لشکر کے حقوق
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیتوں اور خطوط کے ذریعہ سے لشکر کے حقوق بیان فرمائے۔ جیسا کہ ان کی خبر گیری کرنا، ان کے حالات کا جائزہ لیتے رہنا، سفر کے دوران میں ان سے نرمی برتنا، ان پر عریف و نقیب مقرر کرنا، دشمن سے لڑنے اور ان کے اترنے کے لیے صحیح جگہ منتخب کرنا اور فوج کی ضرورت کے مطابق غذا و چارہ مہیا کرنا، لشکر کی حفاظت کی خاطر دشمن کے حالات سے باخبر رہنے کے لیے قابل اعتماد مخبروں اور جاسوسوں کو مقرر کرنا، لشکر کو جہاد پر برانگیختہ کرنا اور اللہ سے ثواب اور شہادت کے فضائل بیان کرنا، ان میں سے اصحاب بصیرت سے مشورہ کرنا، ان پر اللہ کے واجب کردہ حقوق کو لازم کرنا اور بحالت جہاد تجارت و زراعت وغیرہ امور میں مشغول ہونے سے منع کرنا۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 131، 255)
ان میں سے بعض نکات کی تفصیل پیش خدمت ہے:
ان کے حالات کا جائزہ لینا اور ان کی خبر گیری کرنا
جب مدینہ کو مرتدین سے خطرہ لاحق ہوا، تو سیدنا ابوبکرؓ نے مدینہ والوں کو مسجد میں جمع کیا اور ان سے کہا: لوگ کافر ہو چکے ہیں، ان کے وفد نے تمہاری قلت دیکھ لی ہے، وہ رات یا دن میں کسی وقت بھی تم پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ ان کا تم سے قریب ترین شخص ایک برید (بارہ میل) کے فاصلے پر ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 64)
پھر سیدنا ابوبکرؓ نے لوگوں کو مدینہ کے راستوں پر حفاظت کے لیے مقرر کرنا شروع کیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 64)
اور جس وقت شام کی مہم پر روانہ ہونے والی فوج جمع ہوئی سیدنا ابوبکرؓ نے اپنی سواری پر سوار ہو کر ان کا مشاہدہ کیا جن سے میدان پر تھا، ان کی کثرت دیکھ کر سیدنا ابوبکرؓ کا چہرہ کھل گیا۔ روانہ ہونے سے قبل ان کا جائزہ لینے لگے ان کو وصیت کی اور ان کے لیے دعائیں کیں، ان کے لیے پرچم متعین کیے اور ان کے ساتھ تقریباً دو میل چل کر گئے۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 136)
اثنائے سفر میں لشکر کے ساتھ نرمی برتنا
حروب ارتداد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نرمی برتنے کی وصیت فرمائی اور راستہ طے کرنے کے لیے رہنما مقرر کرنے کا حکم فرمایا
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 147)
اور اسی بات کی وصیت حروب ارتداد کے تمام امراء و قائدین کو کی۔
(مآثر الإناقۃ فی معالم الخلافۃ للقلقشندی: جلد 3 صفحہ 140)
اور فتوحات عراق میں جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے الیس ( یہ انبار کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے۔ معجم البلدان: یاقوت: جلد 1 صفحہ 148)کے باشندوں کے ساتھ معاہدہ صلح طے کیا تو اس معاہدہ کے شروط میں سے یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے حفاظتی دستہ کا کام دیں گے اور اہل فارس کے خلاف مسلمانوں کے لیے معاون اور راہ نما بنیں گے۔ کیونکہ یہ لوگ اس ملک کے راستوں کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ جانتے ہیں۔
(الخراج لابی یوسف: صفحہ 294)
اور جس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مکلف کیا کہ وہ شام میں اسلامی فوج کی مدد کے لیے عراق سے شام کی طرف متوجہ ہو جائیں تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے راستہ کے ماہرین کو جمع کیا اور ان سے بیابانی راستہ سے شام جانے کے سلسلہ میں مشورہ کیا تاکہ جلدی سے وہاں مسلمانوں کی امداد کے لیے پہنچ جائیں پھر ان میں سے رافع بن عمیر الطائی کو اپنے ساتھ بحیثیت راہ نما رکھا۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 148)
اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شام روانہ کرتے وقت وصیت فرمائی: جب چلنا تو اپنے نفس پر اور اپنے ساتھیوں پر سختی نہ کرنا اور تنگی میں نہ ڈالنا۔
(فتوح الشام للواقدی: جلد 1 صفحہ 23)
اور جب لشکر کو چلنے میں مشقت محسوس ہوئی تو ایک شخص نے یزید رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت کہ ’’لوگوں کے ساتھ نرمی کرنا‘‘ یاد دلائی اور اس کے التزام کا مطالبہ کیا۔
(فتوح الشام للواقدی: جلد 1 صفحہ 23)
اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فلسطین روانہ کرتے وقت وصیت کی: ’’اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک باپ کی طرح رہنا، چلنے میں ان کے ساتھ نرمی برتنا کیونکہ ان میں کمزور لوگ بھی ہیں۔‘‘
(فتوح الشام للواقدی: جلد 1 صفحہ 130)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قائدین نے لشکر کے ساتھ نرمی کی وصیت کو نافذ کیا، انہوں نے اپنا یہ معمول بنا رکھا تھا کہ جب بھی دشمن سے قتال کے لیے نکلتے تو اپنے ساتھ راہ نما رکھتے جو ایسے راستوں سے لے کر جاتے جو آسان ترین ہوں اور پانی و چارہ اس راستہ میں میسر ہو تاکہ دشمن تک بآسانی اپنی قوت کھوئے بغیر پہنچ سکیں۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 149)
ہر دستے اور گروہ کا اپنا خاص شعار ہو جس سے ایک دوسرے کو پکاریں
قتال روم پر روانہ ہونے والے لشکر اسامہ کا شعار ’’یا منصور امت‘‘ تھا۔
(الطبقات لابن سعد: جلد 2 صفحہ 191)
اور حروب ارتداد میں جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے یمامہ میں مسیلمہ کذاب پر چڑھائی کی تو ان کا شعار ’’یا محمداہ یا محمداہ‘‘ تھا
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 111)
اور فتوحات عراق میں تنوخ کا شعار ’’یا آل عباد اللہ‘‘ تھا
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 174)
معرکہ یرموک میں ہر قائد اور ہر قبیلہ کا شعار الگ الگ تھا جس سے ان کی شناخت ہوتی تھی اور قتال کے وقت اس شعار کو بلند کرتے تھے جو تعارف کا ذریعہ تھا۔ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا شعار ’’امت امت‘‘، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا شعار ’’یا حزب اللہ‘‘، قبیلہ عبس کا شعار ’’یا لعبس‘‘، یمن کے مخلوط لوگوں کا شعار ’’یا انصار اللہ‘‘، حمیر کا شعار ’’الفتح‘‘، دارم وسکاسک کا شعار ’’الصبر الصبر‘‘، بنو مراد کا شعار ’’یا نصر اللہ انزل‘‘ تھا۔ یہ معرکہ یرموک میں نمایاں شعار تھے۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 174)
لشکر کی روانگی کے وقت اس کا باقاعدہ جائزہ لینا
حروب ارتداد میں آپ قائدین کو یہ نصیحت فرماتے تھے کہ اپنے ساتھیوں کو جلد بازی اور فساد سے روکیں، ان میں زائد لوگوں کو داخل نہ ہونے دیں، یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح پہچان لیں کہ کہیں وہ دشمن کے جاسوس ہی نہ ہوں اور ان کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان پہنچے۔
( تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 71، 72)
اسی طرح اپنے قائدین کو دشمن سے جہاد میں مرتدین سے تعاون لینے سے منع فرمایا اور یہ سب اسلامی فوج کے تحفظ و سلامتی کی خاطر تھا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)
اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتوحات شام کے قائدین کو دشمن کے سفراء کے ساتھ حذر و احتیاط اور بیدار مغزی اختیار کرنے کی وصیت کی تاکہ وہ ان کی فوجی کمزوریوں کو بھانپ نہ سکیں اور انہیں حکم دیا کہ لشکر سے ملنے سے انہیں روکیں ان کے ساتھ بات چیت نہ کرنے دیں بلکہ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: جب دشمن کا سفیر تمہارے پاس آئے تو اس کا اکرام کرو، تمہاری طرف سے یہ پہلی خبر ان کو پہنچے گی اور انہیں جلد از جلد رخصت کر دو تاکہ وہ تمہارے امور پر مطلع نہ ہو سکیں اور اپنے لشکر کو ان سے بات چیت کرنے سے روک دو، خود ان سے گفتگو کرو، اپنے راز کو نمایاں نہ ہونے دو ورنہ مسئلہ ٹیڑھا ہو جائے گا۔
(مروج الذہب للمسعودی: جلد 2 صفحہ 309)
دشمن کے خطرہ سے بچاؤ کے لیے بحالت اقامت وسفر حفاظتی پہرہ
یہ اہتمام اس وقت نمایاں ہو کر سامنے آیا جب مرتد قبائل کے مدینہ پر حملہ آور ہونے کے خوف سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے راستوں پر حفاظت دستے بٹھائے اور جس وقت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین سے جہاد کے لیے روانہ کیا تو ان کو سوتے وقت اچانک دشمن کے حملے سے متنبہ کیا اور فرمایا: سوتے وقت حفاظتی انتظامات کا اہتمام کرنا کیونکہ عربوں کی عادت اچانک حملہ آور ہونے کی ہے۔
(نہایۃ الارب للنویری: جلد 6 صفحہ 168)
اور فتوحات شام کے قائدین اور امراء کو سیدنا ابوبکرؓ نے حفاظت انتظامات اور لشکر کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے محافظین اور پہرے داروں کو مقرر کرنے کی وصیت فرمائی اور انہیں محافظین کی اچانک تفتیش اور جانچ پڑتال کرنے کا حکم فرمایا تاکہ جس ذمہ داری پر ان کو مامور کیا گیا ہے اس سلسلہ میں اطمینان اور تاکید حاصل ہو جائے کہ وہ کماحقہ اس کو ادا کر رہے ہیں چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: محافظین کی تعداد میں اضافہ کرو اور اکثر و بیشتر رات دن میں ان کے پاس اچانک پہنچو۔
(مروج الذہب: جلد 2 صفحہ 309)
اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اپنے ساتھیوں کو پہرہ کا حکم دیں پھر تم ان کی کارکردگی پر برابر مطلع رہنے کی کوشش کرو اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات کے وقت مجلس طویل کرو، ان کے ساتھ رہو اور بیٹھو اٹھو۔
(فتوح الشام للواقدی: جلد 1 صفحہ 23)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے امراء وقائدین نے لشکر کے لیے اقامت و سفر کی حالت میں حفاظتی دستہ اور پہرہ دارمقرر کرنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مکمل پیروی کی۔
( الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 196)
لشکر کی ضرورت کے مطابق سازو سامان اور توشہ وچارہ تیار کرنا
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اونٹ، گھوڑے اور اسلحہ خریدتے اور اسے جہاد کے لیے وقف کر دیتے،
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 215)
اور اس کے ساتھ دشمن سے جو سازو سامان اور اسلحہ قبضے میں آتا وہ بھی اسی مقصد کے لیے ہوتا۔
(الخراج لابی یوسف: صفحہ 286، 287)
اور جس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین سے جنگ کا مکلف کیا تو ان کو اس بات کی نصیحت فرمائی کہ جب دشمن کی سرزمین میں پہنچیں تو اس وقت تک دشمن کی طرف نہ بڑھیں جب تک کہ سازوسامان اور توشہ کا انتظام اور تیاری مکمل نہ کر لیں۔
(نہایۃ الأرب للنویری: جلد 6 صفحہ 168)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قائدین جب دشمن سے مصالحت کرتے تو ان سے یہ شرط لگاتے کہ جو مسلمان ان کے پاس سے گذریں گے ان کے لیے حلال کھانے پینے کا انتظام کریں گے۔
(الخراج لابی یوسف: 289)
اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کی مہم پر روانہ ہونے والے اسلامی لشکر کو نصیحت کرتے ہوئے یہ اجازت دی تھی کہ وہ صرف کھانے کی غرض سے دشمن کے اونٹ اور بکری ذبح کر سکتے ہیں ورنہ نہیں۔
(نہایۃ الارب للنویری: جلد 6 صفحہ 168)