مسیلمہ کذاب اور بنو حنیفہ
علی محمد الصلابیتعارف و مقدمہ
اس کا نام مسیلمہ بن ثمامہ بن کبیر بن حبیب حنفی ہے، کنیت ابو شامہ ہے۔ عمر رسیدہ مدعیان نبوت میں سے تھا۔ مثل مشہور ہے مسیلمہ سے بڑھ کر جھوٹا۔ اس کی ولادت اور نشوونما یمامہ کی بستی میں ہوئی، جس کو آج جُبیلہ کہا جاتا ہے، جو عینیہ کے قریب نجد کے علاقہ وادی حنیفہ میں واقع ہے۔ جاہلیت میں اس کا لقب رحمٰن تھا اور رحمٰن الیمامہ کے نام سے معروف تھا۔
(حروب الردۃ وبناء الدولۃ: احمد سعید: صفحہ 123 الزِّرکلی: جلد 2 صفحہ 125)
اس نے عرب و عجم کی سیر کر کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے اور غفلت میں مبتلا کرنے کا فن سیکھنا شروع کیا۔ پجاریوں، مجاوروں اور فال و شگون نکالنے والوں کی جعل سازیاں اور کاہنوں، جوتشیوں، شعبدہ بازوں، جادو گروں اور مؤکل رکھنے کے دعویداروں کے مذاہب و طریقے سیکھے۔ اس کی شعبدہ بازیوں میں سے یہ تھا کہ کہ وہ پرندوں کے کٹے ہوئے پر جوڑ دیتا ہے اور انڈے کو بوتل میں داخل کر دیتا ہے۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 71)
مسیلمہ رسول اللہﷺ کی مکی زندگی ہی میں نبوت کا دعویدار تھا، لوگوں کو مکہ بھیجتا رہتا تاکہ وہ قرآن کو سن کر آئیں اور اسے بتائیں تاکہ وہ اس طرز پر کلام گھڑے یا اسی کو اپنا کلام کہہ کر لوگوں کے سامنے پیش کرے۔
(البدء والتاریخ: جلد 5 صفحہ 160 للمقدسی بحوالہ حرکۃ الردۃ صفحہ 71)
ہجری میں جب اسلام پورے جزیرۃ العرب میں عام ہو چکا تھا، مسیلمہ بھی بنو حنیفہ کے وفد کے ساتھ رسول اللہﷺ کے پاس آیا، لوگوں نے اس کو کپڑے میں چھپا رکھا تھا۔ جب یہ آپﷺ سے ملا تو آپﷺ سے گفتگو کی، آپﷺ کے دست مبارک میں کھجور کی شاخ تھی۔ آپﷺ نے اس سے فرمایا: اگر تم مجھ سے یہ شاخ طلب کرو تو میں تمہیں یہ بھی نہیں دوں گا۔
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد 2 صفحہ 576، 577)
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نبوت میں شرکت یا آپﷺ کے بعد خلافت کا مطالبہ کیا تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ مسیلمہ نے وفد کے ساتھ آپﷺ سے ملاقات نہیں کی تھی بلکہ لوگوں کے سامان کی رکھوالی کے لیے پیچھے رہ گیا تھا۔ جب رسول اللہﷺ نے ان لوگوں کے مابین عطیات تقسیم کیے تو اس کو بھی ان کے برابر حصہ دیا اور ان سے فرمایا: وہ تم سے برا نہیں کیونکہ وہ ان کے سامان کی حفاظت کر رہا تھا۔
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد 2 صفحہ 577)
پہلی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیلمہ کذاب مشکوک آدمی تھا، جس کی وجہ سے اس کو کپڑے میں چھپانے کی ضرورت پیش آئی گویا کہ وہ اپنے اندر اور چہرے مہرے میں کچھ اور ہی چھپائے ہوئے تھا جس کا تعلق حقیقت سے نہ تھا۔ یہ شخص اپنی زندگی میں ایسا ہی تھا اور رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد:
وہ تم سے برا نہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ان میں بہتر تھا بلکہ آپﷺ کا مقصود یہ تھا کہ تم سب کے سب شریر ہو اور وہ بھی تمہاری طرح شریر ہے۔ آنے والے ایام نے اس حقیقت کا پردہ چاک کیا کہ بنو حنیفہ سب کے سب شر پسند تھے اور ان میں اس شر کا سرغنہ مسیلمہ کذاب تھا۔