ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4
ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی نے آپﷺ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ مکہ مکرمہ سے کچھ فاصلے پر ہمارا قبیلہ آباد ہے اور وہاں ایک مضبوط قلعہ ہے آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں، آپﷺ نے انکار فرما دیا اور اس سلسلہ میں اللہ رب العزت کے حکم کا انتظار فرمانے لگے۔
اعلانِ نبوت کو تیرہ برس کا عرصہ بیت چکا تھا، اللہ کی طرف سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا آپﷺ نے اس وقت کے اہلِ ایمان کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے مدینے کی طرف ہجرت شروع کی۔ سب سے پہلے سیدہ اُمِ سلمہؓ کے شوہر سیدنا ابوسلمہؓ بن عبد الاسد اور سیدنا عامر بن ربیعہؓ ہجرت مدینہ کے سفر پر روانہ ہوئے۔
مدینہ روانگی سے پہلے:
سیدہ اُمِ سلمہؓ خود فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوسلمہؓ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو اونٹ پر کجاوہ کس کر مجھے اور سلمہ کو اونٹ پر بٹھا دیا اور اس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چلتے رہے جب میرے میکے والوں کو ہمارے روانہ ہونے کی خبر ہوئی تو انہوں نے سیدنا ابوسلمہؓ سے کہا: تم اپنے بارے میں خود مختار ہو سکتے ہو مگر ہم اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جانے دیں گے۔
سیدہ اُمِ سلمہؓ فرماتی ہیں: یہ سُن کر سیدنا ابوسلمہؓ نے کہا: سیدہ اُمِ سلمہؓ میری بیوی ہے، میں اسے لے کر جہاں جانا چاہوں جا سکتا ہوں۔
اس پر قبیلے والوں نے کہا: یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ سیدہ اُمِ سلمہؓ تمہارے ساتھ ہرگز ہرگز کسی صورت نہیں جاسکتی۔ یہ کہہ کر سیدنا ابوسلمہؓ کے ہاتھوں سے اونٹ کی نکیل چھین لی اور سیدہ اُمِ سلمہؓ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
سیدنا ابوسلمہؓ نے جاتے جاتے اپنی بیوی سیدہ اُمِ سلمہؓ سے فرمایا کہ: سیدہ اُمِ سلمہؓ اسلام پر سختی سے ڈٹے رہنا۔ اس کے علاوہ بھی چند نصیحتیں کیں۔
اپنے شوہر کی باتیں سن کر سیدہ اُمِ سلمہؓ نے کہا کہ: آپ مطمئن رہیئے جان قربان کر دوں گی مگر اسلام کو مَیں کسی حال میں نہیں چھوڑوں گی۔
سیدنا ابوسلمہؓ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اسی دوران سیدنا ابوسلمہؓ کے خاندان والے بھی اس جگہ پہنچ گئے۔ جب انہیں پورا ماجرا معلوم ہوا تو وہ سیدہ اُمِ سلمہؓ کے خاندان والوں سے کہنے لگے: جب تم نے اپنی بیٹی ہمارے آدمی سے چھین لی تو اب ہم اپنے بچّے سلمہ کو کیوں اُس کے پاس رہنے دیں۔ انہوں نے آگے بڑھ کر سیدہ اُمِ سلمہؓ سے بچے کو بھی چھین لیا۔ بچّے کو زبردستی چھیننے میں اس کا ہاتھ اتر گیا اور وہ بہت زیادہ چیخنے چلانے لگا۔
سیدہ اُمِ سلمہؓ کی استقامت:
مجبور شوہر کی تنہا ہجرت اور بچے کا چھن جانا ایک بیوی اور ماں ہونے کے ناتے آپ کے دل پر کیا گزری؟ اس دکھ کا ان ظالموں کو کوئی احساس نہ تھا۔ ان سب کے باوجود آپؓ نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔
ایک سال بعد:
سیدہ اُم سلمہؓ خود فرماتی ہیں: ایک سال کا عرصہ گذر چکا تھا نہ شوہر کے پاس جا سکی تھی اور نہ ہی بچّہ مل سکا تھا چنانچہ ایک دن یوں ہوا کہ میرے ایک چچا زاد بھائی نے میری حالت دیکھ کر خاندان والوں سے کہا کہ تم اس بے کس پر رحم کیوں نہیں کرتے؟ اسے کیوں نہیں چھوڑ دیتے اور اس کو بچّے اور شوہر سے دور کیوں رکھا ہوا ہے؟ سیدہ اُمِ سلمہؓ فرماتی ہیں: بنی مغیرہ نے اپنے اُس آدمی کی سفارش پر مجھے اپنے شوہر کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ جب اس بات کی خبر بچّہ کی ددھیال والوں کو ہوئی تو انہوں نے بچّہ بھی مجھے دے دیا۔
مدینہ منورہ کی طرف سفر:
جب آپؓ کو بچہ مل گیا اور مدینہ منورہ جانے کی پابندی بھی ہٹ گئی تو آپؓ نے تنِ تنہا مدینے کی طرف سفر کرنے کا ارادہ کیا اور ایک اونٹ تیار کر کے بچّے کو ساتھ لیا اور اکیلے سوار ہو کر مدینہ منورہ کے لیے نکل پڑیں۔ تقریباً تین چار میل ہی چلی ہوں گی کہ سیدنا عثمان بن طلحہٰؓ جو قبیلہ بنی عبدالدار کے معزز انسان تھے اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے انہوں نے آپؓ کو تنہا سفر کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ سیدہ اُمِ سلمہؓ خود فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اپنے شوہر کے پاس مدینہ منورہ جا رہی ہوں۔ سیدنا عثمان بن طلحہٰؓ نےپوچھا: کوئی مرد ساتھ بھی ہے؟ سیدہ اُمِ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ ہے اور یہ بچّہ ہے۔ یہ سُن کر سیدنا عثمان بن طلحہٰؓ نے میرے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور آگے آگے چلنے لگے۔ خدا کی قسم! مَیں نے عثمان بن طلحہٰؓ جیسا شریف آدمی نہیں دیکھا۔ جب منزل پر اترنا ہوتا تو وہ اونٹ بٹھا کر کسی درخت کی آڑ میں کھڑے ہو جاتے اور پھر اونٹ کو باندھ کر مجھ سے دور کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتے اور جب کوچ کرنے کا وقت ہوتا تو اونٹ پر کجاوہ کس کر میرے پاس لا کر بٹھا دیتے اور خود وہاں سے ہٹ جاتے جب میں سوار ہو جاتی تو اس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل دیتے۔ اسی طرح وہ مجھے مدینہ منورہ تک لے گئے جب ان کی نظر بنی عمرو بن عوف کی آبادی پر پڑی جو قباء میں تھی تو انہوں نے کہا کہ آپ کا شوہر یہیں پر ہے، آپ چلی جائیں۔ چنانچہ مجھے سلام کر کے رخصت ہو گئے۔
مدینہ کی بہاریں:
آپؓ اپنے شوہر سیدنا ابو سلمہؓ کے ساتھ مدینہ منورہ میں خوش و خرم زندگی بسر کرتی رہیں۔ اللہ کریم نے آپؓ کو اولاد عطا فرمائی۔ ایک بچہ جس کا نام عمر اور دو بچیاں جن کے نام دُرَّہ اور بَرَّہ تھے۔ برہ کا نام آپﷺ نے تبدیل فرما کر زینب رکھا۔
سیدنا ابو سلمہؓ کا مشورہ:
سیدہ اُمِ سلمہؓ اور آپ کے شوہر سیدنا ابوسلمہؓ دونوں مثالی میاں بیوی تھے۔ ایک دن سیدہ اُمِ سلمہؓ نے اپنے شوہر سے عرض کی کہ میں نے سنا ہے کہ اگر مرد اور عورت دونوں جنتی ہوں اور عورت مرد کے بعد کسی سے نکاح نہ کرے تو وہ عورت جنت میں اسی مرد کو ملے گی۔ اسی طرح مرد اگر دوسری عورت سے نکاح نہ کرے تو وہی عورت اسے ملے گی اس لیے آؤ ہم عہد کریں کہ ہم میں سے جو پہلے اس دنیا سے چلا جائے بعد والا دوسرا نکاح نہ کرے یہ سُن کر سیدنا ابوسلمہؓ نے فرمایا: کیا تم میرا کہا مان لو گی؟ آپؓ نے فرمایا: ماننے کے لیے ہی مشورہ کر رہی ہوں۔ سیدنا ابوسلمہؓ فرمانے لگے: تم میرے بعد نکاح کر لینا۔
صفحہ 3 از 4