آمدم برسر مطلب
حامد محمد خلیفہ عمانقاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ کی بابت خود شیعی شہادتوں کو ان کی زبانی جمع کرنے کے بعد ہم دوبارہ اپنی بحث کی طرف لوٹتے ہیں۔
یہ ایک بے غبار حقیقت ہے کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر دھوکہ دینے والے ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمن‘‘ تھے۔ یہی لوگ قتل حسین رضی اللہ عنہ کا پہلا سبب تھے اور یہی لوگ آج تک فتنہ کی اس آگ کو پھونکیں مار مار کر مزید بھڑکا رہے ہیں اور امت مسلمہ کے ساتھ مکر و فریب کرنے سے دست کش ہونے سے ہرگز بھی تیار نہیں بلکہ ہر لحظہ اس مشن کے لیے کمربستہ اور تیار و مستعد ہیں۔ یہ کوفی طبقہ چراغ توحید کی روشنی پھیلاتی لَو کو بجھا کر امت مسلمہ کو مجوسی رسوم و روایات اور عقائد و عبادات کے چنگل میں پھنسا دینا چاہتے ہیں۔ نام نہاد محبانِ حسین کے یہ خطوط جہاں ایک گہرا مکر تھا، وہیں اسلام اور اکابر اسلام کے ساتھ ایک گہرا مذاق بھی تھا جو بتلاتے ہیں کہ سیدنا حسین اور ان کی اولاد کے قتل کا خون کن کے سر پر ہے۔
چنانچہ شیعوں کے ایک بے حد معتبر اور ثقہ عالم محسن الامین اپنے قلم سے لکھتا ہے:
’’بیس ہزار عراقیوں نے حسین (رضی اللہ عنہ) کی بیعت کی تھی، پھر غداری کرتے ہوئے، اس بیعت کو توڑ دیا اور الٹا حسین (رضی اللہ عنہ) کے خلاف خروج کر کے انہیں قتل کر ڈالا، حالانکہ اس وقت حسین (رضی اللہ عنہ) کی بیعت ان کی گردنوں میں تھی۔‘‘
(اعیان الشیعۃ، محسن الامین: جلد، 1 صفحہ 24)
یاد رہے کہ ایسا حالات کی بدلتی صورتِ حال کے ناگزیر نتیجہ کی بنا پر نہ تھا بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی اور طے شدہ سازش کا نتیجہ تھا، جو سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو کشاں کشاں مقتل کی طرف لے گیا تھا۔ چنانچہ کوفیوں سے قتال سے قبل حضرت حسین رضی اللہ عنہ انہیں ارشاد فرماتے ہیں:
’’کیا تم لوگوں نے مجھے یہ نہ لکھ بھیجا تھا کہ پھل پک چکے اور آپ اپنی تیار فوج کی طرف چلے آئیے؟ اے جماعت! تمہارے لیے ہلاکت ہو؟ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جنہوں نے بڑی بے قراری سے ہم سے مدد کی فریادیں کی تھیں، پھر اسی تلوار کو ہم پر تیز کر دیا جو ہمارے ہاتھوں میں تھی، اور اس آگ کو ہم پر ہی اور زیادہ بھڑکا دیا، جو ہم نے اپنے اور تمہارے دشمنوں کے لیے جلائی تھی اور اب تم اپنے ہی دوستوں کے خلاف اکٹھ کیے کھڑے ہو، تمہارا ناس ہو کہ اب تم دشمنوں کا دست و بازوبنے ہوئے ہو۔ تم لوگ مکھیوں کی طرح اُڑ اُڑ کر ہماری بیعت کی طرف تیزی سے لپکے تھے، اور پروانوں کی طرح ہم پر ٹوٹ کر گرے تھے، پھر تم ہی لوگوں نے حماقت کرتے ہوئے اس بیعت کو توڑ ڈالا۔ (تم لوگ) اس امت کے (طاغوت ہو، اور اس امت کے) طاغوتوں کے لیے ہلاکت اور دُوری ہو۔‘‘ (تاریخ دمشق: جلد، 14 صفحہ 218 الاحتجاج للطبرسی: صفحہ 145 طبعۃ طہران)
کوفی لشکر میں حر بن یزید نامی ایک آدمی بھی تھا، جو اپنے ارادوں پر نادم ہو کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ آ ملا تھا۔ اس نے کوفیوں کو للکار کر کہا:
’’کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو کہ پہلے رب کے اس نیک بندے کو بلایا، پھر جب وہ تمہارے پاس چلا آیا، تو اسے چھوڑ کر اس کے دشمن بن گئے تاکہ اسے قتل کر دو؟ اور اب وہ تمہارے ہاتھوں میں ایک قیدی کی طرح ہے۔ اللہ تمہیں پیاس کے دن پینے کو کچھ نہ دے۔‘‘ (الارشاد للشیخ المفید الشیعی: صفحہ 234)
پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں بددعا دیتے ہوئے فرمایا:
