حدیث رد الشمس - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث رد الشمس

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 2 از 3

محدثین کا ایک اصول یہ ہے کہ اگر کوئی راوی ایسا بیان کرے کہ اگر وہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو ہزاروں افراد اسے نقل کرتے لیکن پھر بھی اسے ایک دو افراد نقل کرتے ہوں خواہ وہ ثقہ ہوں تب بھی وہ روایت موضوع ہوگی۔

 سورج کا ڈوب کر دوبارہ لوٹنے کا حادثہ اگر واقعتاً  رونما ہوا ہوتا تو بلا مبالغہ لاکھوں افراد اسے دیکھتے اور دنیا بھر میں یہ خبر پھیل جاتی مگر حیرت ہے کہ یہ واقعہ صرف اسماء بنت عمیس اور  ابو ہریرہ نقل کررہے ہیں ، کوئی اور فرد نہیں کرتا۔ حضرت اسماءؓ والی روایت کی جتنی بھی  سندات ہیں ۔ سب میں کئی کئی راوی نامعتبر ہیں ۔ پھر ان راویوں میں خود اختلاف ہے کوئی تو کہتا ہے کہ اسماء رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت حضرت فاطمہ بنت حسینؓ نے نقل کی اور کوئی کہتا ہے کہ فاطمہ بنت علیؓ نے جبکہ ان دونوں نے اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کونہیں دیکھا اور  بعض راویوں نے اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے بجائے اسے حضرت حسینؓ کی جانب منسوب کیا ہے۔ لیکن حضرت حسین رضی الله تعالی عنہ تو اس وقت دودھ پیتے بچے تھے  آخر یہ ہزار ہا صحابہؓ کہاں چلے گئے تھے، جو ان میں سے کوئی بھی روایت نہیں کرتا۔

رہی حدیث ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ.. ابن جوزی، اور سیوطی وغیرہ نے دعوی کیا ہے کہ اس کی سند میں داود بن فراہیج کو شعب نے ضعیف قرار دیا ہے۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ موضوع نہیں ۔ لیکن داؤد سے اسے نقل کرنے والا یزید بن عبدالملک ہے اور اس سے اس کا یحییٰ نقل کرتا ہے۔ امام ذہبی یزید بن عبدالملک کے حال میں لکھتے ہیں۔ اسے امام احمد وغیرہ نے ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ  کچھ نہیں ہے۔ احمد بن صالح کہتے ہیں اس کی حدیث کچھ نہیں ہوتی ۔ ابوزرعہ کہتے ہیں ضعیف ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں اس کی عام روایات درست نہیں ہوتیں۔ امام بخاری نے امام احمد کا قول نقل کیا ہے کہ اس کی روایات منکر ہوتی ہیں ۔ نسائی کہتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہے۔ ذہبی نے اس روایت کو منکر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا بیٹا یحییٰ بھی واہی ہے۔ گویا ابو ہریرہؓ کی روایت کے تین راوی نا قابل اعتبار ہیں۔ (میزان 433/4)

حضرت ملا علی القاری حنفی نے امام جزری کا قول نقل کیا ہے کہ علماء فرماتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے۔ سورج آج تک کسی کے لئے نہیں لوٹایا گیا۔ صرف یوشع بن نون کے لئے غروب ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ (موضوعاتِ کبیر: ص 152)

امام ابن الجوزی نے اس حدیث  پر تفصیلی بحث کی ہے۔ فرماتے ہیں یہ روایت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت عمیس سے مروی ہے اور بلاشک و شبہ موضوع ہے۔ اس کا ایک راوی احمد بن داؤد ہے۔ جو بے کار  محض ہے ۔ دار قطنی کہتے ہیں متروک ہے، کذاب ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں احادیث وضع کیا کرتا تھا۔ اس کا ایک اور راوی عمار بن مطر ہے۔ عقیلی کہتے ہیں یہ منکر روایتیں ثقہ راویوں کی جانب منسوب کرتا ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں متروک الحدیث ہے۔ اس کی سند کا ایک اور راوی فضیل بن مرزوق الکوفی ہے۔ اسے یحییٰ نے ضعیف کہا ہے۔ ابن حبان کہتے یہ موضوعات روایت کرتا ۔ اور ثقہ راویوں کی جانب غلط باتیں منسوب کرتا ہے۔ اس کا ایک راوی عبدالرحمان بن شریک ہے۔ ابوحاتم رازی کہتے ہیں اس کی حدیث ردی ہوتی ہے۔

