اقامت نماز
علی محمد الصلابیسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے گورنران کے نام خط لکھتے تھے:
’’میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم کام اقامت نماز ہے، جس نے اس کی پابندی کی اور دوسروں سے کروائی، اس نے اپنے دین کی حفاظت کی اور جس نے اسے ضائع کر دیا وہ دوسری چیزوں کا زیادہ ہی ضائع کرنے والا ہو گا۔‘‘
(الطریقۃ الحکمیۃ: صفحہ 240، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 67) اسی طرح آپؓ گورنروں کو لوگوں کی امامت کا تاکیدی حکم دیتے تھے اور ان سے کہتے تھے: ’’میں تم کو گورنر بنا رہا ہوں تاکہ تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ اور انہیں شریعت کا علم اور قرآن سکھاؤ۔‘‘
(نصیحۃ الملوک: صفحہ 72 ) نیز گورنروں کی قرارداد تقرری میں ملکی قوانین کی پابندی کے ساتھ ایک قرارداد یہ بھی ہوتی تھی کہ فلاں نماز اور جنگ کے امیر ہوں گے۔ چنانچہ اسی مناسبت سے ایک قرارداد میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو نماز اور جنگ کا، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو محکمہ قضاء اور بیت المال کا امیر بنایا۔
(الأحکام السلطانیۃ: صفحہ 33) جن فقہاء نے اسلامی سیاست پر کتابیں تحریر کی ہیں انہوں نے امیر کے لیے نماز کی اہمیت پر خوب روشنی ڈالی ہے اور اس کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے دینی و دنیوی فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 67)