حدیث فدک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث فدک

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 4

حدیث فدک

باغ فدک کا نام سامنے اتے ہی شاہ دو جہان کے بارے میں صاحب جائیداد ہونے کا وسوسہ ذہن میں ابھرتا ہے اسے زائل کرنے کے لیے اور خناس کو اپنیناس کاروائی میں ناکام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اہم اسلام کے عوام و خواص میں پندرہ سو سال سے لگے اس نقش کو مٹنے نہ دیں کہ آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ میں ائے ہوئے مہاجر تھے جنہوں نے مدینہ میں اپنی وفات کے وقت کوئی جائیداد چھوڑی اور ایک مہاجر کا کوئی مالی اثاثہ ہو ہی کیا جا سکتا جس کی اپنی ازواج بھی اس سے اپنا خرچہ مانگتے ڈرتی ہوں اور وہ اپنی رسالت کے حوالے سے انہیں نہ مانگنے کی تجویز دیتا ہو

سلام اس پر کہ جس کے پاس چاندی تھی نا سونا تھا

سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریہ جس بچھونا تھا

حضور ﷺ نے اپنی امت کے غریبوں کو تو زکوٰۃ و صدقات لینے کا حق دیا اور اپنے خاندان کے لیے صدقات لینا بھی حرام ٹھہرایا تاکہ کسی کی اپ کی مالی وراثت پر کوئی نظر نہ ہو اس صورت حال میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو قضیہ فدک میں حدیث فدک کے کچھ روایتی پس منظر سے آشنا کریں قضیہ فدک کو وہ خود مختلف کتابوں سے معلوم کر سکیں گے یہاں ہمیں بطور طالب علم اس کا صرف روایتی پس منظر سامنے لانا ہے کہ انبیاء کی کوئی مالی وراثت نہیں ہوتی اس کی تائید شیعہ لٹریچر میں بھی اس طرح ملتی ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے حضور ﷺ کے اخری لمحات حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو اپ کو اپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ ﷺ کو کہا

ھذان ابناؤک فورثھما شیا فقال اما فقال اما حسن فان له ھیبتی وسؤدوی واما حسین فان له جراتی وجودی

(حدیدی شرح نہج البلاغہ جلد 2 ص 621 کشف الغمہ جلد 2 ص 84 طبع تہران)

ترجمہ: یہ دونوں اپ کے بیٹے ہیں انہیں اپنی وراثت میں کچھ دے جائیے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا حسن کے لیے میری ہیبت اور سرداری ہے اور حسین کے لیے میری جرأت اور سخاوت ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ واقعی انبیاء کی کوئی مالی وراثت نہیں ہوتی حضرت سیدہ کا سوال تو مالی وراثت کا ہی تھا یہاں ہم اس روایت فدک کو اہل سنت کی کتابوں میں صرف ابن شباب زہری کا حوالہ سے ان کے شاگردوں ۔۔۔۔۔۔۔۔

1_صالح بن ابی الاخضر

2_عقیل بن خالد

3_معمر بن راشد

4_ شعیب بن ابی حمزہ

5_امام مالک

6_اسامہ بن ذید بن حارثہ

سے زیر بحث لا رہے ہیں امام زہری کے شاگردوں سے آگے اسے روایت کرنے والے پھر آپس میں اس میں کئی باتوں میں مختلف ہیں

صحیح بخاری کی صالح بن ابی الاحضر کی روایت میں سنن ابی داؤد کی امام مالک کی روایت میں فرق ہے ایک میں طلب فدک میں حضرت فاطمہؓ کی ناراضگی کا ذکر ہے اور ایک میں اس کا ذکر نہیں صحیح مسلم میں امام مالک عن ابن الشہاب کی روایت میں بھی ناراضگی کا کوئی ذکر نہیں اور عقیل بن خالد کی روایت میں اس ناراضگی کا ذکر ہے آپ تلاش کرتے کرتے تھک جائیں گے کہ اصل صورت واقعہ کیا ہے مگر ہاتھ کچھ نہ ائے گا۔

