ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 4
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی مسئلے میں مختلف آراء پیش فرماتے تو اس کے بارے حتمی فیصلہ کرانے کے لیے آپؓ کے پاس تشریف لے جاتے اور مسئلہ کا حل دریافت فرماتے۔
عدت کا مسئلہ:
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ اور سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمٰنؓ کے درمیان اس عورت کی عدت کے بارے میں بحث ہوئی جس نے خاوند کی وفات کے چند روز بعد بچے کو جنم دیا۔ سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے تھے کہ زیادہ مدت کو عدت سمجھا جائے گا، جبکہ سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمٰنؓ فرماتے تھے کہ بچے کی پیدائش کے بعد عدت پوری ہو گئی، سیدنا ابوہریرہؓ نے ان کی تائید کی۔ تینوں نےسیدہ اُمِ سلمہؓ سے فیصلہ کرنے کو کہا۔
آپؓ نے فرمایا کہ سبیعہ اسلمیہ کا یہی معاملہ تھا۔ تو اس وقت رسول اللهﷺ نے بچہ پیدا ہونے کے فوراً بعد ان کو نکاح کی اجازت دے دی تھی۔
صلح حدیبیہ میں دانش مندانہ کردار:
سیدہ اُمِسلمہؓ کو اللہ کریم نے بہت سی صلاحیتوں سے خوب خوب نوازا تھا، دانش مندی اور معاملہ فہمی میں بہت آگے تھیں۔
6ھ میں آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ عمرہ کے لیے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مشرکینِ مکہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے سخت مزاحمت کی، آپﷺ کو حدیبیہ کے مقام پر رکنا پڑا۔ حالات اتنے کشیدہ تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی جنگ کا ارادہ کر لیا۔ لیکن آپﷺ حتی الامکان جنگ سے بچ کر صلح کی کوشش فرما رہے تھے۔ نبیِ کریمﷺ نے مصلحت و حکمت کے پیش نظر بڑی رعایت کے ساتھ کفارِ مکہ سے صلح فرمائی تھی۔ اس صلح میں آپﷺ نے ان کی شرائط قبول فرمالیں جو بظاہر مشرکین کے حق میں فائدہ مند جب کہ مسلمانوں کے حق میں نقصان دہ لگ رہی تھیں۔ شرائطِ صلح میں سے ایک یہ بھی شرط تھی کہ اس سال مسلمان عمرہ نہیں کریں گے آئندہ سال عمرہ کے لیے آسکتے ہیں۔ صلح نامہ سے فارغ ہو کر نبیِ کریمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ارشاد فرمایا: اپنے احرام کھول دو، قربانی کے جانور ذبح کر لو اور اپنے سر منڈوا لو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خواہش یہ تھی کہ ہم عمرہ کر کے واپس جائیں۔ اس لیے ذرا تامل کا شکار ہوئے اور اس آس میں تھے کہ شاید نبی کریمﷺ کی طرف سے عمرہ کی ادائیگی کا حکم مل جائے۔ آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تین مرتبہ یہی ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد خیمے میں تشریف لائے اور سیدہ اُمِ سلمہؓ کو اس معاملے سے آگاہ فرمایا۔
آپؓ نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ سب احرام کھول دیں؟ تو پھر ایسا کریں کہ آپ باہر نکل کر کسی سے کوئی بات نہ کریں اور اپنے جانور ذبح فرما دیں اور بال مونڈنے والے کو بلا کر اپنے بال مونڈا لیں۔ چنانچہ نبیِ کریمﷺ نے ایسا ہی کیا اور باہر نکل کر اپنا جانور ذبح کر دیا اور بال منڈالیے۔ اس کو دیکھتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وہ آس بھی ختم ہو گئی کہ شاید عمرہ کی ادائیگی کا حکم مل ہی جائے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی احرام کھول دیے اور اپنے جانور ذبح کر ڈالے اور آپس میں ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔
موئے مبارک سے محبت:
آپؓ کو نبی کریمﷺ سے بے حد محبت تھی۔ آپؓ کے پاس نبی کریمﷺ کے چند بال موئے مبارک تھے جو آپ نے سنبھال رکھے تھے۔ عثمان بن عبد اللہ بن موہبؒ کہتے ہیں کہ میں سیدہ اُمِ سلمہؓ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے وہ بال دکھائے۔ مہندی اور کتم (سیاہ رنگ دینے والا پودا) لگنے کی وجہ سے ان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔
خوشبوِ نبوت:
سیدہ اُمِ سلمہؓ خود فرماتی ہیں: نبی کریمﷺ کی وفات کے دن میں نے اپنا ہاتھ آپﷺ کے سینہ مبارک پر رکھا۔ کئی جمعے گزر گئے، میں کھاتی پیتی اور وضو کے لیے ہاتھ دھوتی ہوں، لیکن مشک کی خوشبو میرے ہاتھ سے نہیں گئی۔
وفات:
آپؓ نے اُمہاتِ المؤمنینؓ میں سے سب سے آخر میں وفات پائی۔ سیدنا ابوہریرہؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپؓ کے پہلے شوہر سے دونوں بیٹے عمر اور سلمہ، عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ اور عبداللہ بن وہب بن زمعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپؓ کو قبر جنت البقیع کے قبرستان میں اتارا۔ 
سنِ وفات: بعض نے 53ھ بعض نے59ھ بعض نے 62ھ لکھا ہے جبکہ بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپؓ کی وفات 63ھ میں ہوئی۔


صفحہ 4 از 4