حدیث فدک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث فدک

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 4

اگر جاءت صحیح ہے تو سوال بھی ساتھ چلے گا کہ اس جانے میں آپکے ساتھ محرم کون تھاحضرت علیؓ تھے یا حضرت عباسؓ اور اگر حضرت عباسؓ تھے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ اس وقت اس مسئلہ میں حضرت فاطمہؓ کے ساتھ نہ تھے ہمیں اس وقت مسئلہ فدک سے بحث نہیں طلبہ حدیث کے سامنے صرف اس حدیث کو روایتہ لانا ہے اس کے بعد یہ فیصلہ طلبہ خود کریں کہ اس روایت میں کیا وزن رہ جاتا ہے۔

صحیح بخاری (جلد 1 ص 526)

عن عائشه ان فاطمه ارسلت الی ابی بکر تساله میرا ثھا من النبی ﷺ

سو اس سے پہلے ص 435 کینروایت میں سالت کو بھی ارسلت کے معنی میں ہی سمجھا جائے گا۔

حضرت عروہ بن زبیرؓ اپنی خالہ حضرت ام المؤمنینؓ سے روایت کرتے ہیں

أن عائشه ام المؤمنین اخبرته ان فاطمۃ بنت رسول سالت ابابکر الصدیق بعد وفاۃ رسول اللہ ﷺ

صحیح بخاری جلد 2 ص 609 میں بھی یہی ہے۔

عن عائشه ان فاطمۃ بنت النبی ﷺ ارسلت الی ابی بکر تساله میرا ثھا من رسول اللہ ﷺ المدینه وفدک وما بقی من خمس خیبر

لیکن صحیح بخاری جلد 2 ص 995 میں ہے کہ حضرت فاطمہؓ حضرت عباسؓ دونوں اپنی وراثت مانگنے حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے تھے اس سے ارسلت کی پہلی دونوں روایتوں کی ظاہر ترتید ہو جاتی ہے اور سألت اور ارسالت کے الفاظ بھی ایکدوسرے کے بہت قریب ہیں ان کی دو میں کوئی ایک صحیح ہو گا

عن عروۃ عن عائشه ان فاطمۃ والعباس اتیا ابابکر یلتمسان میرا ثھا من رسول اللہ ﷺ وھما یومئذ یطلبان ارضیھا من فدک وسھمه من خیبر

یہاں پر ایک سوال ابھرتا ہے کہ اگر یہ دونوں حضور ﷺ سے اپنی اپنی میراث لینے گئے تھے تو یہ باہمی تقسیم کس طرح واقع ہوئی کہ حضرت فاطمہؓ تو فدک میں اور حضرت عباسؓ خیبر سے اپنا حصہ لیں وہ فدک میں اپنی وراثت کس طرح چھوڑ رہے تھے

سنن ابی داؤد سے پتہ چلتا ہے کہ حضور ﷺ کی دوسری ازواج بھی حضور ﷺ سے اپنی وراثت کی طلبگار تھیں صرف حضرت عائشہ صدیقہؓ ان کے ساتھ نہ تھیں دوسری ازواج حضرت ابوبکرؓ کے پاس اپنی طلب وراثت میں حضرت عثمانؓ بھیجنا چاہتی تھیں

سنن ابی داؤد میں ہے ۔۔۔۔

عن مالک عن ابن شھاب عن عروۃ عن عائشه انھا قالت ان۔ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حین تو فی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اردن ان یبعثن عثمان بن عفان الی ابی بکر الصدیق فیسأ لنه ثمنھن بالمیراث من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالت لھن عائشه الیس قد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا نورث ما تر کناہ فھو صدقۃ

(سنن ابی داؤد جلد 4 ص 60 صحیح مسلم جلد 2 ص 91)

ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی ازواج نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمانؓ کو حضرت ابوبکرؓ کے پاس بھیجیں اور اپنی میراث کا آٹھواں حصہ آپ سے مانگیں حضرت عائشہؓ نے ان سے کہا کہ کہا حضور ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم (گروہ انبیاء) موروث نہیں ہوئے ہم جو چھوڑیں وہ بیت المال میں جائے گا۔

