ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 4
سیدنا ابوسلمہؓ اپنی بیوی کے ہمراہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ قبیلہ بنو مخزوم کو جب یہ معلوم ہوا کہ ابوطالب نے سیدہ اُمِ سلمہؓ اور ان کے شوہر سیدنا ابوسلمہؓ کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے تو انہیں بہت غصہ آیا۔ چنانچہ بنو مخزوم کے کچھ لوگ جمع ہو کر ابوطالب کے پاس آئے اور کہنے لگے: ابوطالب! ہمارے آدمیوں سے آپ کا کیا واسطہ؟ کون سے آدمی؟ ابوطالب نے حیرت سے پوچھا۔ بنو مخزوم کے لوگ کہنے لگے کہ ابوسلمہؓ اور اس کی بیوی اُمِ سلمہؓ۔ ابوطالب نے کہا: ابوسلمہؓ میرا بھانجا ہے، جب میں اپنے بھتیجے محمدﷺ کو پناہ دے سکتا ہوں تو اسے کیوں نہیں دے سکتا؟ گفتگو بڑھتی گئی اور بنو مخزوم اپنا دباؤ بڑھا رہے تھے، ابولہب درمیان میں بول پڑا: اے بنی مخزوم! تم نے ابوطالب کے ساتھ بہت کچھ بحث و تکرار کر لی اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس پر برابر دباؤ ڈال رہے ہو۔ اگر تم نے ان کو تنگ کرنا بند نہ کیا تو مَیں بھی ان کی حمایت میں کھڑا ہو جاؤں گا۔ بنو مخزوم کے لوگوں نے جب ابولہب کی باتیں سنیں تو گھبرا گئے اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے: اے ابو عتبہ! ہم تم کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔
حبشہ کی طرف دوسری ہجرت:
کفار و مشرکین مکہ اپنی زیادتیوں سے باز نہ آئے اور اہلِ اسلام کو مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہے۔ چنانچہ بعثت کے چھٹے سال کی شروعات میں دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا۔ پہلے کی بنسبت اس بار حبشہ کی طرف جانا خاصا مشکل کام تھا۔ کیونکہ کفار و مشرکین مکہ نے مکہ سے باہر جانے والے تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھا دیئے تاکہ کوئی مکہ سے باہر نہ نکلنے پائے۔ ان تمام تر سختیوں کے باوجود 83 مرد 20 خواتین کے ہمراہ مکہ سے حبشہ ہجرت کرنے میں کامیاب ہو گئے اس دوسری ہجرت میں بھی سیدنا ابوسلمہؓ اور ان کی بیوی سیدہ اُمِ سلمہؓ شامل تھیں۔
کفار مکہ کے شاہِ نجاشی کو تحائف:
کفار مکہ نے بادشاہ حبشہ نجاشی کی طرف عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو تحائف دے کر روانہ کیا تاکہ وہ مہاجرین کی واپسی پر نجاشی کو کسی طور آمادہ کریں۔
شاہِ نجاشی کا انکار:
کفارِ قریش کا یہ وفد شاہِ حبشہ کے دربار میں پہنچا اور مسلمانوں کے خلاف ایسی باتیں کیں جو مسلمانوں میں پائی نہیں جاتی تھیں یہ باتیں سن کر بادشاہ نے سخت غصے میں کہا: جن لوگوں نے اپنا ملک چھوڑ کر میرے ملک اور مجھ پر بھروسہ کیا ہے۔ میں ان کے ساتھ بے وفائی نہیں کرسکتا۔ تم لوگ کل آنا اس معاملے میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔
شاہِ نجاشی سے کفار کے وفد کی گفتگو:
دوسرے دن بادشاہ نجاشی نے تمام مسلمانوں کو دربار میں بلایا۔ وہاں کفارِ قریش کے سفیر عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ بھی موجود تھے۔ سیدہ اُمِ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ بادشاہ نے مسلمانوں سے کہا: یہ تم نے کیا کر دیا کہ اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا اور میرے دین کو بھی قبول نہ کیا اور نہ ہی دنیا کے کسی دین کو اختیار کیا۔ آخر تمہارا دین کیا ہے؟
