Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آمدم برسر مطلب

  حامد محمد خلیفہ عمان

شیعہ حضرات کی قتلِ حسین رضی اللہ عنہ اور مظالم اہل بیت کے نام پر کی جانے مظلومیت کی حقیقت کو خود انہی کی کتابوں، روایات، مسائل و فتاویٰ اور اجماع وغیرہ سے بیان کرنے کے بعد ہم اپنی پہلی بات کی طرف لوٹتے ہیں:

فی زمانہ ہماری یہ بے حد اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے اصل مجرموں کے چہروں کو بے نقاب کریں اور اس بات سے خبردار اور آگاہ رہیں کہ یہ اعدائے صحابہ کوفی رافضی سبائی امت مسلمہ کے عقیدہ و عمل کو غارت کرنے کے لیے کن کن وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں۔

ان رافضیوں نے امت مسلمہ کو فتنوں کے گرداب میں گھیرے رکھنے اور ان کے قلوب و اذہان کو دوبارہ جاہلیت کی دلدل میں دھکیلنے کے لیے آل بیت رسول کے ساتھ ہونے والے مظالم کی آڑ میں مکر و فریب کے گہرے جال بچھائے۔ اس میدان میں مورخین کی تحریروں نے امت مسلمہ کے دلوں پر نہایت خطرناک اثرات مرتب کیے ہیں۔ چونکہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان اعداء کے مجوسی کبر کا سر توڑا تھا اور کسرویت کے بت کو پاش پاش کر کے مجوسیت کو پیوند خاک کیا تھا، اس لیے ان کے دلوں سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بغض اور کینہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔

اگر ہم اسلام سے قبل کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالیں، تو ہمیں عربوں میں شرافت و سیادت کے علم و حلم اور جود و کرم کے میدان میں جو خاندان سب پر فائق نظر آتا ہے، وہ بنو قریش ہیں جو عبد مناف کی اولاد ہیں۔ پھر یہ خاندان آگے چل کر دو خاندانوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، بنو ہاشم اور بنو امیہ۔ یہ دونوں خاندان ہمیشہ شرافت و قیادت اور اعلیٰ صفات میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں رہے۔ اس تنافس و تقابل نے ان دونوں خاندانوں کی عزت و شرافت کو اور چار چاند لگا دئیے۔ یہاں تک کہ نبی کریمﷺ نبوت سے سرفراز ہوئے اور اب عزت و شرافت کے پیمانے بدل گئے۔ قریشی سرداروں نے اس امر کو جان لیا کہ امر نبوت میں منافست و مسابقت کی گنجائش نہیں اور وہ مر کر بھی یہ رتبہ پا نہیں سکتے، اس لیے وہ اسلام کی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے اور اس میدان میں اپنی ساری قوتیں اور صلاحتیں جھونک ماریں۔ لیکن جب توفیق الٰہی سے اسلام لانے کا شرف نصیب ہوا اور وہ نبوت کا معنی سمجھ گئے، تو ایک بار پھر تنافس کے میدان میں اتر آئے۔ لیکن اب کی بار ان کے ہاتھوں میں اس تنافس و مسابقت کے اور ہی پیمانے اور معیارات و موازین تھے اور یہ تھے نیکیوں اور پاکیزہ کاموں میں مسابقت کے پیمانے، جن کا گزشتہ جاہلی اقدار سے ذرا بھی تعلق نہ تھا۔ جس کے نتیجہ میں رب تعالیٰ نے روئے زمین کو ان کے آگے سرنگوں کر دیا، فتوحات کے دروازے کھلے، امن و رفاہیت کا دور دورہ ہونے لگا۔ عقیدہ و ثقافت کی حفاظت و صیانت کے لیے جانیں قربان کی جانے لگیں۔ قرآن کریم کو جمع کیا گیا، سنت نبویہ کی تدوین ہوئی اور کتاب و سنت کے دو مضبوط ترین ستونوں پر قائم اسلامی تہذیب و ثقافت اور معاشرہ و ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا۔ لیکن افسوس! اسی مقام پر آ کر ہمارے شعراء، ادباء، خطباء، مورخین اور قلم نگار اعدائے صحابہ کے دام مکر و فریب میں جا الجھے اور ان کے بنائے منصوبوں کی بھینٹ چڑھتے چلے گئے۔ جن کو کسریٰ کی ایرانی مجوسی حکومت کے سقوط کا بے حد غم تھا۔ چنانچہ انہوں نے ایک بار پھر انہی جاہلی نعروں کو زندہ کر دیا، جن کو اسلام نے موت کی نیند سلا دیا تھا، بالخصوص بنو امیہ کے بارے میں ان اعدائے صحابہ نے بے حد زہر اگلا، گویا کہ اسلام سب کے گزشتہ گناہوں کو معاف کر دے گا سوائے بنو امیہ کے۔ پھر وہ ہوا جو نہ ہونا چاہیے تھا کہ امت مسلمہ کے بے خبر طبقہ نے اور ان کے ساتھ ساتھ جن کے دلوں میں اسلام کے خلاف کوئی روگ تھا، انہوں نے اعدائے صحابہ کے اُگلے اس زہر کو چاٹا، جو انہوں نے بنو امیہ پر پھنکارا تھا اور وہ بنوامیہ کے محاسن، محامد، خصائل، شمائل، سب کو ہی تو امت مسلمہ کے قلب و ذہن سے حرفِ غلط کی طرح نکال دینا چاہتے تھے۔ ان اعدائے صحابہ نے بنو امیہ کی ہر خوبی سے آنکھیں موندھ لیں۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اموی ہی تو تھے، جنہوں نے قرآن کو جمع کیا تھا۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ بھی تو اموی ہی تھے، جنہوں نے سنت کی سب سے پہلے تدوین کی اور فتوحات اسلامیہ کے دائرہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ اموی کے ہاتھوں اس قدر پھیلا کہ عقل مارے دہشت کے دنگ رہ جاتی ہے۔

