ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 4

اُمّ المؤمنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا:
نام: ہند
کنیت: اُمِ سلمہ
والد: ابوامیہ سہیل بن مغیرہ
والدہ: عاتکہ بنتِ عامر
سِن پیدائش: بعثت نبوی سے 9سال قبل
قبیلہ: بنو مخزوم
زوجیتِ رسولﷺ: 4 ہجری
سنِ وفات: 59 ہجری
مقامِ تدفین: جنت5 البقیع مدینہ منورہ
کل عمر: 81 سال تقریباً
نام و نسب:
نام ہند تھا والد کی طرف سے آپؓ کا سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنتِ ابی امیہ سہیل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔ جب کہ والدہ کی طرف سے سلسلہ نسب اس طرح ہے: ہند بنتِ عاتکہ بنتِ عامر بن ربیعہ بن مالک بن جذیمہ بن علقمہ بن جذل بن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ۔
کنیت: آپؓ کی کنیت اُم سلمہ تھی۔
ولادت: آپؓ کی ولادت آپﷺ کے اعلانِ نبوت سے تقریباً 9 سال قبل ہوئی۔ 
خاندانی پسِ منظر:
آپؓ کے والد ابوامیہ کا تعلق قریش کے خاندان مخزوم سے تھا۔ ابو امیہ نہایت سخی انسان تھے، عموماً جب کسی سفر میں جاتے تو سفر میں شریک تمام دوستوں کے سفر کے اخراجات خود برداشت کرتے۔ اس وجہ سے ان کا لقب "زاد الراکب" پڑ گیا تھا یعنی مسافروں کے سفری اخراجات و ضروریات کو پورا کرنے والا۔ سخی اور عزت دار گھرانے میں پرورش پانے کی وجہ سے سیدہ اُمِ سلمہؓ کے مزاج میں بھی عزت و حیا اور سخاوت غالب تھی۔
پہلا نکاح:
آپؓ کا پہلا نکاح اپنے چچا زاد سیدنا عبداللہ بن عبدالاسدؓ سے ہوا۔ سیدنا عبداللہ بن عبدالاسدؓ آپﷺ کے پھوپھی زاد اور رضاعی بھائی تھے۔
اولاد:
آپؓ کے سیدنا عبداللہ بن عبدالاسدؓ سے چار بچے تھے۔ جن کے نام یہ ہیں:
  1. سلمہ
  2. عمر
  3. درہ 
  4. برہ
سلمہ: حبشہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا نکاح آپﷺ نے سیدنا حمزہؓ کی بیٹی سیدہ اُمامَہ سے کیا تھا۔ لیکن دونوں بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔
عمر: سیدنا علیؓ کے دورِ خلافت میں بحرین اور فارس کے حاکم رہے۔
دُرّہ: دُرَّہ کے بارے میں اُمُ المؤمنین سیدہ اُمِ حبیبہؓ نے آپﷺ سے عرض کی کہ ہم سے کسی نے یہ بات کہی ہے کہ آپ درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں کیا یہ بات درست ہے یا غلط؟ آپﷺ نے فرمایا کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے اگر میں نے اس کی پرورش نہ بھی کی ہوتی تب بھی وہ میرے لیے کسی طرح جائز نہیں۔ کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
برہ/ زینب: ان کی پیدائش سیدنا ابوسلمہؓ کی وفات کے بعد ہوئی، آپﷺ نے ان کا نام تبدیل کر کے زینب رکھا تھا، اپنے زمانے کی فقیہہ تھیں۔
قبولِ اسلام:
سیدہ اُمِ سلمہؓ اور آپ کے شوہر سیدنا عبداللہ بن عبدالاسد ابوسلمہؓ کا شمار اُن اُولوالعزم لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اعلانِ نبوت کے کچھ ہی عرصہ بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپﷺ کی دعوتِ اسلام پر ابھی صرف دس لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ آپﷺ مسلسل محنت فرما رہے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپﷺ دارِ بنی اَرقم میں چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ تشریف فرما تھے اسی دوران سیدنا ابوسلمہؓ اپنی بیوی سیدہ اُمِ سلمہؓ کے ساتھ حاضر خدمت ہوئے۔ آپﷺ نے ان کے آنے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی، اور دونوں کو قرآنِ کریم کی چند آیات پڑھ کر سنائیں۔ قرآنِ مجید سننے کے بعد سیدنا ابوسلمہؓ نے کہا: بھائی ہونے کے ناتے میرا بھی یہ حق بنتا ہے کہ میں بھی اس روشنی سے اپنی روح کو منور کروں جس سے دوسرے فیض حاصل کر رہے ہیں۔ آپﷺ نے سیدنا ابوسلمہؓ کے یہ الفاظ سنے تو بہت خوش ہوئے، سیدنا ابوسلمہؓ نے دوبارہ عرض کی: ہم دونوں میاں بیوی کو مسلمان کر کے اپنی غلامی میں داخل کر لیجئے چنانچہ کلمہ شہادت پڑھ کر مشرف باسلام ہوئے۔
حبشہ کی طرف پہلی ہجرت:
اعلانِ نبوت کے پانچویں سال رجبُ المرجب کے مہینے میں حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا۔ چنانچہ11 مردوں اور 4 خواتین پر مشتمل چھوٹا سا قافلہ مکہ مکرمہ کو الوداع کہتے ہوئے حبشہ کی طرف روانہ ہوا۔اس قافلے میں سیدہ اُمِ سلمہؓ اور آپؓ کے شوہر سیدنا ابوسلمہؓ بھی شامل تھے۔ اسی دوران سیدنا ابوسلمہؓ کے گھر ایک بچہ سلمہ پیدا ہوا۔ والدین کو اپنے بچے سے بے حد محبت تھی۔ چنانچہ اسی کی وجہ سے دونوں میاں بیوی نے اپنی کنیت اُمِ سلمہ اور ابوسلمہ رکھی۔
حبشہ سے مکہ مکرمہ کی طرف واپسی:
جو مہاجرین حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے، اگرچہ وہ حبشہ میں احکامِ اسلام پر عمل کرنے میں مکمل آزاد تھے لیکن اس کے باوجود نبی کریمﷺ کی قربت اور اپنے وطن کی یاد انہیں ستاتی تھی۔ ایک روز انہیں کہیں سے یہ خبر ملی کہ کفار و مشرکین نے نبیِ کریمﷺ سے صلح کر لی ہے اور وہ سب مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس خبر کو سننے کے بعد سب لوگ واپسی کی تیاری کرنے لگے کہ بنو کنانہ کا ایک شخص وہاں پہنچا اور اس نے بتایا کہ تم لوگوں تک جو خبر پہنچی ہے وہ جھوٹ ہے مکہ کے کفار و مشرکین اب بھی اسلام دشمنی پر ویسے ہی قائم ہیں۔ خبر سنانے والا بنو کنانہ کا وہ شخص تو چلا گیا لیکن مہاجرین سوچ میں پڑ گئے کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہونا چاہیئے۔ مہاجرین نے مکہ مکرمہ کی طرف واپسی کی راہ لی اور ہر شخص کسی نہ کسی قریشی سردار کی پناہ لے کر اپنے آبائی وطن میں داخل ہوا۔ سیدنا ابو سلمہؓ کو ان کے ماموں خواجہ ابوطالب نے پناہ دی۔ آپ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔
قبیلہ بنو مخزوم کا ابوطالب سے مکالمہ:
صفحہ 1 از 4