Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ

  علی محمد الصلابی

طلیحہ اسدی کے فتنہ کا خاتمہ طلیحہ اسدی ان مدعیانِ نبوت میں سے تیسرا تھا جو رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں نمودار ہوا۔ اس کا نام طلیحہ بن خویلد بن نوفل بن نضلہ الاسدی ہے۔ عام الوفود 9 ہجری میں اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر رسول اللہﷺ کو سلام کیا اور احسان جتاتے ہوئے کہا: ہم آپﷺ کی خدمت میں خود حاضر ہوئے۔ ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور آپﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں حالانکہ آپﷺ نے ہماری طرف کسی کو نہیں بھیجا اور ہم اپنے پیچھے والوں کے لیے کافی ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نازل ہوا:

يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا‌ قُلْ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَىَّ اِسۡلَامَكُمۡ‌  بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰٮكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞ (سورۃ الحجرات آیت 17)

ترجمہ: یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ اسلام لے آئے ہیں۔ ان سے کہو کہ : مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ جتلاؤ۔ بلکہ اگر تم واقعی (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی۔

جب یہ لوگ واپس ہوئے طلیحہ ارتداد کا شکار ہوا اور نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا.

(اسدالغابۃ: جلد 3 صفحہ 95)

اور سمیراء میں اپنا مرکز بنایا، عوام اس کے مرید ہو گئے اور اس کا معاملہ ظاہر ہو گیا۔ لوگوں کی ضلالت کا پہلا سبب یہ ہوا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، پانی ختم ہو گیا، لوگوں کو شدید پیاس لگی، اس نے لوگوں سے کہا: تم میرے گھوڑے اعلال پر سوار ہو کر چند میل جاؤ وہاں تمہیں پانی ملے گا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہیں پانی مل گیا، اس وجہ سے دیہاتی اس فتنہ کا شکار ہو گئے۔

(حروب الردۃ: محمد احمد باشمیل صفحہ 79)

اس کی بکواس میں سے یہ ہے کہ اس نے نماز سے سجدوں کو ختم کر دیا اور اس کا یہ زعم تھا کہ آسمان سے اس پر وحی آتی ہے اور اس کی مسجع عبارتوں میں سے یہ عبارت ہے جسے وہ وحی الٰہی کہتا تھا:

والحمام والیمام، والصرد الصوام، قد صُمْنَ قبلکم باعوامٍ، لیبلغن ملکنا العراق والشام۔

ترجمہ: اور کبوتر اور جنگلی کبوتر اور روزہ دار لٹورے تم سے بہت سال قبل روزہ رکھتے ہیں۔ عراق و شام تک ہماری بادشاہت ہو گی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 323)

یہ شخص غرور نفس کا شکار ہوا، اس کا مسئلہ زور پکڑا، اس کی طاقت بڑھی اور جب رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپﷺ نے سیدنا ضرار بن ازور اسدی رضی اللہ عنہ کو اس سے قتال کے لیے روانہ کیا لیکن ضرار کے بس کی بات نہ تھی۔ اس کی قوت وقت کے ساتھ بڑھ چکی تھی اور خاص کر اسد و غطفان دونوں حلیفوں کے اس پر ایمان لے آنے کے بعد۔

(اسد الغابۃ: جلد 3 صفحہ 95)

دائرۃ المعارف الاسلامیہ (اسلامی انسائیکلوپیڈیا) نے اس سلسلہ میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا ہے:

یہ برجستہ شعر کہتا تھا اور میدان قتال میں بغیر تیاری کے خطاب کرتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جاہلی قبائلی زعیم کا حقیقی آئیڈیل تھا۔ اس کے اندر بہت سی صفتیں جمع تھیں، عراف تھا، شاعر تھا، مقرر تھا، مقاتل تھا۔

(دائرۃ المعارف الاسلامیہ بحوالہ حرکۃ الردۃ: صفحہ 78)

اس عبارت سے اس مشہور انسائیکلوپیڈیا کی طرف سے طلیحہ اسدی کی مدح سرائی کی بو آتی ہے کیونکہ یہ اس کی نگاہ میں مثالی قبائلی زعیم تھا، برجستہ شعر کہتا اور خطاب کرتا تھا اور اس وقت عرب ان دونوں صفات کے بڑے دلدادہ تھے۔ اس انسائیکلوپیڈیا کی طرف سے یہ مدح سرائی کوئی نئی بات نہیں کیونکہ اس کا تو شیوہ ہی اسلام پر تنقید اور طعنہ زنی کرنا ہے۔ خواہ اسے یہ معلوم ہو یا نہ ہو کہ طلیحہ نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا اور اچھے مسلمان کی طرح زندگی گذاری۔

رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی اور طلیحہ کا مسئلہ باقی رہا۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہں78)

اور خلافت کی باگ ڈور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سنبھالی، مرتدین کو کچلنے کے لیے فوج تیار کی، قائدین مقرر کیے۔ طلیحہ اسدی کی طرف بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں فوج روانہ کی۔ امام احمدؒ کی روایت ہے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو مرتدین سے قتال کے لیے مقرر کیا تو فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے، آپﷺ فرما رہے تھے

