فلاسفہ کے اقوال
امام ابنِ تیمیہؒفلاسفہ کے اقوال
ان فلاسفہ کے ایسے اقوال ہیں جو عقلی اعتبار سے فاسد ہیں اور وہ انہوں نے اپنے ان اسلاف سے حاصل کئے ہیں جو ان کے آئمہ ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ انبیائے کرام سے جو باتیں تواتر کے ساتھ منقول ہیں وہ عقل کے خلاف ہیں پس یہ اپنے باطنی طریقے پر چلے ہیں چنانچہ انہوں نے کہا کہ رسولوں نے علم اور ان حقائق کو بیان نہیں کیا کہ جن کو امورِ علمیہ میں برہان قائم ہوتا ہے یعنی وہ مدلل ہوتے ہیں پھر ان میں سے بعض وہ ہیں جنہو ں نے یہ کہا کہ رسولوں نے خود ان باتوں کو جان لیا لیکن اس کو واضح طور پر بیان نہیں کیاجبکہ بعض وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ رسولوں کو خود ان امور کا علم نہیں تھا بلکہ وہ تو حکمت علمیہ میں گہرائی تک پہنچنے والے تھے لیکن وہ حکمت عملیہ کے تہہ تک توپہنچے ہوئے تھے لیکن حکمتِ علمیہ پردسترس نہیں رکھتے تھے لیکن وہ جمہور کے ساتھ ایک ایسے خطاب کے ساتھ ہم کلام ہوئے جو اُن باطل اوہام اور خیالات پر مبنی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخر ت کے دن پر ایمان کے معاملے میں ان کے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں ،جن کا اعتقاد اُن کے لیے اپنی سیاست میں نافع نہیں ہے اگرچہ یہ اعتقاد باطل ہے اور حقائق کے مطابق نہیں ہے۔
یہ فلاسفہ اس کی تاویل کو بھی جائز نہیں سمجھتے کیوں کہ ان کے نزدیک اس سے مقصود تخییل ہے اور تاویل تو ان کے مقصود کے معارض اور مناقض ہے اور وہ عبادات کا تو اقرار کرتے ہیں لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کا مقصود تو نفس کے اخلاق کی اصلاح ہے اور بسا اوقات یہ کہتے ہیں کہ یہ عبادات ان خاص لوگوں سے یعنی خواص سے ساقط ہیں جو حقائق کی معرفت رکھتے ہیں پس ان متکلمین کی بدعت نے ان ملحدین فلاسفہ کے الحاد کی مدد کی اور بتحقیق ان کے رازوں کو کھولنے اور صریح معقول اور صحیح منقول کے ساتھ ان کی واضح مخالفت کے بیان میں تفصیلی بات ایک اور مقام پر ہو چکی ہے اور یہ بھی وہاں مذکور ہے کہ معقولاتِ صریحہ تو اُن باتوں کے موافق ہیں جن کی رسولوں نے خبر دی ہے اور وہ ان کے ساتھ ہر گز ہرگز مناقض اور مخالف نہیں اور ہم نے کئی جگہ پر اُس بات پر تنبیہ کر دی ہے جوطرقِ باطلہ سے استغناء کو ثا بت کرتا ہے وہ طرقِ باطلہ جو نئے نکالے گئے ہیں یعنی مبتدع اور مخترع ہیں ،جن کے ذریعے وہ باتیں معلوم ہو جاتی ہیں جو رسول کے خبر کے موافق ہیں اور ہم نے یہ بات بھی اچھے طریقے سے بیان کر دی ہے کہ صحیح عقلی دلائل وہ اُن اخبار اور امور کے موافق ہیں جن کی رسولوں نے خبر دی ہے جس طرح کہ یہ طرق اور اس کے علاوہ ہیں ۔
دوبارہ مسئلہ قدم عالم کی طرف :
