حدیث مباہلہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث مباہلہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3

دعوت مباہلہ کو واقعہ مباہلہ بنا کر اپنی مجلسوں میں بیان کرنا اگر صرف عام زاکروں کا عمل ہوتا تو ہمیں اس پہ بات کرنے کی ضرورت نہ تھی لیکن ہمیں اس پر بہت حیرانگی ہوتی ہے کہ ان کے علامہ علی حائری اور ان کے قبلہ مولوی اعجاز حسن بدایونی جیسے شریعت مدار علماء کیوں اس سے بے اصل موقع پر نغمہ سرا ہوئے کہ حضورﷺ اپنے تین مجازی بیٹوں اور ایک حقیقی بیٹی کو لے کر مباہلہ کے لیے نکلے تھے اور یہ صرف نمونہ دکھلانے کے لئے نکلنا تھا۔ علامہ حائری موعظہ مباہلہ کے نام سے جو ایک مستقل رسالہ لکھا اور علامہ بدایونی میں امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنؤی رحمۃ اللہ کی تفسیر آیت مباہلہ کے جواب میں ایک رسالہ برہان المباہلہ لکھا جس کا جواب اہل سنت کے مشہور عالم جناب ابو المّاثر مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی نے دفع المجادلہ عن آیت المباہلہ کے نام سے لکھا ہے۔

باقی رہے ان کے ذاکرین تو وہ بس ان کی لگائی لکیروں کو ہی پیٹ رہے ہیں۔

نمونہ دکھلانے میں حضورﷺ نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو ساتھ نہ لیا؟

حضرت مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ نے تفسیر آیت مباہلہ کی نہایت دل آویز صورت یہ بیان کی ہے:

جو حضرات الفاظ آیت سے مراد نہ ہو سکتے تھے ان کو آپ نے قبل از وقت (کے مباہلہ عملاََ کرنا ہو) اس لیے بلا لیا کہ آنحضرتﷺ ہم کو اپنے ہمراہ نہ لے جائیں گے اور ان کی دل شکنی نہ ہو اور جو حضرات الفاظ آیت سے مراد تھے ان کو بلانے میں آپ نے عجلت نہ فرمائی بلکہ  انتظار فرمایا کہ نصاریٰ کی مرضی معلوم ہو جائے تو ان کو بلایا جائے اور یہ بالکل ایسا ہی ہوا  کے آیتِ تطہیر کے نازل ہونے کے بعد جو لوگ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے سے مراد نہ ہو سکتے تھے ان کو کمبل کی نیچے لے کر ان کے لیے دعا کی اور جو لوگ لفظ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے مراد تھے ان کو اس دعا میں جو کمبل کی نیچے آنے والوں پر پڑھی گی شامل نہ کیا ام المومنین ام سلمہؓ شامل ہونا چاہا تو آپ نے ان  کو یہ کہہ کر روک دیا کہ انک علیٰ خیر تم بہتر حالت میں ہوں یعنی ان سے تم زیادہ اچھے حال میں ہو درجہ اولیٰ کے اہلِ بیت رضی اللہ عنہم میں سے ہو۔

( تحفہ اہلِ سنت: صفحہ، 627)


صفحہ 3 از 3