اس پس منظر میں یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ کی ناراضگی بعض روایتوں میں ہے اور میں بعض میں نہیں سو اسے اس طرح عوام میں لانا گویا کہ یہ عام مسلمانوں میں اور شیعوں میں اختلاف کا ایک بنیادی رکن ہے ہرگز درست نہیں ہمیں بطور طالب علم کوشش کرنی چاہیے کہ اسے علم کی روشنی میں ناقابل اعتبار بنا دیں۔

ناراضگی کی روایت کو ناقابل اعتبار بنانے کے قطعی وجوہ

حضرت فاطمہؓ کا اپنی ذندگی میں فدک سے اپنے گھر کا خرچہ قبول کرنا تاریخ کا ایک ناقابل انکار واقعہ ہے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے تصور میں بھی شاید یہ بات کبھی نہ گزری ہو کہ آپ یہ بات اپنی بیٹی کو بتائیں کہ انبیاء کی مالی وراثت نہیں ہوتی ورنہ وہ حضرت ابوبکرؓ سے اس کا سوال نہ کرتیں۔

حضرت ابوبکرؓ نے حضرت فاطمہؓ کے طلب وراثت پر یہ فیصلہ دیا تھا۔

انما یاکل آل محمد من ھذا المال یعنی مال اللہ لیس لھم ان یزید واعلی الما کل (صحیح بخاری جلد 1 ص 526)

ترجمہ ..... حضور ﷺ کے گھر والے اللہ کے اس مال سے بقدر اپنے کھانے کے لیتے رہیں گے انہیں اس سے ذیادہ پر کوئی حق نہ ہو گا ۔

حضرت فاطمہؓ کا اسے قبول کرنا بتلانا ہے کہ وہ اس فیصلے سے کر گز ناراض نہ تھیں اگر وہ چھ ماہ حضرت ابوبکرؓ سے کوئی بات نہ کر پائیں تو کیا اس کی وجہ آپ کی بیماری نہیں ہو سکتی اسے خواہ مخواہ ناراضگی کا نام دینا کیا حضرت فاطمہؓ کا یہ مزکورہ عمل کہ آپ نے فدک کی آمدنی سے گھر کا خرچہ قبول کیا اس کی کھلی تردید نہیں کرتا

شارح نہج البلاغہ علی نقی کی اس مال کے قبول کرنے کی شہادت

حضرت ابوبکر غلہ وسود آں راگرفتہ بقدر کفایت بابل بیت مے داد (جلد 5 ص 960)

ترجمہ ۔۔۔۔۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ابوبکر فدک کی پیداوار سے اہل بیت کو بقدر ضرورت دیتے رہے۔

حضرت فاطمہؓ کی وفات حضرت علیؓ کی حضرت ابوبکرؓ میں مصالحت

حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ کی حضرت ابوبکرؓ سے رضا طلبی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ حضرت سیدہؓ، حضرت ابوبکرؓ سے ہرگز ناراض نہ تھیں ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی مرتضیٰؓ حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد ان کے جزبات کا کچھ بھی احساس نہ کریں ہم اپنے طلب حدیث کے صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی روایت سے اسے اس طرح پیاش کرتے ہیں۔

کان لعلی من الناس جھۃ حیات فاطمہ فلما توفیت استنکر علی وجوہ الناس فالتمس مصالحۃ ابی بکر و مبایعته ۔۔۔ ثم قال انا قد عرفنا یا ابابکر فضیلتک وما أعطاک اللہ ولم ننفس علیک خیرا ساقه اللہ الیک ولکنک استبددت علینا بالامر وکنا نحن نری لنا حقا لقرا بتنا من رسول اللہ ﷺ فلم یزل یکلم ابابکر حتی فاضت عینا ابی بکر فلما تکلم ابوبکر قال والذی شجر بینی وبینکم من ھذہ الاموال فانی لم آل فیھا عن الحق ولم اترک امرا رایت رسول اللہ ﷺ یصنعه الا صنعته فقال علی لابی بکر موعدک العشیۃ للبیعۃ

(صحیح مسلم جلد 2 ص 91 صحیح بخاری جلد 1 ص 526 جلد 2 ص 609)

صفحہ 1 از 4