نعم عبداللّٰہ واخو العشیرۃ خالد بن الولید، سیف من سیوف اللہ سَلَّہ اللہ علی الکفار والمنافقین۔

ترجمہ: اللہ کا بہترین بندہ اور خاندان کا بہترین فرد سیدنا خالد بن ولیدؓ ہے۔ یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار و منافقین پر مسلط کر دیا ہے۔

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 173شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے)

جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ذوالقصہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا ابوبکرؓ نے ان کو رخصت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ دوسرے امراء کے ساتھ خیبر کی طرف سے آ کر ان سے ملیں گے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اولا طلیحہ اسدی کی طرف روانہ ہوں، پھر وہاں سے فارغ ہو کر بنو تمیم کی خبر لیں۔ طلیحہ بنو اسد اور بنو غطفان کے ساتھ تھا اور ان کے ساتھ بنو عبس اور بنوذ بیان بھی شامل ہو گئے تھے۔ اس نے بنو جدیلہ اور بنوطے میں سے غوث سے مدد طلب کی، انہوں نے لوگوں کو بھیجا تا کہ جلدی ان سے جا ملیں اور ادھر سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عدی بن حاتمؓ کو سيدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے قبل روانہ کیا کہ وہ اپنے قبیلہ بنو طے کے پاس جائیں اور انہیں طلیحہ سے ملنے سے روکیں ورنہ ان کا انجام برا ہو گا۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ بنو طے کے پاس گئے، انہیں دعوت دی کہ سيدنا ابوبکر صدیقؓ سے بیعت کر لو۔

(ترتیب وتہذیب کتاب البدایۃ والنہایۃ: خلافۃ ابی بکر: دیکھیے محمد صامل السَّلمی: صفحہ 101)

اور اللہ کی طرف رجوع کرو۔

انہوں نے جواباً کہا: ہم ابو فصیل (ابوبکر) سے بیعت نہیں کریں گے۔

(فصیل: یعنی اونٹنی کا بچہ)

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ سیدنا ابوبکرؓ کی فوج تم پر پہنچے گی اور تم سے برابر قتال کرے گی یہاں تک کہ تم جان لو گے کہ وہ ابو فحل اکبر ہیں۔

(فحل: یعنی نوجوان اونٹ، سانڈ)

سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ برابر لگے رہے یہاں تک کہ وہ نرم پڑ گئے اور حضرت خالد بن ولیدؓ فوج لے کر پہنچ گئے۔ آپؓ کے ساتھ جو انصار تھے ان کے ہر اول دستہ پر حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے۔ ان سے آگے سيدنا ثابت بن اقرم اور سيدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہما کو دشمن کی نقل و حرکت کا پتہ چلانے کے لیے روانہ کیا، ان دونوں کو طلیحہ کا بھتیجا حبال مل گیا اس کو انہوں نے قتل کر دیا۔ طلیحہ کو اس کی خبر ملی، وہ اور اس کا بھائی سلمہ دونوں نکلے، ثابت اور حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہما سے مقابلہ آرائی ہوئی، طلیحہ نے عکاشہ کو اور سلمہ نے ثابت کو قتل کر دیا۔

جب سيدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پہنچے تو دونوں کو ڈھیر پایا۔ مسلمانوں پر یہ بہت شاق گزرا۔ یہاں سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ بنو طے کی طرف مڑ گئے۔ وہاں سيدنا عدی بن حاتمؓ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے عرض کیا: آپؓ مجھے تین دن کی مہلت دیں۔ انہوں نے مجھ سے مہلت مانگی ہے تاکہ ان کے جو لوگ طلیحہ سے جا ملے ہیں انہیں یہ واپس بلا لیں، انہیں اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کا ساتھ دیں تو کہیں طلیحہ ان کے لوگوں کو قتل نہ کر دے اور یہ چیز آپ کو ان کے جہنم رسید ہونے سے زیادہ محبوب ہے۔

جب تین دن گذر گئے تو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ ان میں سے پانچ سو مجاہدین کے ساتھ حاضر ہوئے، جنہوں نے حق کی طرف رجوع کر لیا تھا اور یہ لشکر خالد میں شامل ہو گئے۔ پھر سيدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بنو جدیلہ کا رخ کیا۔ حضرت عدیؓ نے عرض کیا: آپؓ ہمیں کچھ روز کی مہلت دیں میں انہیں لے کر حاضر ہوتا ہوں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی بچا لے گا جس طرح غوث کو بچایا ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: تہذیب وترتیب: محمد السلمی: خلافۃ ابی بکر صفحہ 102)

سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے اور برابر ان کے ساتھ لگے رہے، انہوں نے آپؓ کی بات مان لی اور مسلمان ہو گئے اور ان میں سے ایک ہزار سواروں نے مسلمانوں کی فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس طرح حضرت عدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے لیے بہترین سپوت اور عظیم برکت والے ثابت ہوئے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 322)