سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ کے سر پر دستار بندھوانا
احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیومسیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ کے سر پر دستار بندھوانا
سوال
روایت سے ملتا ہے کہ اس خطبہ غدیریہ کے موقع پر رسول پاکﷺ نے سیدنا علیؓ کے سر پر دستارِ خلافت بندھوائی تھی تو آپ کے اس فعل نے لفظ مولیٰ کے باقی معانی کے ابہام کو دور کردیا بادشاہ اور خلیفہ والا معنی معین کر دیا۔ چنانچہ یہ روایت اہلِ سنت کی معتبر کتاب ابو داؤد میں بھی موجود ہے ملاحظہ ہو ابو داؤد صفحہ 23 جلد1
یہ ابو داؤد صحاح ستہ والا نہیں بلکہ ابو داؤد طیالسی ہے جس میں یہ روایت درج ہے۔
عن علی رضی الله تعالى عنه قال عمنى رسول اللهﷺ يوم غدير خم بعمامة .
سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ غدیر خم کے یوم رسولﷺ نے مجھے دستار باندھی تھی اور یہ دستار دستارِ خلافت تھی۔
جواب نمبر 1
یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس سند میں راوی اشعث بن سعید ہے اور ابوالربیع اس کی کنیت ہے اور تہذیب التہذیب صفحہ351 جلد1 پر ہے قال هيثم ابو الربيع كان يكذب ہیثم کہتے ہیں کہ ابوالربیع جھوٹ بولا کرتا تھا لہٰذا جھوٹے راوی کی روایت حجت نہیں ہو سکتی۔
نیز شیعہ کی معتر کتاب تنقیح المقال صفحہ149 جلد1 میں ہے کہ یہ اشعث بن سعید سیدنا جعفرؒ کے شاگردوں سے تھا اور شیعہ راوی تقیہ کا لباس پہن کر عام طور پر سنیوں میں ملے جلے رہتے تھے ابو داؤدؒ نے اسے سنی سمجھ کر اس کی روایت دستار کو اپنی کتاب میں درج کر لیا ہو۔
جواب نمبر2
قرنِ اُولیٰ میں پگڑی بندھوانا خلافت کا نشان نہیں تھا بلکہ اعزاز کے لیے دستار باندھی جاتی تھی اگر یہ خلافت کا نشان ہوتا تو دنیا سے جاتے ہوئے ابوبکر صدیقؓ سیدنا عمرؓ کو باندھتے۔ سیدنا عمر فاروقؓ سیدنا عثمانؓ کے سر پر پگڑی باندھتے۔ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ کے سر پر اور سیدنا علیؓ سیدنا حسنؓ کے سر پر دستارِ خلافت باندھ کر جاتے مگر کتبِ فریقین سے یہ عمل نہیں ملتا اس سے معلوم ہوتا ہے کے یہ دستارِ اعزاز تھی اور دستارِ فضیلت تھی دستارِ خلافت ہر گز نہ تھی ۔
جواب نمبر 3
نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پرحضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کو بھی پگڑی باندھی تھی۔ اگر یہ خلافت کی علامت ہوتی تو حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کو خلیفہ اوّل تسلیم کرنا پڑے گا ۔ ملاحظہ ہو مشکوٰۃ شریف صفحہ374۔
عن عبد الرحمٰن بن عوفؓ قال عممنى رسول الله ﷺ .
ترجمہ
عبد الرحمٰن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ مجھے مجھے رسول خداﷺ نے پگڑی باندھی تھی۔
جواب نمبر 4
غدیر خم میں سیدنا علیؓ کے سر پگڑی باندھنا فرضی دستار ہے اگر بالفرض اس موقع پر دستار بندھوائی گئی ہے تو یہ دستارِ فضیلت تو ہو سکتی ہے ، دستارِ خلافت نہیں ۔ رسول پاکﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے دستار باندھ کر عملی طور پر اعلان فرما دیا کہ یہ میرا بھائی میرا داماد معمولی شخص نہیں ہے۔ چنانچہ اس کے بعد یمنی لوگوں کے شکوک و شبہات دور ہو گئے۔