حدیث مباہلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث مباہلہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

اس آیت میں ابناء سے مراد صرف اولاد صلبی میں نہیں ہے بلکہ عام مراد ہے خواہ وہ اولاد ہو یا اولاد کی اولاد ہو کیونکہ عرفاََ ان سب پر اولاد کا اطلاق ہوتا لہٰذا ابناءنا میں آپﷺ  کے نواسے حضرات حسنینؓ اور آپ کے داماد حضرت علیؓ داخل ہیں خصوصاً حضرت علیؓ کو ابناءنا میں داخل کرنا اس لیے بھی صحیح ہے کہ آپ نے تو پرورش بھی حضورﷺ کی آغوش میں پائی تھی، آپﷺ نے ان کو اپنے بچوں کی طرح پالا پوسا اور آپ کی تربیت کا پورا پورا خیال رکھا ایسے بچے پر عرفاََ بیٹے کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔

اس بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حضرت علیؓ اولاد میں داخل ہیں لہٰذا روافض کا  آپ کو ابناءنا سے خارج کر کے اور انفسا میں داخل کر کے آپ کی خلافت بلا فصل پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔ (معارف القرآن: جلد، 2 صفحہ، 86)

اب اگر ان روایات کا بھی اعتبار کر لیا جائے جن میں حضرت علیؓ کا نام آنے والوں میں مذکور نہیں تو ہمارے اس جواب میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ انہیں انفسنا میں پیش کرنے کی کوئی گرانی محسوس ہوتی ہے۔ علامہ شبعی رحمۃ اللہ کے بیان میں حضرت علیؓ کا نام آنے والوں میں نہیں۔

 تفسیر ابنِ جریر طبری میں ہے:

اماالشعبی فلم یذکرہ فلا ادری لسوء رائ بنی امیۃ فی علیّ اولم یکن فی الحدیث

(تفسیر ابنِ جریر: جلد، 3 صفحہ، 194)

ترجمہ: علامہ شعبی  نے حضرت علیؓ کا نام ان ساتھ آنے والوں میں ذکر نہیں کیا یہ اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ بنو امیہ حضرت علیؓ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حدیث مباہلہ میں آپؓ کا ذکر ہی نہ ہو۔

مباہلہ واقعہ ہو جاتا تو یہ گرہ کھلتی:

اگر وفد نجران حضورﷺ کی اس دعوت مباہلہ کو منظور کر لیتے تو اس وقت پتہ چلتا کہ حضورﷺ قرآن پاک کے اس حکم کے مطابق کس کس کو ساتھ لیا ہے، جب مباہلہ ہوا ہی نہیں تو اس سے کوئی فیصلہ  نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت حضورﷺ کن کن کو ساتھ لیتے۔

حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ لکھتے ہیں:

اگر اہل نجران مباہلہ منظور کر لیتے تو اس وقت دیکھا جاتا کہ حضورﷺ کن کن لوگوں کو اپنے ساتھ لے جاتے اگر اس وقت بھی سوائے ان حضرات کے کسی کو اپنے ہمراہ نہ لے جاتے تو بیشک ان الفاظ کا مصداق ان حضرات کو ماننا ضروری ہوتا ہے یقیناً اگر نوبت مباہلہ  آتی تو آپ اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو ضرور ہمراہ لے جاتے  کیونکہ نساءنا سے (بیویوں کے سوا) کوئی اور مراد ہو ہی نہیں سکتا۔

جلیل القدر مفسر ابنِ حیان اندلسی 654ھ بھی لکھتے ہیں:

ولوعزم نصاری نجران علی المباھلۃ وجاءوا لھا لأمر النبّی صلى اللّہ عليه واله وسلم المسلمين ان یخرجوا باھالیھم لمباھلتہ (البحر المحیط جلد، 2 صفحہ، 365)

ترجمہ: اور اگر نجران کے عیسائی مباہلہ کا ارادہ کرتے ہیں اور اس کے لیے آتے تو حضورﷺ مسلمانوں کو حکم دیتے کہ اپنے اپنے اہل و عیال کو لے کر مباہلہ کے لیے آئیں۔

اس سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ اگر عملاََ مباہلہ ہوتا تو پھر حضورﷺ آیت مباہلہ کے مطابق اپنے اہل و عیال اور اپنی ازواج رضی اللہ عنہن کو لے کر آتے۔ اس کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کے فریق مخالف کے اپنے اہل و عیال کے ساتھ نکلنے کا بھی کچھ نقشہ اپنے ذہن میں لے آئیں۔

