حدیث رد الشمس - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث رد الشمس

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 1 از 3

حدیث رد الشمس

اس حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت محمدﷺ حضرت علیؓ کی گود میں سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے (یا وحی نازل ہو رہی تھی) کہ عصر کی نماز حضرت علیؓ نہ پڑھ سکے۔ آپﷺ  نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ تم نے نماز نہیں پڑھی؟ حضرت علیؓ نے کہا نہیں! سورج غروب ہو چکا تھا تو آنحضرتﷺ  نے پھر سے سورج کو مغرب کی طرف سے واپس لوٹا دیا۔

یہ روایت چند سلسلوں سے مروی ہے۔ ایک روایت کے آخری راوی حضرت حسینؓ بن علیؓ  ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ حضرت علیؓ کی گود میں سر رکھے آرام فرما رہے تھے اور آپﷺ  پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ جب وحی ختم ہو گئی تو حضرت محمدﷺ  نے حضرت علیؓ سے دریافت کیا کہا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ حضورﷺ نے اللہ سے دعا کی اور سورج لوٹ آیا۔ جب حضرت علیؓ نے نماز پڑھ لی تو  پھر  غروب ہو گئی۔

یہ حدیث مشکل الآثار جلد 2 صفحہ 8 و جلد 4 صفحہ 388 اور شفاء صفحہ 14 وغیرہ میں موجود ہے، امام طحاوی اور قاضی عیاض رحمۃ اللّٰہ اس حدیث کی تصحیح بھی کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ مندرجہ ذیل امور پر غور کریں گے تو آپ کو حقیقت حال سے آگاہی ہو جائے گی۔

1.فتح المغیث صفحہ 12 پر محدثین کرام کا یہ اصول نقل کیا ہے کہ جب حلال و حرام میں وہ کوئی حدیث نقل کرتے ہیں تو حدیث کی سند میں قطعاً نرمی نہیں کیا کرتے اور اگر فضائل (اور معجزات وغیرہ) میں حدیث نقل کرتے ہیں تو سہل نگاری سے کام لیتے ہیں، امام حاکم نے  مستدرک جلد1 صفحہ 49 میں امام فن عبدالرحمن بن مہدی سے بھی اس کے قریب مضمون نقل کیا ہے۔

2. شرح نحبۃ الفکر صفحہ 73 میں ہے کہ جب کوئی مبتدع ایسی حدیث پیش کرے جس سے اس کی بدعت میں تقویت ہوئی ہو تو اس کی وہ روایت قابل احتجاج نہیں ہو سکتی

3۔ شرح مواقف صفحہ 727 اور شرح عقائد صفحہ  101وغیرہ  عقائد کی کتابوں میں یہ  مسئلہ بتصریح تمام لکھا ہوا ہے کہ خبر واحد اگر چہ صحیح  ہو اس سے عقیدہ ثابت نہیں ہو سکتا۔

مذکورہ اصول سے معلوم ہوا کہ اگر ایسی حدیث کو جو خبر واحد ہو اور اس میں کچھ ضعف بھی ہو، اگر محض فضائل وغیرہ میں پیش کیا جائے تو اس کو قبول کر لیا جائے گا۔ لیکن اگر ایسی حدیث سے عقیدہ  ثابت کیا جاتا ہو جیسا کہ فریق مخالف (شیعہ) کرتا ہے تو اس کا ایک ایک راوی ثقہ ہونا اور اس حدیث کا متواتر و قطعی ہونا ضروری ہے لیکن حدیث مذکور میں دونوں چیزیں مفقود ہیں کہ نہ تو یہ حدیث متواتر اور قطعی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی سند ہے، یہ روایت حضرت اسماء بنت عمیس سے مروی ہے جس کی پہلی سند کے روات یہ ہیں:۔