لیکن اعدائے صحابہ تو کسی اور ہی مشن پر تھے، وہ جناب رسول اللہﷺ کے ان چچیروں کی کردار کشی کے نشہ میں دھت تھے جن کے دل آل بیت کی محبت سے سرشار تھے۔ نبی کریمﷺ اپنے چچا زادوں کی اس قدر عزت فرماتے تھے کہ ان کو اپنی تین بیٹیاں نکاح میں دیں، جبکہ اپنے آل بیت کو اپنی صرف ایک بیٹی نکاح میں دی۔ کیا یہ بنو امیہ کے صدق و صفاء اور محبت و وفاء کی کھلی دلیل نہیں۔ جناب رسول اللہﷺ جب عالم آخرت کو رحلت فرماتے ہیں، تو آپ کے اکثر عمال بنو امیہ سے تھے، جبکہ آل بیت سے ایک بھی عامل نہ تھا۔ بلاشبہ یہ وہ ناقابل تردید حقائق ہیں، جو اعدائے صحابہ کے افک و افتراء کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے قلتِ تدبر کے ساتھ تاریخ کے مطالعہ نے اور اسلامی سیاسی فقہ کے ماہر علماء کی قلت و ندرت نے اعدائے صحابہ کو پر پھیلانے کا موقعہ فراہم کر دیا اور انہوں نے امت مسلمہ کے جسد میں گھس گھس کر اپنی جگہ بنا لی اور تب سے وہ امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے اور ان کے عقائد و عبادات کو برباد کرنے میں لگے ہیں۔ اس کی نظیر ملاحظہ کرنا ہو تو امت عرب کو دیکھ لیجیے کہ وہاں کے نوجوانوں کو خود اپنے اوپر اعتبار اور اعتماد نہیں۔ وہ اپنے عقائد کو سبائی زہریلے پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر شک کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔

باوجود اس بات کے کہ ان کا دین و عقیدہ، رنگ و نسل، قوم قبیلہ اور زبان تک ایک ہے، پھر لطف یہ کہ ان سب کا دشمن بھی ایک ہے، پھر بھی امت عرب تنکوں کی طرح بکھر کر زندگی گزار رہی ہے بلکہ بسا اوقات تو ان کی دلی ہمدردیاں ہمیں دشمنوں کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ حیف صد حیف۔

اس کے بالمقابل آج ہم کئی قوموں کو دیکھ رہے ہیں جو رنگ و نسل، زبان، علاقہ، عقیدہ و مذہب تک میں مختلف ہونے کے باوجود صرف دو نکات پر مل کر اور ایک جتھا بنا کر جی رہے ہیں:

(1) ان کا ہدف اور فکر ایک ہے۔

(2) دوسرے ان سب کا دشمن ایک ہے۔

امریکی ریاستیں، ولایاتِ روس، چین اور بیش تر یورپی ممالک اس کی کھلی مثالیں ہیں۔ سوائے عربوں کے جو آج ایک دوسرے سے روٹھ روٹھ اور پھوٹ پھوٹ کر جی رہے ہیں۔ ایک امت ہونے کے باوجود ان میں سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی افتراق سب پر عیاں ہے۔ اس کی وجہ سوا اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ

٭ عقیدہ کی غیرت کی کمزوری

٭ اعدائے صحابہ کے ڈالے باہمی نزاعات اور جھگڑے

ان کا تدارک صحیح عقیدہ کا شعور بیدار کرنے، فکری، سیاسی، سماجی، اقتصادی اور معاشرتی اتحاد پیدا کرنے سیاسی فقاہت اجاگر کرنے، امت کی میراث، کتاب و سنت پر غیرت کھانے اور فکری تحفظ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے کہ یہ سب سے برتر عقیدہ ہے اور یہ کہ ہمارا عقیدہ سب سے برتر اور ہماری تہذیب و ثقافت سب سے پاکیزہ و ارفع ہے، جس کی شہادت صدرِ اسلام کے قرونِ ثلاثہ دیتے ہیں۔ اسی لیے اعدائے صحابہ نے قرونِ ثلاثہ کے اکابر کو ہی اپنا ہدف بنایا اور ان کے کردار کو شکوک و شبہات کی بھٹی میں جھونکنے کی ازحد کوشش کی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنے ان دشمنوں کو نام زَد اور بے نقاب کریں۔ ہم ڈنکے کی چوٹ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کی سیاسی تاریخ امن و سلامتی کا وہ گہوارہ ہے جس پر دنیا کے دوسرے مذاہب و اقالیم (مغرب اور یورپ سمیت) کی تاریخ کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ یورپ ہی تو ہے، جس نے دنیا پر دو عالمی جنگوں کو مسلط کر کے کروڑوں انسانوں کو لقمۂ اجل بنا دیا۔ یہ دونوں عالمی جنگیں بتلاتی ہیں کہ مغرب کا سینہ کس قدر کینہ پرور ہے اور اسے دوسروں کے قدرتی وسائل اور ذرائع حیات چھین لینے کی کس قدر حرص ہے اور یہ ہر ایک کے قدموں تلے سے اس کے وطن کی سرزمین کی چادر کھینچ لینا چاہتے ہیں۔

غرض اعدائے صحابہ کی داستانِ ظلم و مکر کو کہاں تک بیان کیجیے البتہ دو ٹوک بات یہ ہے کہ

جو بھی کتاب و سنت کے ان دشمنوں کے پیچھے چلے گا، ان کی باتوں، تہمتوں اور الزامات کو سچا جانے گا، بے شک وہ پرلے درجے کا غافل ہے اور دراصل وہ ان اعدائے صحابہ کے اباطیل کا مناد اور پرچارک ہے۔ ان میں سرفہرست وہ نام نہاد اصحاب علم و فقہ آتے ہیں جو ان اعدائے صحابہ کے ساتھ دوستی کے مدعی اور داعی ہیں، بے شک انہی نام نہاد علماء اور فقہاء کے کندھوں پر امت کی تضلیل و بے راہ روی کا گناہ ہو گا، چاہے یہ ان بدبختوں کی صفوں میں نہیں بھی کھڑے، جن کی زندگی کا مقصد وحید امت کی وحدت کو ختم کرنا اور ان میں بغض و عداوت کی روح پھونک کر خود اپنے مذہب و عقیدہ سے بے زار کرنا ہے۔

اب وقت ہے کہ ہم قاتلان حسین کے بارے میں ایک دو ٹوک فیصلہ کریں، ان کے عقیدہ کو واضح کریں اور نوجوانانِ امت سے اس بات کی درخواست کریں کہ وہ ان کے گھناؤ نے چہروں کو بے نقاب کریں۔ جس کی بنیاد امت کے اسلاف پر اعتماد اور حسن ظن پر ہو، جبکہ ان کے دشمنوں پر ہمیں شک رہے۔ چاہے وہ جس بھیس میں بھی ہمارے سامنے آئیں اور چاہے جو بھی نعرہ لگا کر ظاہر ہوں، جو شخص حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیاسی تاریخ، ان کے مظلومانہ قتل کے واقعات، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہونے والی غداری اور اعدائے صحابہ کے ہاتھوں ہونے والی ان کی مظلومانہ شہادت کی تاریخ سے واقف نہیں۔ بے شک وہ صحیح اسلامی تاریخ تاریخ سے ہرگز بھی واقف نہیں ہو سکتا۔ دوسرے ایسے شخص کو اسلامی تاریخ کے کسی بھی واقعہ پر نقد و تبصرہ کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ جو نصف النہار میں آفتاب کے دیکھنے سے قاصر ہے، وہ دوسری چیزوں کے دیکھنے سے بدرجۂ اولی اندھا ہو گا اور وہ سوائے سرابوں کی گمراہی کے اور کسی چیز کے پیچھے نہ چلے گا۔ اس بات میں افکار و اشخاص اور جماعات کسی کا بھی استثنا نہیں۔ جو ہمارے ائمہ کی سیرت سے نابلد ہے، اسے ان کے اقوال کے نقل کی اجازت نہیں، جب تک کہ وہ ان کے ضوابط، افکار، نظریات، اقدار اور اخلاق کو کماحقہ نہ جان لے۔