حدیث فدک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث فدک

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 4

ترجمہ۔۔۔۔۔ لوگوں کی (حضور ﷺ کی وفات کے بعد) اس وقت تک حضرت علیؓ کی طرف کچھ توجہ رہی جب تک حضرت فاطمہؓ ذندہ رہیں لیکن ان کی وفات سے آپ نے دیکھا کہ عامتہ الناس ان سے بالکل بیگانہ کو رہے ہیں ان حالات میں آپ نے چاہا کہ حضرت ابوبکرؓ سے ان کی مصالحت ہو جائے ۔۔۔۔۔۔ (پھر حضرت ابوبکرؓ ان کے کہنے پر ام کے گھر آئے)اور حضرت علی مرتضیٰؓ مے انہیں اپنے احساس کی اس طرح خبر دی۔

اے ابوبکر ! ہم آپ کی فضیلت اور اللہ نے آپ کو جو مقام دیا ہے اسے پہلے سے پہچانتے ہیں اور ہم اس شان کو جو اللہ نے اپ کو دی ہرگز اسے اپنے لیے بوکج نکیں سمجھتے لیکن آپ نے انتخاب خلیفہ میں ہم اہل بیت پر ذیادتی کی (کہ سقیقہ بنی ساعدہ میں جہاں یہ انتخاب ہوا ہم کو نہ بلایا) ہم بنو ہاشم اسے حضور ﷺ کے اقارب ہونے کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے رہے حضرت علیؓ اس لر حضرت ابوبکرؓ کی آنکھیں بہنے لگیں (انہیں آنسو آگئے) پھر حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھا کر فرمایا خدا کی قسم مجھے حضور ﷺ کی قرابت سے ذیادہ عزیز رہی ہے اور اموال فدک وغیرہ کے بارے میں ہم میں جو اختلاف واقع ہوا تو اس میں میں نے اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں کی اور اس میں میں نے جو حضور ﷺ کو کرتے دیکھا میں نے اسے ایسا ہی کیا۔

صحیح بخاری کی اس روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے انا قد عرف ا اور ولم ننفس میں یہ جمع کے الفاظ ذکر فرمائے ان میں آپ کی مراد کون لوگ تھے اسے آپ نے ان الفاظ میں پوری طرح کھول دیا۔

وکنا نحن نری لنا حقا لقرابتنا من رسول اللہ ﷺ

حضرت علیؓ محسوس کرتے تھے کہ ہم بنی ہاشم کو بھی ثقیفہ بنی ساعدہ میں بلانا چاہیے تھا یہ بات شاید حضرت علیؓ کے ذہن میں اس وقت نہ ہو کہ حضرت ابوبکرؓ بھی تو اس اجتماع سقیفہ میں اچانک آئے تھے یہ اجتماع ان کا اپنا بلایا ہوا نہ تھا۔

پھر ہہ بھی پیش نظر رہے کہ حضرت علیؓ اور حضرت ابوبکرؓ کے مابین یہ گفتگو اس وقت کی ہے جب حضرت فاطمہؓ کی وفات ہو چکی تھی اور اب یہاں حضرت سیدہؓ کی کوئی ناراضگی موضوع کلام نہ تھی۔

یہ ناراضگی کا وہم کس بات سے چلا

حضرت فاطمہؓ کے آپ سے کوئی بات نہ کرنے سے حالانکہ اس کی وجہ آپ کی بیماری تھی اور حضور ﷺ کی وفات پر ایک بڑے صدمے کا بار تگا حضرت ابوبکرؓ نے آپ کو جو فدک کی وراثت نہ دی تھی وہ صرف عمل رسالت کی وجہ سے تھی حضرت ابوبکرؓ نے صاف کہہ دیا تھا کہ میں حضور ﷺ کے کسی عمل میں کوئی تغیر کرنا پسند نہیں کرتا ظاہر ہے کہ اس سے حضرت فاطمہؓ کسی انداز فکر میں ناراض نہ ہو اکتی تھیں۔