بالتحقیق صریح عقلی دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ جب عالم کے فاعل کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ علتِ تامہ ازلیہ ہیں ؛ اور علتِ تامہ تو اپنے معلول کو مستلزم ہوتی ہے تو یہ بات لازم آئی کہ وہ قدم کی صفت میں اپنے معلول سے کچھ بھی پیچھے نہ ہو۔ پس ا سکی ذات سے کوئی شے بھی حادث نہیں ہوتی نہ بالواسطہ اور نہ بلا واسطہ۔ اور یہ بات بھی ممتنع ہے کہ وہ یکے بعد دیگرے کئی مفاعیل کے لیے علت بنے بغیر اس کے کہ اس کی ذات کے ساتھ کوئی ایسی شے قائم ہو جو دوسرے کے لیے علت بنے پس ان مفاعیل کے احوال کے تماثل اور یکسانگی کے ساتھ یہ بات بھی ممتنع ہے کہ ان کے مفعولات مختلف ہوں اور ان میں سے کوئی ایک شے حادث بنے ۔
یہ ایک ایسی بات ہے جس میں کوئی بھی ایسا عاقل اختلاف نہیں کرسکتا جو اچھی طرح اس کا تصور کرسکے اور اس کو سمجھ سکے۔ اور ان کے عقل مند اورماہرین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں جس طرح کہ ابن رشد حفید اورابو عبد اللہ الرازی اور ان کے علاوہ نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ایک بسیط ذات سے متغیراتِ مختلفہ کا صدور ایک ایسا عمل ہے کہ عقول اس کا انکا ر کرتی ہے ۔
اسی طرح جب اس ذات کوموجب بالذات کہا جائے اور یہ کہا جائے کہ وہ مؤثر تام ہے اور اس کی تاثیر ازل میں ثابت ہے اور وہ ازل میں مُرجّح تام ہے اور اس کے امثال دیگر تعبیرات ۔اسی طرح جب یہ کہا جائے کہ وہ قادرو مختار ہے اور وہ ازل میں اس کی مراد کو مستلزم ہے تو بہ تحقیق یہ ازل میں اس کی مراد کے وجود کو مستلزم ہوا ۔ تو لازم آیا کہ اس کے مراد میں سے کوئی شے بھی حادث نہ ہو پس عا لم میں سے کوئی شے بھی حادث نہیں ہوگی کیوں کہ کوئی شے بھی حادث نہیں ہوتی مگر اللہ کے ارادے کے ساتھ پس جب اس کا ارادہ ازلیہ ہے اور وہ ازل میں اس کے مراد کے وجود کو مستلزم ہے تویہ بات لازم آئی کہ اس کے سارے مرادات میں سے کوئی شے بھی حادث نہ ہو پس عالم حادث نہیں ہوگا اور یہ تو خلافِ مشاہدہ ہے اور وہ اس کے قائل نہیں ۔
کوئی بھی عاقل اس کا قائل نہیں کہ اس کی ذات تمام معلولات کے لیے علتِ تامہ ازلیہ ہے اور نہ اس بات کا کہ وہ تمام عالم کے لیے موجب ازلی ہیں یہاں تک کہ اس کے ہر ہر فرد اور اشخاص کے لیے بھی اور کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں کہ اس کے تمام مرادات ازل میں اس کے ساتھ مقارن اور متصل ہیں بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ عالم کے اصول یعنی بنیادی افعال اور عناصر ازلی ہیں اور اپنی ذوات کے اعتبار سے قدیم ہیں اور بے شک حرکات اور دوسرے مولدات قدیم النوع ہیں یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس عالم کے مواد جیسے کہ جواہرفردہ یا ہیولیٰ وہ اپنے اعیان کے اعتبار سے قدیم اور ازلی ہیں اور یہ ساری باتیں باطل ہیں کیوں کہ ان میں سے کسی بھی شے کا قدم اس بات کا مستلزم ہے کہ اس کافاعل اس کے لیے ازل ہی سے مستلزم ہو خواہ اسے ازل میں موجب بذاتہ کہا جائے یا ایسی علت تامہ قدیمہ کہا جائے جو کہ اپنے معلول کو مستلز م ہو یا یہ کہا جائے کہ وہ اپنے ارادہ ازلیہ کے ساتھ فاعل ہے ۔وہ ارادہ جو اپنے مفعول اور مراد کو ازل میں مستلزم ہوتا ہے ۔