پر ان کے جو حقوق ہیں ان کے احکام بیان کرے۔ ان کی اطاعت کا حکم دے اور ان کی مخالفت کرنے سے روکے اللّٰہ تعالیٰ نے اماموں کی طرف دعوت دینے ان کی ولایت کو بیان کرنے کو قرآن کی روح اور حقیقت بنایا ہے۔

مفسر صاحب نے مقدمے میں خبردار کردیا کہ جس طرح انسان کی تمام کوششیں محنت توجہ مقصد کے گرد گھومتی ہے اسی طرح قرآن کے معاملے میں بھی اس کو سامنے رکھنا سو قرآن کے نزول کا مقصد صرف یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق کو ائمہ کا اور محبان اللّٰہ کا تعارف کرا دے اور احمد کی اطاعت کا حکم دے دے اس کے بعد قرآن کا مقصد نزول مکمل ہوگا اب بنی نوع انسان کی دنیا اور آخرت اماموں کے ساتھ وابستہ ہے اور ان کے شیعوں کی مرضی پر منحصر ہے۔ یعنی قرآن کو اس سے بحث نہیں کہ توحید کیا ہے اس کی اہمیت کیا ہے رسالت کیا ہے اس کی ضرورت کیا ہے ۔ رسول کا منصب کیا ہے فرائض کیا ہیں رسول اللّٰہﷺ اور امت کا تعلق کیا ہے۔ آخرت کا عقیدہ کیا ہے اور دنیا اور آخرت کا آپس میں تعلق کیا ہے یہ سب کچھ زوائد میں آتا ہے اصل اور مقصودی چیز یہ ہے کہ ائمہ کون ہیں اور شیعے کون ہیں۔

صفحہ 2 از 3