Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ جلولاء

  علی محمد الصلابی

فارسیوں نے اپنے شہر جلولاء کے چوراہے میں اجتماع کیا اور ایک دوسرے کو جنگ پر ابھارا، کہا کہ اگر آج تم میں اختلاف ہوا تو پھر کبھی متحد نہیں ہو سکتے، یہ ایسا موقع ہے کہ ہم سب عربوں کے خلاف متحد ہو جائیں اور ان سے جنگ کریں، اگر ہم کامیاب ہوئے تو یہی ہمارا مقصد ہے اور اگر شکست سے دوچار ہوئے تو بھی کوئی عیب نہیں، کیونکہ ہم نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور معذور رہے۔ اس کے بعد سب نے مہران رازی کی قیادت میں عربوں کے خلاف متحدہ محاذ بنایا اور اپنے شہر کے چاروں طرف خندق کھود کر اس پر لکڑی کی خاردار باڑ باندھ دی، البتہ جن راستوں سے گزرنا تھا ان پر باڑ نہ باندھی۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کو صورت حال کی خبر بھیجی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جوابی تحریر میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں بارہ ہزار (12000) فوج جلولاء روانہ کریں۔ مقدمہ پر حضرت قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ، میمنہ پر مسعر بن مالک، میسرہ پر عمرو بن مالک بن عتبہ اور ساقہ پر عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہم کو مقرر کریں۔ چنانچہ ہاشم اپنی فوج لے کر روانہ ہوئے اور جلولاء کا محاصرہ کیا۔ فارسی ادھر ادھر چھپتے رہے، کبھی کبھار ہی باہر نکلتے، اس دوران مختلف مواقع پر مسلمانوں نے ان پر اسی (80) حملے کیے اور ہر مرتبہ انہیں کامیابی ملی۔ متعدد جھڑپوں کے دوران فارسی دشمنوں کو پیچھے دھکیلا اور مسلمانوں کا راستہ روکنے کے لیے انہوں نے لکڑیوں کے جو خاردار باڑ باندھے تھے اسے توڑ دیا۔ دشمن نے دوبارہ کوشش کر کے لوہے کے خاردار باڑ باندھ دی۔ حضرت ہاشم رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں میں کھڑے ہوئے اور کہا: یہی منزل کٹھن ہے، اس کے بعد کے مرحلے آسان ہیں۔ حضرت سعدؓ نے مدد کے لیے شہ سواروں کی مزید فوجی کمک بھیجی، جب محاصرہ طویل ہوگیا اور دشمن مسلمانوں کے صبر سے تنگ آگئے تو جنگ کے قطعی فیصلہ کے ساتھ آگے بڑھے، حضرت ہاشم رضی اللہ عنہ نے اپنے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: رضائے الہٰی کے لیے جنگ میں پوری شجاعت وجانبازی دکھاؤ تاکہ اللہ تم کو مال غنیمت اور اجر عظیم کا پورا پورا حصہ عطا کرے۔ اللہ کے لیے قدم بڑھاؤ، دشمن پر جھپٹ پڑو، اور جنگ کا بگل بجا دو۔ ادھر معرکہ شروع ہوا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے سخت آندھی و طوفان بھیجا، پورا شہر و میدان کارزار گردوغبار سے تاریک ہو گیا۔ دشمن کے پاس دفاع کے علاوہ اقدام کی کوئی طاقت نہ رہی۔ اس کے شہ سوار اپنی ہی تیار کیے ہوئی خندق میں گرنے لگے، ایسی حالت میں ان کے لیے ضروری ہو چکا تھا کہ اپنے گھوڑوں کو آگے بڑھانے کے لیے خندق کو پاٹ ڈالیں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اپنی طرف کی خندق پاٹ دی اور اپنے ہاتھوں سے بچاؤ کا جو قلعہ تیار کیا تھا اسے خود ہی مسمار کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 475)

جب مسلمانوں کو خبر ملی کہ دشمنوں نے خندق پاٹ دی ہے تو آپس میں طے کیا کہ ہم کیوں نہ دوبارہ زبردست حملہ کریں، انہیں موت کے گھاٹ اتار دیں یا خود شہید ہو جائیں؟ اس طرح مسلمان دوسرے مرحلے میں ان سے جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، لیکن جب خندق کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوہے کی خاردار باڑ باندھی ہوئی ہے تاکہ مسلم شہ سوار آگے نہ بڑھ سکیں اور جن راستوں سے مسلمانوں پر حملہ کرنا ہے صرف انہی جگہوں کو خالی رکھا گیا ہے۔ بہرحال مسلمان اندر گھسے اور بڑا خون ریز معرکہ ہوا۔ اس کی نوعیت قادسیہ کے ’’لیلۃ الہریر‘‘ جیسی تھی، بس فرق اتنا تھا کہ یہاں کی کارروائی مختصر تھی اور جلد ہی اختتام کو پہنچ گئی۔ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ جس سمت سے حملہ آور ہوئے تھے اسی طرف سے اندر گھس گئے اور خندق کے صدر دروازہ تک پہنچ کر اپنے ایک مجاہد ساتھی سے کہا کہ بلند آواز سے کہو: اے مسلمانو! ادھر دھیان دو، تمہارا امیر دشمن کی خندق کے صدر دروازہ تک پہنچ چکا ہے، اس کی طرف بڑھو، تمہیں آگے بڑھنے سے کوئی روک نہ پائے۔ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے یہ تدبیر اس لیے اختیار کی تھی تاکہ مسلمانوں کے دل چھوٹے نہ ہوں، بلکہ انہیں عزم و حوصلہ کی طاقت ملے۔ بہرحال مسلمانوں نے نہایت جواں مردی کے ساتھ حملہ کیا اور انہیں قطعاً یہ شک نہ ہوا کہ ہاشم وہاں نہیں ہو سکتے۔ اس طرح جنگ کو گرماتے اور تیر و تفنگ کو چلاتے ہوئے وہ خندق کے صدر دروازے تک پہنچ گئے، وہاں دیکھا کہ حضرت ہاشم رضی اللہ عنہ نہیں حضرت قعقاعؓ ہیں اور دروازہ پر ڈٹے ہیں اور دشمن دائیں بائیں بھاگ رہے ہیں اور جو خار دار باڑ مسلمانوں کے لیے لگائی تھی وہی ان کے لیے مصیبت بن گئی، ان کے گھوڑے اس سے مرنے لگے پھر دشمن پیدل بھاگ کھڑے ہوئے، مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور دوڑا دوڑا کر سب کو قتل کر دیا، صرف چند ایک بچ سکے۔ اس دن اللہ کی مدد سے تقریباً ایک لاکھ فارسی مارے گئے، آگے پیچھے، دائیں بائیں غرضیکہ پورے میدان پر جیسے مقتولین کی لاشوں کی چادر بچھا دی گئی ہو اور اسی وجہ سے اسے جلولاء (جلولاء کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو چادر وغیرہ سے ڈھانپ دینا) کہا جاتا ہے۔ یہ ہے معرکہ جلولاء کی روداد۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 475)