ہمارے نزدیک یہ عبدالرحمن اپنے باپ شریک سے روایت کرتا ہے اور وہ کوفہ کے شیعوں کا رئیس تھا، تمام محدثین نے بھی اسے بھی نا قابل اعتبار قرار دیا ہے۔ ابن جوزی کہتے ہیں اس کا ایک راوی ابن عقدہ ہے۔ وہ رافضی تھا اور صحابہ کی برائیوں میں روایات بیان کرتا تھا میرے نزدیک اس نے یہ روایت وضع کی ہے۔ حمزہ بن یوسف کا بیان ہے کہ ابن عقدہ صحابہ کی برائیاں بیان کرتا، خاص طور پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور عمر رضی الله تعالی عنہ کی اسی لئے میں نے اس کی روایت ترک کر دی ۔ دارقطنی کہتے ہیں یہ بہت برا آدمی تھا۔ ابن عدی کہتے ہیں حدیث کے معاملہ میں دیندار نہ تھا۔ کوفہ کے علماء کو اس نے جھوٹ بولنا سکھایا۔ یہ خود روایات گھڑ گھڑ کر ان کے پاس لے جاتا ۔ اور ان سے کہتا یہ روایات لوگوں سے بیان کرو۔ (الموضوعات: 355/1)

چنانچہ حضرت ملا علی قاری حنفی  لکھتے ہیں کہ امام احمد فرماتے ہیں۔ اس کی کوئی اصل نہیں۔ اور علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں یہ من گھڑت ہے۔ (موضوعات کبیر ص 41) دوسرے مقام لکھتے ہیں یہ جھوٹ ہے کہ حضرت علی رضی الله تعالی عنہ کے لئے سورج لوٹایا گیا۔ (موضوعات کبیر: صفحہ 157)

ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آئمہ حدیث مثل امام مالک ،مصنفین صحاح ستہ اور اصحاب مسانید سنن اور حسن احادیث کے جامعین کا اپنی کتابوں میں اسے درج نہ کرنا۔ اس بات کا بڑا ثبوت ہے کہ ان سب کے نزدیک یہ من گھڑت ہے۔ (البدایہ: ص 60)

ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ اگرچہ امام طحاوی اور قاضی عیاض نے (شفا میں) اے درج کیا ہے لیکن محققین جانتے ہیں کہ یہ روایت خالص جھوٹ اور موضوع و باطل ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت علیؓ کی نماز قضا ہوئی تو نبیﷺ کی کیوں قضا نہیں ہوئی؟ جب کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زانو پر سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے۔

آنحضرتﷺ نے نماز ادا کر کے آرام فرمایا تھا تو سیدنا علیؓ نے آپﷺ کے ہمراہ نماز کیوں ادا نہیں کی؟ .

اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہ روایتیں جن کتابوں میں واقع اور مروی ہیں وہ یہ ہیں ۔ ابن منده، ابن شاہین ، طبرانی مردویہ اور امام طحاوی کی مشکل الآثار و غیرہ اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب حجتہ اللہ البالغہ جلد 1صفحہ 360میں اور شاہ عبدالعزیز عجالہ نافعہ صفحہ 7 میں لکھتے ہیں کہ طبرانی اور امام طحاوی کی جملہ تصانیف طبقه ثالث میں داخل ہیں، اور ان کے بارے میں موخر الذکر موصوف لکھتے ہیں کہ:

"واکثرآں احادیث معمول بہ نزد فقها نشده اند بلکہ اجماع برخلاف آنها منعقد گشتہ ،

اور ابن مردویہ اور ابن شاہین وغیرہ کی کتابیں طبقہ رابعہ میں داخل ہیں

    اور شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں کہ

ایں احادیث قابل اعتماد نیستند که در اثبات عقیده یا عملی بآنها تمسک کرده شود (عجالہ نافعہ صفحہ 7)

صفحہ 2 از 3