بادشاہِ حبشہ نجاشی کی یہ بات سن کر سیدنا جعفر طیارؓ نے فوراً جواب دیا :اے بادشاہ! ہم ہر طرح کی برائیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول بھیجا جس کے نسب، سچائی، امانت داری اور پاک دامنی کے ہم گواہ تھے، اس نے ہمیں ایک معبود اللہ کی طرف بلایا اور ہم نے اس کی بات مان لی کہ جس کی پوری زندگی پاک دامنی کا نمونہ ہو اور جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اس نے ہمیں برائیوں، غلط کاموں اور بت پرستی سے روکا۔ نیکیوں کی نصیحت کی اور سیدھا راستا دکھایا تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اِس پر شاہ نجاشی نے کہا: تمہارے نبی پر جو کلام اترا ہے اس میں سے ہمیں بھی کچھ سناؤ۔ سیدہ اُمِ سلمہؓ فرماتی ہیں: سیدنا جعفر طیارؓ نے سورۃ مریم کی آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے بادشاہ بے حد متاثر ہوا۔
دوسرے دن دربار نجاشی میں:
جب کفار کے وفد کو نامرادی کا منہ دیکھنا پڑا تو انہوں نے پینترا بدلتے ہوئے ایک اور سازش سوچی۔ وہ یہ کہ بادشاہ عیسائی ہے اور پورا ملک حبشہ عیسائیت کا پیروکار ہے تو کیونکہ بات کو مذہبی رنگ میں پیش کیا جائے۔ عیسائی چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بندہ قرار دیتے ہیں جبکہ عیسائی انہیں اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ اس بارے بادشاہ کے دربار میں بات کی جائے تاکہ نجاشی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے مسلمانوں کا عقیدہ پتا چلے گا تو وہ انہیں اس جرم کی پاداش میں قتل/سخت سزا یا پھر ملک بدر کر دے گا یہ سوچ کر عمرو بن العاص نے عبداللہ بن ربیعہ سے مشورہ کیا۔ عبداللہ بن ربیعہ نے اس بارے بطورِ مشورہ کے کہا کہ ایسا نہ کرو۔ لیکن عمرو بن عاص نے جو ترکیب سوچی ہوئی تھی اس پر ڈٹ گیا اور دوسرے دن پھر دربار نجاشی میں جا پہنچا اب کی بار اس نے مقدمے میں ابنیتِ مسیح اور عبدیتِ مسیح کا کیس داخل کیا۔ اس نے شاہ نجاشی کو کہا: اے بادشاہ! ان مہاجرین سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پوچھیں۔ یہ اُن کو اللہ کا بندہ قرار دیتے ہیں۔
شاہِ نجاشی نے سیدنا جعفر طیارؓ سے اس بارے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک کلمہ اور روح ہیں جسے اللہ نے کنواری مریم پر القا فرمایا تھا۔
یہ جواب سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا :اللہ کی قسم! جو تم نے کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں۔
کفار مکہ کا ناکام وفد واپس لوٹا:
فریقین کی ساری گفتگو سننے کے بعد شاہِ نجاشی نے حکم دیا: مکہ کے سفیروں کے تحفے واپس کر دئیے جائیں، مجھے ان کی چنداں ضرورت نہیں۔ چنانچہ کفارِ مکہ کا وفد ناکام و نامراد واپس مکہ آ گیا۔
ہجرتِ مدینہ کا حکم:
اسلام تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف سفر کر رہا تھا، لوگ شامل ہوتے جا رہے تھے اور کاررواں بڑھتا جا رہا تھا۔ کفارِ مکہ اپنے مظالم کے ذریعے اسے دبانا چاہتے تھے لیکن اسلام مسلسل پھیل رہا تھا۔
صفحہ 2 از 4