حدیث مباہلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث مباہلہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 3

حدیث مباہلہ

قرآن کریم میں آیت مباہلہ تو ہے لیکن وہ صرف دعوت مباہلہ ہے۔ آنحضرتﷺ نے جب مدینہ منورہ میں ایک مضبوط سلطنت قائم کر لی  تو آپ نے نجران کے عیسائیوں  کو اس سلطنت میں امان دینے کے لیے ایک فرمان بھیجا کہ تم ان  چیزوں میں سے کسی ایک کو قبول کر لو

  1. مسلمان ہو جاؤ
  2. ہمارے ماتحتی کے لیے جزیہ دینے کا اقرار کر لو
  3. ایسا نہیں تو جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کسی پر جنگ مسلط نہیں کرتا نہ کسی کو جبراً مسلمان کرتا ہے صرف اتنا چاہتا ہے کہ اللہ کا نام اونچا رہے حضورﷺ کا جب یہ فرمان اہلِ نجران کو پہنچا تو انہوں نے ساٹھ آدمیوں کا ایک وفد بڑی شوکت کے لباس میں مدینہ منورہ بھیجا۔

حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد جو 60 آدمیوں پر مشتمل تھا رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیجا ان میں چودہ شخص ان کے اشراف ( بڑے لوگوں) میں سے تھے جن کی طرف ہر معاملہ میں رجوع کیا جاتا تھا۔ (تفسیر ابن کثیر: جلد، 1 صفحہ، 438)

مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

کہ اس وفد کے تین سربراہ تھے

  1. شرجیل
  2. شرجیل کا بیٹا عبداللہ 
  3. جبار بن قیص

مفتی صاحب لکھتے ہیں:

ان لوگوں نے آ کر مذہبی امور پر بات چیت شروع کی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت ثابت کرنے میں ان لوگوں نے انتہائی بحث و تکرار سے کام لیا۔

( تفسیر معارف القرآن: جلد، 2 صفحہ، 81)

یہ بات متفق علیہ ہے کہ نصاریٰ نجران نے دعوت مباہلہ قبول نہ کی اور نہ مباہلہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں مباہلہ واقع ہی نہ ہوا اور اس بات کی حقیقت ہی کیا ہو سکتی ہے جو امر واقع نہ ہو لیکن شیعہ حضرات نے دعوت مباہلہ کو اتنی اہمیت دے رکھی ہے کہ گویا اہلِ سنت اور شیعہ کے اختلاف کی یہی وجہ ہے۔ ان کے علامہ علی حائری  نے بھی اس بات پر ایک مستقل رسالہ موعظہ مباہلہ کے نام سے لکھا اور بھی کئی ذاکروں نے اس پر قسمت آزمائی کی مگر ہاتھ کچھ نہ آیا کوئی بات ایسی نہیں جسے حدیث مباہلہ کہا جا سکے اور اسے قارئین کے سامنے پیش کیا جا سکے حضورﷺ نے وفد نجران کے سامنے نے جو تجویزیں پیش کی تھی ان میں سے دوسری انہوں نے قبول کی ہر سال وہ دو ہزار جوڑے کپڑوں کے دیا کریں گے ایک ہزار ماہ صفر میں ایک ہزار ماہ رجب میں، اس پر آپﷺ نے ان سے صلح کر لی اور فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اہلِ نجران پر عذاب منڈلا رہا تھا اگر وہ مباہلہ کر لیتے تو مسخ کر دیئے جاتے اور بندر اور خنزیر بنا دیئے جاتے اور ان کے سارے علاقے کو آگ جلا کر ختم کر دیتی اور نجران کے لوگ بالکل ختم ہو جاتے یہاں تک کہ پرندے بھی درختوں پر نہ رہتے ہیں اور ایک سال بھی پورا نہ ہوتا کہ تمام نصاریٰ ہلاک ہو جاتے۔

(انوار البیان فی کشف اسرار القرآن: جلد، 2 صفحہ،69)

مباہلہ مقابلے میں آ کر بددعا کرنے کا نام ہے:

مباہلہ بھلۃ (بددعا) سے باب مفاعلہ ہے جو آتا ہی مقابلہ کے لیے ہے جیسے مباحثہ اور مشاعرہ.

