Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بحث ماتم

  احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوم

بحث ماتم

سوال

غمِ حسینؓ میں رونا پیٹنا افضل ترین عبادت ہے اور سنی لوگ اس عبادت سے محروم ہیں معلوم ہوتا ہے کے انہیں حسینؓ سے محبت ہی نہیں ہے۔

الجواب

سیدنا حسینؓ کی محبت اور عقیدت تو اہلِ سنت کا ایمان ہے۔ حسینؓ کی یاد اتباع اور پیروی ہمارا دین ہے۔

ان کے فضائل و مناقب جو کتبِ صحیحہ سے ملتے ہیں ان کے ہم قائل ہیں مگر موجودہ مروجہ ماتم جو ماتمی حضرات خاص اہتمام کے ساتھ ادا کرتے ہیں اس کے ہم مخالفت ہیں۔ مثلاً اجتماعی شکل ہو ، سیاہ لباس ہو ، ننگے پاؤں اور نگا سر ہو۔ چہرے اور سر پر راکھ اور مٹی ڈالی ہوئی ہو۔ خاص قسم کا راگ ہو، سینہ کوبی ہو، کہیں کہیں ڈھول کی آواز کے مطابق سینہ پر ضربیں لگ رہی ہوں۔ زنجیر زنی اور استرہ زنی ہو ۔ شہر کے گلی کوچوں میں جلوس کی شکل میں گھوما جا رہا ہو ۔ جہاں کہیں مسجد پر نظر پڑ جائے تو ضربیں اور بھی شدت سے لگائی جا رہی ہوں۔ اس قسم کے عمل کے اہلِ سنت مخالف ہیں۔ کیونکہ اس کا ثبوت نہ قرآن سے ملتا ہے اور نہ ہی حدیث پاک میں اس کا کوئی وجود ہے۔ اور نہ ہی ائمہ کرام کے صحیح اقوال و اعمال سے یہ چیز ثابت ہے۔

سوال

 قرآن پاک سے پیٹنا ثابت ہے ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ کو بیٹے کی خوش خبری ملی تو سن کر خصكت وجهها یعنی بی بی نے چہرہ پیٹا اس سے معلوم ہو کر پیٹنا حضرت سارہ کی سنت ہے۔

 الجواب

عرب میں دستور تھا اور آج کل بھی دستور ہے کہ عورتوں کو جب کوئی تعجب والی خبر دی جائے تو حیرانگی کی بنا پر منہ پر ہاتھ رکھتی ہیں اور کبھی منہ پر ہاتھ مار دیتی ہیں ۔ اسی دستور کے مطابق جب حضرت سارہ زوجۂ ابراہیم علیہ السلام کی عمر نوے سال سے تجاوز کر چکی تھی، ساری زندگی اولاد نہیں ہوئی ۔ اولاد جننے کی عمر گزر گئی اور بڑھاپا چھا گیا۔ ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام دعائیں مانگ رہے ہیں : ربِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ اے اللہ نیک فرزند عطا فرما۔ تو دعا کی قبولیت کی خوش خبری فرشتے گھر آ کر دیتے ہیں ۔ حضرت سارہ سن کر فرماتی ہیں ، ءالد انا عجوز وَهَذَا بَعْلِی شَيْخًا کیا میں اب بچہ جنوں گی جب کہ میں بوڑھی ہو چکی ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہو چکا ہے اور تعجب کی بناء پر فصکت وَجْهَهَا چہرے پر ہاتھ مارتی ہیں۔

اب فرمائیں اس واقعہ اور ان کے فعل سے ماتم استرہ زنی، زنجیر زنی، گلی کوچوں میں گھونا کیسے ثابت ہوا؟

 کیا روئے زمین پر کوئی ایسے مرد یا عورتیں بھی آپ کو نظر آئے ہیں یا آپ نے سنے ہیں جنہیں بڑھاپے کی حالت میں اولاد نصیب ہوئی ہو اور انہوں نے غمناک ہو کر رونا پیٹنا اور ماتم شروع کر دیا ہو۔

 اس قول سارہ کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں،ملاحظہ روح المعانی صفحہ99 جلد12

 والمراد فهذا التعجب وقدكثرت هذه الكلمة على افواء النساء اذا طرء عليهن ما يتعجبن منه.

 اور اس کلمہ سے اس جگہ تعجب مراد ہے اور یہ کلمہ عورتوں کی زبان پر بہت چلتا ہے جب انہیں تعجب لاحق ہو ۔

سوال

کیا مروجہ ماتم کی ممانعت آپ کتبِ شیعہ سے بھی ثابت کر سکتے ہیں؟

 جواب

شیعہ کی معتبر کتاب حیات القلوب میں رسول پاکﷺ کا فرمان موجو د ہے جس میں آپ نے ماتم وغیرہ سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو حیات القلوب صفحہ538 جلد 3

 پہلا حوالہ

 حضرت فرمود در مصیبتها م بروئے خورد مزنید و روۓ خود را نخراشید دھوئے خود را مخراشیدوموۓ خود رامکینید و گر بیان خود را چاک مکنید و جامه خود را سیاه مکنیدو واو م ویلامکنید . پس بر ایں شرطها باایشاں بیعت میکند