’’اے اللہ! اگر تو نے انہیں ایک وقت تک مہلت دی، تو انہیں فرقہ فرقہ کر دینا اور انہیں کئی راستوں والا بنا دینا، ان سے کوئی والی کبھی راضی نہ ہو کہ ان لوگوں نے ہمیں ہماری مدد کرنے کے لیے بلایا، لیکن پھر ہمارے دشمن بن گئے اور ہمیں قتل کرنے لگے۔‘‘ (الارشاد للمفید: صفحہ 241)
کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بعد قاتلانِ حسینؓ کی تحدید و تعیین میں کسی شخص کے لیے کہنے کو کچھ باقی رہ گیا ہے؟ جب کوفیوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کی غداری و عیاری اور خیانت و دغا بازی کھل کر سامنے آ گئی، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ ارشاد فرمایا:
’’تم لوگ ہمیں چھوڑتے ہو؟ ہاں! اللہ کی قسم! تم لوگ جفا کار ہو، تمہاری جفاکاری معروف ہے، تمہاری اگلی پچھلی نسلیں اس مذموم صفت کی رسیا اور گرویدہ ہیں، تم اس درخت کا پھل ہو جو دیکھنے والے کے لیے خبیث ترین اور کھانے والے کے لیے بدترین ہے۔ سن لو! جن لوگوں نے عہدوں کو پختہ کرنے کے بعد اور اس پر رب کو ضامن و کفیل بنانے کے بعد ان کو توڑ ڈالا، ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ظلم دو چیزوں کے درمیان مضبوط ہوا ہے، سوال اور ذلت کے درمیان۔ یہ ذلت مجھ سے دُور ہو، اللہ، اس کا رسول اور اہل ایمان اس کمینگی سے انکار کرتے ہیں۔ غیرت مند گودیں، پیٹ اور ناک مر جانا قبول کر لیتے ہیں لیکن اپنی اولادوں کو کمینی انّاؤ ں کے حوالے نہیں کرتے۔ سن لو! میں اپنے خاندان کے ان چند افراد کو لے کر جا رہا ہوں، جبکہ ہمارے دشمن تعداد میں زیادہ ہیں اور وفادار جفاکار ہو چکے ہیں۔‘‘
پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یہ شعر پڑھا:
فان نہزم فہزّاموان قدما
و ان نہزم فغیر مہزمینا
و ما ان طبنا جبن و لکن
منایانا و طعمۃ آخرینا
’’اگر ہم نے دشمنوں کو شکست دے دی، تو یہ ہماری پرانی عادت چلی آتی ہے کہ ہم دشمنوں کو شکست دیا کرتے ہیں اور اگر ہم شکست کھا گئے، تو یہ عارضی شکست ہو گی کہ ہم دشمنوں سے بری طرح شکست نہیں کھایا کرتے۔
اگر ہم خوش ہیں، تو یہ بزدلی نہیں بلکہ یہ ہماری موت کے فیصلے ہیں، جبکہ دوسروں (یعنی دشمنوں ) کے لیے ذریعہ معاش ہے (کہ انہیں ہمیں قتل کر کے بڑے بڑے انعام ملیں گے)۔‘‘
(پھر فرمایا):
’’پھر تم اتنی دیر ہی ٹھہرنا جتنی دیر میں گھوڑے پر سوار ہونے میں لگاؤں، یہاں تک کہ گھمسان کی جنگ شروع ہو جائے اور میں تمہیں بھی اسی بات کا عہد دیتا ہوں، جو نبی کریمﷺ نے میرے والد کو دیا تھا اور وہ رب تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:
فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَکُمْ وَ شُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ لَا یَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّۃً ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِo (سورۃ یونس: آیت 71)
’’سو تم اپنا معاملہ اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کر لو، پھر تمھارا معاملہ تم پر کسی طرح مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ کرگزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ (تاریخ دمشق: جلد، 14 صفحہ 218)
اس خطاب میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یہ بات صاف صاف بتلا رہے ہیں کہ جن لوگوں نے انہیں دعوت دی خاص طور پر اہل کوفہ، وہ غدار و جفاکار ہیں، اور غداری اور جفاکاری ان کے اصول و فروع کی جڑوں میں گھسی ہوئی ہے۔ یہ لوگ شجرۂ خبیثہ ہیں، یہ عہدوں کو پختہ کرنے کے بعد ان کو توڑ دینے والے ہیں۔ اُمت مسلمہ جانتے ہیں کہ یہ ان منافقوں کا حال ہے، جن سے بچنے کی نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کو سخت تاکید کی تھی۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا تاکید کے ساتھ اس بات کو بیان کرنا کہ یہ اہل کوفہ کی صفات ہیں اور وہ نسل در نسل ان صفات سے آراستہ چلے آ رہے ہیں، ان کے منافق اور خائن و غدار ہونے کی بلیغ ترین شہادت ہے۔ پھر اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ان کو لعنت کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل کوفہ دنیا و آخرت میں ہلاک و برباد ہوئے اور انہیں دونوں جہانوں کی رسوائی ملی۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو یہ بھی باور کروایا کہ آل بیت رسولﷺ عربوں کے سردار اور ان کے رہنما ہیں، مداہنت اور عہد شکنی ان کا شیوہ نہیں۔ وہ تو صبر و جرأت کے پیکر اور آخرت اور اس کی نعمتوں کے طالب ہیں نہ کہ دنیا کے طالب ہیں، جیسے میدان کربلا کے غدار اور عہد شکن کوفی تھے، جنہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ان کی زندگی میں بھی کھایا اور بالآخر ان کی جان لے لی، اور ان کی شہادت کے بعد آج تک ان کے نام پر کھا رہے ہیں۔ آخر روزِ قیامت رب کے روبرو یہ کس منہ سے جناب حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے آئیں گے؟
چنانچہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نور نظر سیدنا علی بن حسین بن علی بن ابی طالب المعروف بہ امام زین العابدین رحمۃ اللہ کوفہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے کوفیوں کی عورتوں کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
’’یہ عورتیں ہم پر رو رہی ہیں، تو پھر ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟‘‘
یعنی تمہارے سوا ہمارا قاتل پھر کون ہے؟ (تاریخ الیعقوبی للیعقوبی: جلد، 1 صفحہ 235)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جب خلافت سے دست بردار ہو کر سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے صلح کر لی، تو اہل بیت سے محبت کے دعوے داروں میں ، جو دراصل قاتلان علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما تھے اور بعد میں ان ہی لوگوں کی قسمت میں خونِ حسین کرنے کی بدبختی بھی لکھی جا چکی تھی، خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا:
’’اے اہل کوفہ! مجھے تین باتوں کی وجہ سے تم لوگ اچھے نہیں لگتے:
(1) تم لوگوں نے میرے باپ کو قتل کیا۔
(2) تم لوگوں نے میرا سامان لوٹا۔
(3) اور تم لوگوں نے میرے پیٹ میں کدال کا وار کیا۔
اب سن لو کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ہے، ان کی بات سنو اور مانو۔‘‘
حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر بنی اسد کے ایک آدمی نے کدال لے کر وار کیا تھا اور ران کا گوشت پھاڑ دیا حتیٰ کہ ہڈی نظر آنے لگی تھی۔ (کشف الغمۃ للمفید: صفحہ 54)
اس خطبہ میں اہل کوفہ کے دو سنگین ترین جرائم کا بیان ہے۔ امیر المومنین جناب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کو شہید کرنا اور سبط رسول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی نامسعود سعی کرنا، پھر ان کے ساتھ قتل حسین رضی اللہ عنہ جیسے جرم کو بھی ملا لیا جائے، تو یہ جرائم کا ایک ایسا مجموعہ بن جاتا ہے، جس کے برابر کوئی دوسرا جرم نہیں پایا جا سکتا۔ اب جو لوگ امت مسلمہ کے ساتھ غدر و خیانت کرنے اور اس کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے ان گھناؤ نے اور عیار دشمنوں کا دانستہ یا نادانستہ دفاع کرتے ہیں، دراصل یہ لوگ بھی امت کی گھات میں لگے بیٹھے ہیں اور ان کی جملہ مالی و جانی قوتیں ان غارت گروں اور شریر لوگوں کی معاونت میں صرف ہو رہی ہیں، جو ہر دور میں مسلمانوں کو سنت نبویہ سے دور کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لانے میں لگے ہوتے ہیں۔