حدیث فدک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث فدک

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 4

ترجمہ: حضرت فاطمہؓ حضرت ابوبکرؓ کے پاس ائیں اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی کو کر حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ آپ کی وراثت کسکو ملے گی آپ نے کہا میرے گھر والوں کو اور میرے بیٹوں کو اس پر حضرت فاطمہؓ نے کہا میں اپنے والد سے وراثت کیوں نہیں پا سکتی اس پر حضرت ابوبکرؓ نے حدیث سنائی اور کہا ۔۔۔حضور ﷺ جن کا خرچہ اٹھاتے رہے میں ان کو خرچہ برابر دیتا رہوں گا اور حضور ﷺ جن پر خرچہ کرتے رہے میں ان پر خرچہ کرتا رہوں گا۔

اس روایت کے مطابق حضرت فاطمہؓ اکیلی حضرت ابوبکرؓ کے پاس طلب میراث کے لیے گئیں اس میں سوال و جواب کی صورت بھی نہ کی اس سے پتا چلتا ہے کہ اس سے پہلے حضرت فاطمہ کو حضور ﷺ سے میراث نہ ملنے کی خبر ہو چکی ہے۔

وہ خبر کب ہوئی ہو گی جب آپ اور حضرت عباسؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے اور آپ نے ان دونوں کو یہ حدیث سنا دی تھی کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی مالی وراثت نہیں چلتی وہ جو چھوڑ جائیں وہ بیت المال میں جاتا ہے ۔

اس سے جاءت اور ارسلت دونوں روایتوں میں تطبیق ہو جاتی ہے اور امت میں انبیاء کرام علیہم السلام کی مالی وراثت نہ چلنے کا مسلہ پوری قوت سے قائم ہو جاتا ہے مسئلہ فدک پر حجت السلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے ہدایتہ الشیعہ میں بڑی تفصیل سے گفتگو فرمائی ہے۔

نیز اسکی پوری تحقیق اور شیعہ کتابوں سے اس کی پوری تنقیح آپ کو امام پاکستان حضرت مولانا سید احمد شاہ بخاریؒ کی کتاب تحقیق فدک میں ملے گی حضرت شاہ صاحب کتب الارشاد واشیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے جلیل القدر خلیفہ تھے ۔

ہم نے یہاں صرف روایتی حیثیت سے اس روایت پر اٹھنے والے چند پہلو طلبہ حدیث کے سامنے رکھ دییے ہیں اس سے شیعہ مجتہد ڈھگو صاحب کے بھی فدک کے بارے میں اٹھائے گئے جملہ اعتراضات یکسر بھسم ہو جاتے ہیں ۔

وکفی به حمدا وشکرا وھو المستعان وعلیه التقلان۔


صفحہ 4 از 4