آمدم برسر مطلب - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

آمدم برسر مطلب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

’’سو تم اپنا معاملہ اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کر لو، پھر تمھارا معاملہ تم پر کسی طرح مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ کرگزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ (تاریخ دمشق: جلد، 14 صفحہ 218)

اس خطاب میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یہ بات صاف صاف بتلا رہے ہیں کہ جن لوگوں نے انہیں دعوت دی خاص طور پر اہل کوفہ، وہ غدار و جفاکار ہیں، اور غداری اور جفاکاری ان کے اصول و فروع کی جڑوں میں گھسی ہوئی ہے۔ یہ لوگ شجرۂ خبیثہ ہیں، یہ عہدوں کو پختہ کرنے کے بعد ان کو توڑ دینے والے ہیں۔ اُمت مسلمہ جانتے ہیں کہ یہ ان منافقوں کا حال ہے، جن سے بچنے کی نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کو سخت تاکید کی تھی۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا تاکید کے ساتھ اس بات کو بیان کرنا کہ یہ اہل کوفہ کی صفات ہیں اور وہ نسل در نسل ان صفات سے آراستہ چلے آ رہے ہیں، ان کے منافق اور خائن و غدار ہونے کی بلیغ ترین شہادت ہے۔ پھر اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ان کو لعنت کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل کوفہ دنیا و آخرت میں ہلاک و برباد ہوئے اور انہیں دونوں جہانوں کی رسوائی ملی۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو یہ بھی باور کروایا کہ آل بیت رسولﷺ عربوں کے سردار اور ان کے رہنما ہیں، مداہنت اور عہد شکنی ان کا شیوہ نہیں۔ وہ تو صبر و جرأت کے پیکر اور آخرت اور اس کی نعمتوں کے طالب ہیں نہ کہ دنیا کے طالب ہیں، جیسے میدان کربلا کے غدار اور عہد شکن کوفی تھے، جنہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ان کی زندگی میں بھی کھایا اور بالآخر ان کی جان لے لی، اور ان کی شہادت کے بعد آج تک ان کے نام پر کھا رہے ہیں۔ آخر روزِ قیامت رب کے روبرو یہ کس منہ سے جناب حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے آئیں گے؟

چنانچہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نور نظر سیدنا علی بن حسین بن علی بن ابی طالب المعروف بہ امام زین العابدین رحمۃ اللہ کوفہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے کوفیوں کی عورتوں کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر روتے دیکھا تو فرمانے لگے:

’’یہ عورتیں ہم پر رو رہی ہیں، تو پھر ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟‘‘

یعنی تمہارے سوا ہمارا قاتل پھر کون ہے؟ (تاریخ الیعقوبی للیعقوبی: جلد، 1 صفحہ 235)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جب خلافت سے دست بردار ہو کر سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے صلح کر لی، تو اہل بیت سے محبت کے دعوے داروں میں ، جو دراصل قاتلان علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما تھے اور بعد میں ان ہی لوگوں کی قسمت میں خونِ حسین کرنے کی بدبختی بھی لکھی جا چکی تھی، خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا:

’’اے اہل کوفہ! مجھے تین باتوں کی وجہ سے تم لوگ اچھے نہیں لگتے:

(1) تم لوگوں نے میرے باپ کو قتل کیا۔

(2) تم لوگوں نے میرا سامان لوٹا۔

(3) اور تم لوگوں نے میرے پیٹ میں کدال کا وار کیا۔

اب سن لو کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ہے، ان کی بات سنو اور مانو۔‘‘

حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر بنی اسد کے ایک آدمی نے کدال لے کر وار کیا تھا اور ران کا گوشت پھاڑ دیا حتیٰ کہ ہڈی نظر آنے لگی تھی۔ (کشف الغمۃ للمفید: صفحہ 54)

اس خطبہ میں اہل کوفہ کے دو سنگین ترین جرائم کا بیان ہے۔ امیر المومنین جناب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کو شہید کرنا اور سبط رسول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی نامسعود سعی کرنا، پھر ان کے ساتھ قتل حسین رضی اللہ عنہ جیسے جرم کو بھی ملا لیا جائے، تو یہ جرائم کا ایک ایسا مجموعہ بن جاتا ہے، جس کے برابر کوئی دوسرا جرم نہیں پایا جا سکتا۔ اب جو لوگ امت مسلمہ کے ساتھ غدر و خیانت کرنے اور اس کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے ان گھناؤ نے اور عیار دشمنوں کا دانستہ یا نادانستہ دفاع کرتے ہیں، دراصل یہ لوگ بھی امت کی گھات میں لگے بیٹھے ہیں اور ان کی جملہ مالی و جانی قوتیں ان غارت گروں اور شریر لوگوں کی معاونت میں صرف ہو رہی ہیں، جو ہر دور میں مسلمانوں کو سنت نبویہ سے دور کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لانے میں لگے ہوتے ہیں۔



صفحہ 2 از 2