اور اسامہ بن زید کی روایت میں ہے کہ وہ ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں حضرت عائشہؓ مے ان دوسری اشواج کو کہا۔

الا تتقین اللہ الم تسمعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ وانما ھذا المال لال محمد لنا ئبتھم ولضیفھم فاذامت فھو الی من ولی الامر من بعدی(سنن ابوداؤد جلد 2 ص60)

ترجمہ: کیا خدا سے نہیں ڈرتی۔ کیا تم نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا ہم انبیاء موروث نہیں ہوتے یہ مال حضور ﷺ کے خاندان کے لیے ہے کبھی ان پر کوئی تکلیف آئے یا کہیں ان کے ہاں مہمان آجائیں اور ان کو کھلانا پڑے۔سو جب میری وفات ہو جائے تو ہہ اموال اس کے ماتحت ہوں گے جو میرے بعد ولی الامر ہو۔

پھر یوم خیبر پر جب حضرت عثمانؓ بن عفان اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا۔

فما بال اخواتنا بنی المطلب اعطیتھ۔ وترکتنا وقرابتنا واحدۃ

ترجمہ ۔۔۔۔۔ ہمارے نبی مطلب بھائیوں میں ہم سے کیا فاصلہ ہے ان کے عطیات اور ہمارے ترکے اور ہماری قرابت ایک سی ہے اس پر حضور ﷺ نے فرمایا

فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا وبنی المطلب لا نفتری فی الجاھلیۃ والاسلام وانما نحن وھم شئی واحدہ وشیک بین أصبعه علیه السلام

ترجمہ: حضور ﷺ نے فرمایا بنو ہاشم اور بنی المطلب ہمیشہ اکھٹے۔ رہے ہیں جاہلیت کا دور ہو یا اسلام کا سوائے اس کے نہیں کہ ہم اور وہ ایک ہی ھئی ہیں (اور اس پر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو اس طرح ملایا)

ان روایات کی مزید تفصیل قارئین کو فتح الباری التعلیق المحمود علی سنن ابی داؤد اور ںذل المجہود وغیرہ میں ملے گی اصل بات صرف اتنی ہے کہ حضور ﷺ کی دوسری ازواج نے بھی خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ سے اپنی میراث لینے کا رادہ تھا اور حضرت عائشہؓ نے وہی بات کہی ان سے اتفاق نہ کیا ۔

معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان ازواج نے واقعی یہ بات حضور ﷺ سے نہ سنی ہو اور ایسی ںات عام کہی بھی نہیں جاتی لیکن جب کوئی مسئلہ قواعد شرعیہ اور اسباب عقلیہ سے ثابت ہو جائے تو اب اس کا انکار بھی تو کسی صورت میں نکیں کیا جا سکتا ۔

یہاں پر سوال ابھرتا ہے کہ اگر ازواج مطہرات کو بھی فدک سے ان کی میراث ملتی ہے تو حضرت فاطمہؓ کا اسے خود اپنے لیے سمجھنا کسطرح درست ہو سکتا ہے اسے بھی یہاں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

پھر کسی روایت سے نہیں ملتا کہ ازواج مطہرات نے پھر حضرت عثمانؓ کو یا کسی اور کو حضرت ابوبکرؓ کے پاس اپنی وراثت کے لیے بھیجا ہو۔اگر وہ حضرت عائشہؓ کے بتلانے سے اپنے اس خیال سے رک گئیں تو حضرت فاطمہؓ بھی کہی فڈک سے حصہ لینے سے دستبردار ہوئیں وہ حضرت عباسؓ کو ساتھ لیکر حضرت ابوبکرؓ کے پاس چلی گئیں حضرت علیؓ بھی اس طلب فدک میں نا کے ساتھ کیوں نہ گئے حضرت ابوھریرہؓ کی روایت میں امام زہریؒ نہیں ہیں وہ روایت یہ ہے :

جاءت فاطمه رضی اللہ عنھا الی ابی بکر رضی اللہ عنہ فقالت من یرثک فقال اھلی وولدی فقالت مالی لاارث ابی فقال ابوبکر رضہ اللہ عنہ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لانورث ولکنی اعول من کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعولہ وانفق علی ماکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینفق علیه

صفحہ 3 از 4