عمل مباہلہ کا تصوراتی نقشہ:

نجران کے نصاریٰ کا وفد جن کے ساتھ عملاََ مباہلہ ہوتا 60 افراد پر مشتمل تھا جن میں 14 ان کے وہ اشراف (بڑے لوگ) تھے جو اپنے سارے وفد کی نمائندگی کرتے تھے، ان کی نمائندگی میں مباہلہ میں کم از کم ان کی 14 عورتیں اور ایک بڑی تعداد میں ان کے ابناء نکلتے اب ان کے مقابلہ میں اگر حضورﷺ صرف ان تین پر نور چہروں کو ہی لے کر نکلتے تو کیا اس وفد کے چودہ بڑے حضورﷺ سے یہ نہ کہتے کہ آپ اپنی دعوت مباہلہ کے مطابق  میں عورتوں کو لے کر کیوں نہیں آئے اور آپ کے ساتھ پردے میں ایک عورت ہے اور وہ آپ کی بیٹی ہے آپ کی عورت نہیں۔ عورت کا لفظ جب کسی شخص کی طرف مضاف ہوتا ہے تو اس سے اس کی بیوی ہی مراد ہوتی ہے۔  قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جب حضورﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو یا نساءالنبی کے لفظ میں مخاطب کیا تو اس سے بلا اتفاق آپﷺ کی بیویاں ہی مراد ہے نہ کہ بیٹیاں۔

شیعہ مفسرین میں سے کسی نے یہ نہیں لکھا کہ اس سے حضرت فاطمہؓ مراد تھی وفد نجران کے بڑے کیا سورۃ النساء کی آیت کے حوالے سے یہ نہ کہتے کہ حضورﷺ کے ساتھ پردے میں جو خاتون ہے وہ آپ کی بیٹی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نساء میں سے نہیں۔

حضورﷺ کے ساتھ اپنی اولاد میں سے سیدہ فاطمہؓ تھی حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ آپ کے بیٹے نہیں بلکہ نواسے تھے، جنہیں مجازی طور پر تو بیٹا کہا جا سکتا ہے حقیقی طور پر نہیں، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کے عیسائی نمائندے بھی کیا اس طرح اپنے مجازی بیٹوں کو لا رہے ہوتے یا ان کے ابناء ان کے حقیقی بیٹے ہوتے؟ مقابلے میں فریقین کو ایک ہی پیرایہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔

عمل مباہلہ کے اس تصوری نقشے سے یہ حقیقت ناقابل انکار ٹھہرتی ہے کہ اگر عملاََ مباہلہ ہوتا تو پھر آپﷺ کے ساتھ یہی تین افراد نہ ہوتے۔

انفسنا میں عیسائیوں کے چودہ بڑے اپنے آپ کو لے کر آتے تو حضورﷺ بھی اپنے فریق کے بڑوں میں اپنے ساتھ عشرہ مبشرہ (رضی اللہ عنہم) اور جو لوگ مسلمانوں میں بڑے سمجھے جاتے تھے ان کو ضرور ساتھ لے کر نکلتے اور اس بات کو تسلیم کرنے سے چارہ نہیں کہ دعوت مباہلہ میں حضورﷺ جن کو ساتھ لے کر نکلے وہ بطور نمونہ لے کر نکلے تھے مباہلہ کے لیے نہیں۔ مباہلہ کے لیے نکلنا صرف اس طرح ہوسکتا تھا جو اللہ تعالیٰ نے آیت مباہلہ میں خود بتلائی تھی۔

اس ترتیب میں انفسنا جمع کا لفظ ہے ہیں اگر اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا تھے ساتھ کوئی نہ تھا سیدنا علیؓ تو سیدنا حسنؓ اور حسینؓ کی طرح آپ کی اولاد میں شمار تھے وہ کسی طرح آیات مباہلہ کے اس لفظ کا مصداق نہ ہو سکتے تھے سو صورت واقعہ صرف یہ رہ جاتی ہے کہ حضورﷺ اس معرکہ میں اکیلے تھے اور ظاہر ہے کہ واحد پر جمع کا اطلاق نہیں ہوتا نفس واحد ہے اور انفس اس کی جمع ہے اور یہاں انفس کو لے کر نکلنے کا حکم تھا   نفس واحدہ کو نہیں۔

صفحہ 2 از 3