1۔ ابوامیہ 2. عبداللہ بن موسیٰ العبسی (جو شیعہ تھا) قانون الموضوعات (صفحہ 275و تقریب صفحہ 253 ) 3۔ فضیل بن مرزوق میزان جلد 2 صفحہ 335 اور تہذیب التہذیب جلد 8صفحہ 299 میں ہے کہ امام نسائی امام عثمان بن سعید اور امام حاکم کہتے تھے کہ یہ ضعیف ہے، اور ابن حبان کہتے تھے، منکر الحديث جدا ( کہ کثرت سے منکر حدیثیں پیش کرتا تھا اور ثقہ روات سے روایت کرنے میں خطا کرتا تھا اور عطیہ سے موضوع اور باطل روایات نقل کیا کرتا تھا، اور اس کے ساتھ كان معروفة بالتشيع من غير سبب یعنی بغیر سبب شیعہ مشہور تھا اور قانون الموضوعات صفحہ285 میں ہے کہ امام یحییٰ بھی اس کو ضعیف کہتے تھے، الخ۔ حضرت اسماء کی دوسری سند میں احمد بن صالح  واقع ہے قانون الموضوعات صفحہ 235 میں ہے کہ محدثین نے اس میں طعن کیا ہے اور اس سند کا ایک راوی محمد بن موسیٰ ہے جو شیعہ تھا( تقریب ص 239) اور میزان جلد 3 صفحه 239 اور میزان جلد3صفی 141 اور حضرت اسماء کی تیسری سند میں عمار بن مطر واقع ہے، امام ابوحاتم رازی کہتے ہیں کان یکذب جھوٹ کہا کرتا تھا اور ابن مہدی ؒ فرماتے تھے کہ اس کی تمام حدیثیں باطل ہیں، امام دار قطنی ؒ کہتے ہیں کہ وہ ضعیف تھا۔

حضرات! یہ ہے وہ حدیث جس کی ہر روایت میں کوئی نہ کوئی ضعیف راوی موجود ہے اور شیعہ کا غلو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں ڈھکی چھپی بات نہیں، یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن حنبل فرماتے تھے لا اصل له، اس حدیث کی کوئی صحیح اصل موجودنہیں ، اور محدث ابن جوزی کہتے تھے کہ یہ حدیث موضوع اور باطل ہے۔ (موضوعات کبیر ملا علی القاری الحنفی صفحہ 48)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ منہاج السنتہ جلد 4 صفحہ 186, 187  میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ اس کو امام طحاوی اور قاضی عیاض نے  صحیح کہا ہے لیکن محققین جانتے ہیں کہ ان هذا الحديث کذب  موضوع، یہ حديث (خالص) جھوٹ اور موضوع و باطل ہے نیز فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ایک راوی جو فن حدیث میں نہایت کمزور ہے عبدالرحمن بن شریک ہے اور ایک راوی ابن عقده رافضی ہے، جو صحابہ کرامؓ کی توہین کی احادیث بیان کیا کرتا تھا، حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں ہمارے استاد حافظ مزی ؒ اور امام ذہبی ؒ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے۔ (البدایه و النهایه : 382/6)

حافظ ابن کثیر ؒ نے اس حدیث پر البدایه میں تفصیلی بحث کی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ علی بن المدینی، محمد بن عبید، یلعی بن عبیید، ابن زنجویہ، علامہ ابوالحجاج، علامہ ابوالعباس، محمد بن صالح الہاشمی، علامہ جوزجانی ، علامہ محمد بن ناصر البغدادی، اور علامہ ذہبی وغیرہ سب اس کو موضوع، باطل اور فرماتے ہیں، حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ باوجود کثرت وداعی کے صرف ایک عورت اس کونقل کرتی ہے۔ مجهولة لايعرف بها اوروہ بھی مجہول جس کا حال معلوم نہیں ہے تو اس کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے؟

فائدہ:۔ سورج لوٹنے کی حدیث بروایت ابو ہریرہ بھی مروی ہے لیکن اس میں یزید بن عبد الملک نوفلی واقع ہے،امام احمد، ام یحییٰ، امام احمد بن صالح، امام ابوزرعہ، امام ابن عدی، امام بخاری اور امام نسائی وغیرہ تمام اس کو ضعیف اور متروک الحدیث کہتے ہیں۔ (میزان الاعتدال: 382/6)

علاوہ ازیں روایت کرنے والوں میں داؤد بن فراہیج کو شعبہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (الموضوعات:355/1، اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعۃ للسیوطی: 339/1۔ تذکرہ)

اس حدیث کا ایک اہم راوی یحییٰ ابن یزید ہے۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا۔ (الموضوعات محمد طاہر پٹنی صفحہ 96، المقاصد الحسنہ للسخاوی صفحہ 226)

صفحہ 1 از 3