Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اَلصّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّومْ "کا اضافہ"

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

اَلصّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّومْ "کا اضافہ"

سوال:

حضرت عمرؓ نے صبح کی اذان میں اَلصّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّومْ"کا اضافہ" کر دیا حالانکہ یہ فقرہ رسول پاکﷺ کے زمانہ میں نہیں پڑھا جاتا تھا۔

جواب نمبر 1:

اَلصّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّومْ کا فقرہ رسولِ پاکﷺ کے زمانہ میں بھی پڑھا جاتا تھا، چنانچہ اہلِ سنت کی حدیث کی کتاب طحاوی شریف صفحہ 82 جلد 1 پر حدیث مرفوع موجود ہے۔

جواب نمبر 2:

اگر یہ فقرہ اذان صبح میں سیدنا عمرؓ کی ایجاد ہے تو چھٹے امام جعفر صادقؒ نے اپنے شاگرد کو کیوں فرمایا کہ اذانِ فجر میں اَلصّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّومْ دو مرتبہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو شیعہ کی صحاحِ اربعہ سے کتاب من لا یحضره الفقیه صفحہ 188 جلد 1:-

لا باس ان يقال في صلوة الغداة اثر حی علی خیر العمل الصلوة خیر من النوم مرتين للقية.

ترجمہ: فجر کی اذان میں حی علی الخیر العمل کے بعد اَلصّلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّومْ دو مرتبہ کہہ لینے میں کوئی حرج نہیں، تقیہ ہونا چاہیے۔

سیدنا جعفر صادقؒ بھی بقول شیعہ سیدنا عمر فاروقؓ کے ایجاد کردہ فقرے کی تائید فرما رہے ہیں۔ اہلِ سنت پر اعتراض کیسا ؟