حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں - ردِ رافضیت | دفاع…

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

صفحہ 2 از 2

تیسرا حوالہ: تہذیب الاحکام صفحہ 154جلد 1

چوتھا حوالہ: من لا یحضرہ الفقیہ صفحہ 526

پانچواں حوالہ فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ صفحہ 560

چھٹا حوالہ شرح نہج البلاغہ محمد عبدہ مصری صفحہ 85 جلد 2

ساتواں حوالہ فروع کافی صفحہ 86جلد 2

آٹھواں حوالہ منتہی الآمال صفحہ 132جلد 2 طبع تہران

نواں حوالہ رجال ما مقانی تنقیح المقال صفحہ 177 طبع تہران

دسواں حوالہ الخصال شیخ صدوق قمی صفحہ 38 جلد 3

گیارہواں حوالہ حیات القلوب صفحہ 124 جلد 2

بارہواں حوالہ تحفة العوام صفحہ 112 طبع لکھنؤ

رجال ما مقانی صفحہ 177 کی عبارت ملاحظہ ہو:

واعلم ان کتب الفریقین مشحونة بانھا ولدت لرسول اللہﷺ اربع بنات زینب و رقیہ و ام کلثوم و فاطمة رضی اللہ عنھن۔

اے انسان خوب سمجھ لے کہ فریقین(شیعہ، سنی) کی کتب بھری پڑی ہیں تحقیق رسول پاکﷺ کی چار صاحبزادیاں تھیں۔ زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمة رضی اللہ عنھن)

اس سے واضح ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔ ان بارہ حوالوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے ورنہ اس مسئلہ میں شیعہ حضرات کی 26 کتب سے حوالہ جات دستیاب ہو چکے ہیں۔

سوال:

بے شک کتبِ شیعہ سے یہ تو ملتا ہے کہ حضور پاکﷺ کے چار صاحبزادیاں تھیں مگر سیدہ زینب، رقیہ اور سیدہ امِ کلثوم (رضی اللہ عنہن) حضور پاکﷺ کی پچھلگ صاحبزادیاں تھیں۔ جو سیدہ خدیجہؓ کے پچھلے خاوند سے تھی۔ ان کی پرورش رسول پاکﷺ کے گھر ہوتی رہی۔

سوال:

یہ تینوں حضور پاکﷺ کی بیٹیاں نہیں تھیں۔ اور نہ ہی سیدہ خدیجہ کے صاحبزادیاں تھیں۔ بلکہ سیدہ خدیجہؓ کی ہمشیرہ ہالہؓ کی صاحبزادیاں تھیں۔ جن کی پرورش سیدہ خدیجہؓ اور رسول پاکﷺ نے کی۔

جواب:

ان دونوں سوالوں کا جواب شیعہ کے مشہور مؤرخ اور مذہبِ شیعہ کے نامور اور مایا ناز ملا باقر مجلسی نے اپنی کتاب میں خود دے کر شیعوں کا منہ بند کر دیا ہے،چنانچہ ملاحظہ ہو حیات القلوب طبع لکھنؤ صفحہ 719 جلد 2 طبع ایمان 825 جلد 2

جمعے از علماء عامہ و خاصہ را اعتقاد آنست کہ رقیہ و امِ کلثوم دخترانِ خدیجہ بودند از شوہر دیگر کہ پیش از حضرت رسولﷺ داشتہ و حضرت ایشاں را تربیت کردہ بود و دختران حقیقی آنجناب نہ بودند و بعضے گفتہ اند کہ دختران ہالہ خواہر خدیجہ بود اندو و برنفی ایں قول روایات معتبر دلالت میںکنند۔

علمائے خاصہ و عامہ کی ایک جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ رقیہؓ اور ام کلثومؓ سیدہ خدیجہؓ کی بیٹیاں تھیں۔ دوسرے خاوند سے جو رسول خداﷺ سے پہلے تھا اور حضورﷺ نے انہیں پالا تھا ۔اس لیے آنحضرتﷺ کی حقیقی بیٹیاں نہیں تھیں۔ اور بعضوں نے کہا کہ خدیجہؓ کی بہن ہالہ کی بیٹیاں تھیں۔ ان دونوں کو ان کے جھوٹا اور باطل ہونے پر معتبر روایات دلالت کرتی ہیں۔

