شرعی حدود کا قیام
علی محمد الصلابیمصر کے گورنر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے پر حد نافذ کی اور پھر حضرت عمرؓ نے خود بھی کوڑے لگا کر اسے سزا دی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ کی اس سزا کے بعد کچھ ہی دنوں بعد اس لڑکے کی وفات ہو گئی۔
(مناقب عمر بن الخطاب: ابن الجوزی: صفحہ: 240، 242) ابتداء میں گورنر کو اختیار تھا کہ خلیفہ سے اجازت لیے بغیر بھی وہ قصاص میں حد قتل نافذ کر سکتا تھا لیکن بعد میں حضرت عمرؓ نے تمام گورنران کو فرمان جاری کیا کہ میری اجازت کے بغیر کسی پر حد قتل نافذ نہ کرو۔
(الوثائق السیاسیۃ للعہد النبوی والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 521) چنانچہ اس کے بعد گورنران حد قتل نافذ کرنے سے پہلے آپؓ سے اجازت لے لیا کرتے تھے۔ کیونکہ شرعی حدود قائم کرنے کا تعلق دینی و دنیوی دونوں سے تھا اور جس میں خلفاء اور گورنران سب کو دقت نظری سے کام لینا واجب تھا، اسی وجہ سے وہ لوگ جس طرح دین اسلام کے مختلف شعائر کا اہتمام کرتے تھے اسی طرح اس کا بھی اہتمام کرتے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 70)