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

اگر کسی عمل کے حق و باطل میں فریقین میں نزاع ہو جائے اور دلائل سے نزاع ختم نہ ہو تو پھر ان کو یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ سب مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو اس امر میں باطل پر ہوں اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے وبال اور ہلاکت پڑے کیوں کہ لعنت کے معنیٰ رحمت حق سے بعید ہو جانا ہے اور رحمت سے بعید ہونا قہر سے قریب ہونا ہے پس حاصل معنیٰ اس کے یہ ہوئے کہ جھوٹے پر قہر نازل ہو اور جو شخص جھوٹا ہو گا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا اس طور پر دعا کرنے کو مباہلہ کہتے ہیں۔ (معارف القرآن: جلد، 2 صفحہ، 85) 

اب آیت دعوت مباہلہ پر بھی ایک نظر کریں:

فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡاْ نَدۡعُ أَبۡنَآءَنَا وَأَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰذِبِينَ۔(سورۃ آل عمران: آیت، 61)

ترجمہ: پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصہ میں بعد اس کے کہ آ چکی تیرے پاس خبر سچی تو کہہ دے آؤ بلاویں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جان پھر التجا کریں ہم سب اور لعنت کریں اللہ کی ان پر کہ جو جھوٹے ہیں۔

یہ آیت قرآن کی ہے اور خدا کا حکم ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر اس دعوت مباہلہ کو وہ مان لیتے اور مباہلہ ہوتا تو یقیناً اس آیت کے مطابق ہوتا اس میں آپﷺ کی اولاد بھی ہوتی اور آپﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن بھی اور حضورﷺ خود بھی مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس میں شامل ہوتے۔ دوسری طرف سے وہ وفد میں آنے والے اشراف نجران ہی نہیں ان کی عورتیں بھی نجران سے آ کر اس میں شامل ہوتیں۔

اس پر سوال ابھرتا ہے کہ اس پر عمل کرتے ہوئے  حضورﷺ اور صحابہؓ اپنی عورتوں کو لے کر مباہلہ میں کیوں نہ نکلے، آپ کی اولاد میں سے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ حضرت علیؓ (داماد بھی بیٹوں کے ساتھ شامل ہوتا) اور سیدہ فاطمہؓ تو حضورﷺ کے ساتھ آئے لیکن آپ کی بیٹی جو خیر البنات کے طور پر معروف تھی ان کی بیٹی سیدہ امامہؓ سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ کیوں نہ نکلیں؟ سیدنا حسینؓ کی بہن زینبؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں شامل ہو کر کیوں نہ نکلیں؟ حضورﷺ کی بیٹی زینبؓ کا بیٹا علیؓ اور حضرت رقیہؓ کا بیٹا عبدالله یہ حضورﷺ کے نواسے ساتھ کیوں نہ نکلے؟

الجواب:

اگر مباہلہ ہوتا تو یقیناً اس آیت کے مطابق ہوتا ہے لیکن اگر وہ ہوا ہی نہیں تو یہ نکلنا مباہلہ کے لیے نہ رہا صرف دعوت دینے کے لیے تھا اور حضورﷺ اپنی اولاد میں سے جن سے آپ زیادہ پیار کرتے تھے  انہیں نمونے کے طور پر ساتھ لے کر نکلے اس میں یہ بات لپٹی تھی کہ اگر وہ نجران والے اس دعوت کو قبول کر لیتے تو حضورﷺ باقی مدعوین کو بھی حسبِ آیتِ مباہلہ بلا لیتے اور پھر قرآن کے مطابق مباہلہ ہوتا۔

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

صفحہ 1 از 3