آمدم برسر مطلب - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

آمدم برسر مطلب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

اس کے بالمقابل آج ہم کئی قوموں کو دیکھ رہے ہیں جو رنگ و نسل، زبان، علاقہ، عقیدہ و مذہب تک میں مختلف ہونے کے باوجود صرف دو نکات پر مل کر اور ایک جتھا بنا کر جی رہے ہیں:

(1) ان کا ہدف اور فکر ایک ہے۔

(2) دوسرے ان سب کا دشمن ایک ہے۔

امریکی ریاستیں، ولایاتِ روس، چین اور بیش تر یورپی ممالک اس کی کھلی مثالیں ہیں۔ سوائے عربوں کے جو آج ایک دوسرے سے روٹھ روٹھ اور پھوٹ پھوٹ کر جی رہے ہیں۔ ایک امت ہونے کے باوجود ان میں سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی افتراق سب پر عیاں ہے۔ اس کی وجہ سوا اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ

٭ عقیدہ کی غیرت کی کمزوری

٭ اعدائے صحابہ کے ڈالے باہمی نزاعات اور جھگڑے

ان کا تدارک صحیح عقیدہ کا شعور بیدار کرنے، فکری، سیاسی، سماجی، اقتصادی اور معاشرتی اتحاد پیدا کرنے سیاسی فقاہت اجاگر کرنے، امت کی میراث، کتاب و سنت پر غیرت کھانے اور فکری تحفظ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے کہ یہ سب سے برتر عقیدہ ہے اور یہ کہ ہمارا عقیدہ سب سے برتر اور ہماری تہذیب و ثقافت سب سے پاکیزہ و ارفع ہے، جس کی شہادت صدرِ اسلام کے قرونِ ثلاثہ دیتے ہیں۔ اسی لیے اعدائے صحابہ نے قرونِ ثلاثہ کے اکابر کو ہی اپنا ہدف بنایا اور ان کے کردار کو شکوک و شبہات کی بھٹی میں جھونکنے کی ازحد کوشش کی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنے ان دشمنوں کو نام زَد اور بے نقاب کریں۔ ہم ڈنکے کی چوٹ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کی سیاسی تاریخ امن و سلامتی کا وہ گہوارہ ہے جس پر دنیا کے دوسرے مذاہب و اقالیم (مغرب اور یورپ سمیت) کی تاریخ کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ یورپ ہی تو ہے، جس نے دنیا پر دو عالمی جنگوں کو مسلط کر کے کروڑوں انسانوں کو لقمۂ اجل بنا دیا۔ یہ دونوں عالمی جنگیں بتلاتی ہیں کہ مغرب کا سینہ کس قدر کینہ پرور ہے اور اسے دوسروں کے قدرتی وسائل اور ذرائع حیات چھین لینے کی کس قدر حرص ہے اور یہ ہر ایک کے قدموں تلے سے اس کے وطن کی سرزمین کی چادر کھینچ لینا چاہتے ہیں۔

غرض اعدائے صحابہ کی داستانِ ظلم و مکر کو کہاں تک بیان کیجیے البتہ دو ٹوک بات یہ ہے کہ

جو بھی کتاب و سنت کے ان دشمنوں کے پیچھے چلے گا، ان کی باتوں، تہمتوں اور الزامات کو سچا جانے گا، بے شک وہ پرلے درجے کا غافل ہے اور دراصل وہ ان اعدائے صحابہ کے اباطیل کا مناد اور پرچارک ہے۔ ان میں سرفہرست وہ نام نہاد اصحاب علم و فقہ آتے ہیں جو ان اعدائے صحابہ کے ساتھ دوستی کے مدعی اور داعی ہیں، بے شک انہی نام نہاد علماء اور فقہاء کے کندھوں پر امت کی تضلیل و بے راہ روی کا گناہ ہو گا، چاہے یہ ان بدبختوں کی صفوں میں نہیں بھی کھڑے، جن کی زندگی کا مقصد وحید امت کی وحدت کو ختم کرنا اور ان میں بغض و عداوت کی روح پھونک کر خود اپنے مذہب و عقیدہ سے بے زار کرنا ہے۔

اب وقت ہے کہ ہم قاتلان حسین کے بارے میں ایک دو ٹوک فیصلہ کریں، ان کے عقیدہ کو واضح کریں اور نوجوانانِ امت سے اس بات کی درخواست کریں کہ وہ ان کے گھناؤ نے چہروں کو بے نقاب کریں۔ جس کی بنیاد امت کے اسلاف پر اعتماد اور حسن ظن پر ہو، جبکہ ان کے دشمنوں پر ہمیں شک رہے۔ چاہے وہ جس بھیس میں بھی ہمارے سامنے آئیں اور چاہے جو بھی نعرہ لگا کر ظاہر ہوں، جو شخص حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیاسی تاریخ، ان کے مظلومانہ قتل کے واقعات، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہونے والی غداری اور اعدائے صحابہ کے ہاتھوں ہونے والی ان کی مظلومانہ شہادت کی تاریخ سے واقف نہیں۔ بے شک وہ صحیح اسلامی تاریخ تاریخ سے ہرگز بھی واقف نہیں ہو سکتا۔ دوسرے ایسے شخص کو اسلامی تاریخ کے کسی بھی واقعہ پر نقد و تبصرہ کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ جو نصف النہار میں آفتاب کے دیکھنے سے قاصر ہے، وہ دوسری چیزوں کے دیکھنے سے بدرجۂ اولی اندھا ہو گا اور وہ سوائے سرابوں کی گمراہی کے اور کسی چیز کے پیچھے نہ چلے گا۔ اس بات میں افکار و اشخاص اور جماعات کسی کا بھی استثنا نہیں۔ جو ہمارے ائمہ کی سیرت سے نابلد ہے، اسے ان کے اقوال کے نقل کی اجازت نہیں، جب تک کہ وہ ان کے ضوابط، افکار، نظریات، اقدار اور اخلاق کو کماحقہ نہ جان لے۔


صفحہ 2 از 2