پھر بھی جب حضرت ابوبکرؓ نے محسوس کیا کہ شاید آپ ناراض ہوں تو آپ اس وہم کو دور کرنے کے لیے خود حضرت فاطمہؓ کی ذندگی میں آپ کے گھر تشریف لائے حضرت علیؓ بھی حضرت سیدہؓ کی خوشی کے بغیر حضرت ابوبکرؓ کو اندر نہ بلا سکتے تھے اس صورت حال میں حضرت سیدہؓ کی ناراضگی اگر کچھ ہو بھی تو وہ باقی نہیں رہتی کیونکہ آپ نے بخوشی حضرت ابوبکرؓ کو اندر آنے کی اجازت دی اس وقت تک حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہ کی تھی اس لیے حضرت سیدہؓ نے پہلے حضرت علیؓ سے ان کی خوشی پوچھی آپ نے ہاں کی تو حضرت سیدہؓ نے بھی اس پر خوشی کا اظہار فرمایا ۔

یہ روایت قارئین کو اہل سنت کتاب الریاض النضرۃ میں کوفہ کے سب سے بڑے حافظ حدیث اور امام ابوحنیفہؒ کے استاد علامہ شعبیؒ سے ملے گی۔

عن عامر قال جاء ابوبکر الی فاطمہ وقد اشتد مرضھا فاستاذن علیھا فقال لھا علی ںذا ابوبکر علی الباب یستاذن فان شئت ان تاذنی له قالت او ذاک احب الیک قال نعم فذخل فاعتذر الیھا کلمھا فرضیت عنه

(جلد اول ص 156 طبع مصر)

اس حدیث میں یہ الفاظ کہ اس وقت حضرت سیدہؓ شدت مرض میں تھیں بتلاتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ ان کی عیادت کرنے گئے تھے اس ضمن میں انہوں نے مناسب سمجھا کہ ان سے وہ اس بات کی بھی معذرت کر لیں جس کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام کرنا چھوڑ رکھا ہے اب آپ نے ان سے بخوشی کلام فرمایا اور ان سے راضی ہو گئیں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں کہ اخلاق فاضلہ یہی ہیں کہ آپؓ راضی پو گئی ہوں آ کی دانشمندی اور دینداری پہلے سے اچھی خاصی معروف رہی ہے

واخلق بالا مران یکون کذلک لما علم من وفور عقلھا ودینھا

(فتح الباری جلد 6 ص 202)

حافظ ابن کثیرؒ (774 ھ) البدایہ والنہایہ میں لکھتے ہیں اس روایت کی سند جید اور قوی ہے (جلد 5 ص 289)

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ (1052ھ) نے بھی مدارج النبوۃ جلد 2 ص 445 پر اسے تحقیقی روایت قرار دیا ہے یہ آٹھویں ،نویں ، اور گیارہویں صدیقں کی تین شہادتیں ہمارے طلبہ حدیث کے لیے حدیث فدک کے اس پہلو کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی اس روایت کے مطابق اس پر حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے عشاء کے وقت بیعت کے لیے آنے کا وعدہ کیا اس پر پھر حضرت علی مرتضیٰؓ نے کہا میرا آج عشاء کے وقت آپ سے بیعت کا وعدہ ہے۔

اس سے یہ تو ملتا ہے کہ حضرت علیؓ نے چھ ماہ تاخیر کی لیکن اہل سنت اور شیعہ کی کتابیں اس پر متفق ہیں کہ حضرت علیؓ نے ان دونوں حضرت ابوبکرؓ کی امامت سے کہیں انکار نہ کیا تھا وہ ساتھ ہی برابر ان کے پیچھے ہی نماز ادا کرتے رہے اور جب آپ نے کھلے طور پر بھی آپؓ کی بیعت کر لی تو پھر ان سے اسطرح وفا کی کہ اپنی خلافت میں بھی بقول ملا نور اللہ شوستری حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی بیعت سے نہ نکلے ان کے حالات بتاتے ہیں کہ اس وقت بھی حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی لوگوں کے دلوں پر حکومت تھی

یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حدیث فدک میں روایتہ اب تک اس پر اتفاق نہیں ہو سکا کہ فدک مانگنے حضرت سیدہؓ خود حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئی تھیں یا انہوں نےکسی دوسرے شخص کو بھیجا تھا حدیث میں دونوں پیرا یہ عمل ملتے ہیں اور یہ بات اب تک ثابت نہیں ہو سکی کہ امرا واقع کیا تھا۔حدیث کے طلبہ اس روایت کے اضطراب پر بھی ایک نظر کر لیں۔

جاءت کی روایت صحیح ہے یا ارسلت کی

صفحہ 2 از 4