الحمدللہ! جن لوگوں نے یہ دونوں سوال اٹھائے تھے کہ پچھلگ ہیں یا سیدہ خدیجہؓ کی بھانجیاں ہیں ان کے پیشوا نے اپنی کتاب میں جواب دے کر انہیں جھوٹا ثابت کر دیا۔

سوال

سیدہ زینبؓ رقیہؓ اور امِ کُلثومؓ اگر حضورﷺ کی حقیقی صاحبزادیاں ہوتی تو سیدہ فاطمہؓ کی طرح ان کے فضائل و مناقب بھی کتابوں میں موجود ہوتے۔

جواب:

اولاد میں سے کسی ایک فرد کے فضائل و مناقب کا کتابوں میں کثرت سے درج ہونا دوسروں کی نفی نہیں کرتا۔ دیکھو حضرت داؤد علیہ السلام کے 19 بیٹے تھے۔ مناقب حضرت سلیمان علیہ السلام کے ملتے ہیں، حضرت یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے، فضائل صرف حضرت یوسف علیہ السلام کے ملتے ہیں۔ سیدنا علیؓ کے اٹھارہ بیٹے تھے فضائل حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کے ہی ملتے ہیں۔ موسیٰ کاظمؒ کے پینتیس (35) بیٹے تھے، فضائل سیدنا امام رضاؒ کے ہی لئے ہیں۔ ابو طالب کے چار بیٹے تھے، فضائل صرف سیدنا علیؓ کے ہی ملتے ہیں۔ 

کیا کوئی شیعہ یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیدنا موسیٰ کاظمؒ اور ابو طالب کے صرف ایک ایک ہی بیٹے تھے، جن کے فضائل کتابوں میں ملتے ہیں؟

جس طرح ان بزرگوں کی اولاد میں سے ایک کے فضائل کا کتابوں میں آجانے سے باقی اولاد کی نفی نہیں ہوتی اسی طرح سیدہ فاطمہؓ کے فضائل و مناقب کتابوں میں آ جانے سے باقی تین صاحبزادیوں کی نفی نہیں ہوتی۔

سوال:

اگر حضور پاکﷺ کی چاروں حقیقی صاحبزادیاں ہوتیں تو مباہلہ میں چاروں شامل ہوتیں۔ حالانکہ اہلِ سنت کی کتاب میں بھی لکھا ہوا ہے کہ مباہلہ میں حضورﷺ کے ساتھ صرف سیدہ فاطمہؓ ہی تھیں۔

جواب:

مباہلہ سن 9ہجری میں ہوا ہے اور سیدہ زینبؓ، سیدہ رقیہؓ، امِ کُلثومؓ سن 9ہجری سے پہلے ہی اس دارِفانی سے انتقال فرما چکی تھیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو شیعہ کی کتاب حیات القلوب صفحہ 825 جلد 2 طبع ایران۔

 زینب در مدینه در سال هفتم هجرت دبروایتی در سال هشتم هجرت بر حمت ایزدی در اصل شد..... و رقیہؓ در مدینه برحمت ایزدی و اصل شد در هنگام که جنگِ بدر رو داد .....و امِ کُلثوم در سال هفتم هجرت برحمت ایزدی واصل شد.

اور سیدہ زینبؓ مدینہ میں سن 7ہجری میں اور ایک روایت میں ہے کہ سن 8ہجری میں فوت ہوئیں۔ اور رقیہؓ مدینہ میں فوت ہوئیں جب کہ جنگِ بدر واقع ہوئی۔۔۔ اور امِ کُلثومؓ سن 7ہجری میں فوت ہوئیں۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ سن 3ہجری میں حضرت رقیہؓ فوت ہوئیں اور سن 7ہجری میں سیدہ امِ کُلثومؓ فوت ہوئیں اور سن 8ہجری میں سیدہ زینبؓ فوت ہوئیں اور مباہلہ سن 9ہجری میں ہوا۔ اس وقت صرف سیدہ فاطمہؓ ہی زندہ تھیں، جنہیں رسول خداﷺ ساتھ لے گئے۔ جب یہ تینوں صاحبزادیاں اس دنیا میں موجود ہی نہیں تو انہیں حضورﷺ ساتھ کس طرح لے جاتے۔


صفحہ 2 از 2