 حضورﷺ نے فرمایا کہ مصیبتوں میں منہ پر تھپڑ نہ مارو اپنا منہ نہ چھیلواؤ۔ اپنے بال نہ کھسوٹو، اپنا گریبان چاک نہ کرو۔ اپنے کپڑے سیاہ نہ کرو ۔ ہائے ہائے نہ کرو ان شرائط پر حضورﷺ ان سے بیت لیتے تھے۔

 دوسرا حوالہ

 نہج البلاغہ میں سیدنا علیؓ کا فرمان موجود ہے کہ جو شخص مصیبت کے وقت اپنے رانوں پر ہاتھ مارے اس کے نیک اعمال ضائع اور برباد ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو نہج البلاغہ صفحک177 طبع مصر :

 قال على عليه السلام من ضرب يده على فخذه عند مصيبت حبط عملة -

 سیدنا علیؓ نے فرمایا جو شخص مصیبت کے وقت اپنے ران پر ہاتھ مارے اس کے نیک عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔

 تیسرا حوالہ

 میدانِ کربلا میں شہیدِ کربلا سیدنا حسینؓ کی اپنی ہمشیرہ سیدنا زینبؓ کو وصیت فرمائی شیعہ کی معتبر کتاب جلاء العیون اردو میں موجود ہے۔ ملاحظہ ہو جلاء العیون اردو صفحہ382 باب قضا یائے کربلا : 

فرمان حسینؓ اے میری بہن! جو میرا حق تم پر ہے اس کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ میری مصیبت مفارقت پر صبر کرو ۔ پس جب میں مارا جاؤں تو ہرگز منہ نہ پیٹنا اور بال اپنے نہ نوچنا اور گریبان چاک نہ کرنا کہ تم فاطمہؓ کی بیٹی ہو ۔ جیسا انہوں نے پیغمبر خداﷺ کی مصیبت میں صبر فرمایا تم بھی میری مصیبت میں صبر کرنا۔

 ناظرین کرام! انہیں تین حوالوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے کیونکہ شیعہ کتب سے فرمانِ نبیﷺ، فرمانِ علیؓ، اور فرمانِ حسینؓ سے ثابت کر دیا کہ مصیبت میں صبر کرنا اچھا ہے۔ اور بے صبری کے مظاہرے سے یہ تینوں مقدس ہستیاں منع فرما رہی ہیں۔

سوال

 اہلِ سنت کی حدیث کی کتابوں میں ہے کہ جب رسول پاکﷺ کے لختِ جگر ابراہیمؓ کی وفات ہوئی تو رسول پاکﷺ روئے اور فرمایا

  انا بفراقك المحزوسون یا ابراھیم

 اے ابراہیم ہم تیرے فراق کی وجہ سے غمگین ہیں۔

 الجواب

رونا اور غم کھانا اور چیز ہے اور مروجہ ماتم جلوس وغیرہ اور چیز ہے کسی عزیز کی جدائی اور صدمہ کی وجہ سے رونا اور آنکھون سے آنسو بہانا دل میں غم کھانا یہ تو رحمت کی علامت ہے روایت میں ہے کہ ابراہیم کی وفات رسول پاکﷺ کی آنکھوں سے آنسو گرے تو عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے عرض کی یا رسولﷺ آپ رو رہے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا اے عبد الرحمٰن یہ تو رحمت ہے ۔ ساتھ ہی اگر یہ شیعہ کے نزدیک بھی صحیح معنوں میں عبادت ہوتی تو عبادت تو جتنی چھپ چھپا کر کی جائے اتنا زیادہ ثواب ملتا ہے ۔ ایسے آدمی اہلِ سنت تو پائے گئے ہیں جنہوں نے اندھیری راتوں میں گھر سے دور جنگلوں اور پہاڑوں میں وادیوں میں ، دریاؤں کے کناروں پر آبادیوں سے دور خداوند قدوس کی عبادت میں مصروف و مشغول رہ کر خداوند تعالیٰ کی عبادت کی ۔ کبھی نوافل پڑھے، کبھی وظائف پڑھے، کبھی لمبے لمبے سجود کیے، کبھی ساری ساری رات قرآن پاک کی تلاوتیں کیں کبھی ذکر و اذکار میں راتیں کٹ گئیں اور ساری زندگیاں بیت گئیں، مگر شیعہ حضرات سے ایسا کوئی سیدنا حسینؓ کا محب یا علیؓ کا ملنگ نہیں دیکھا اور نہ سنا گیا کہ جو رات کے اندھیرے میں گھر سے نکل کر آبادیوں سے دور جا کر پہاڑوں کی غاروں میں یا دریاؤں کے کناروں پر سارا سارا دن اور ساری ساری رات کے غمِ حسینؓ میں ماتم پٹائی کرتا کرتا مر جائے یا اندھیری راتوں میں استروں اور زنجیروں سے ماتم کر کر کے اکیلے ہی اس ثواب کی لوٹیاں لوٹتا ہوا زندگی گزار دے ۔ دعا ہے خدا تعالیٰ ہر انسان کو مصائب میں صبر کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