لشکر کے حقوق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

لشکر کے حقوق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

حروب ارتداد میں آپ قائدین کو یہ نصیحت فرماتے تھے کہ اپنے ساتھیوں کو جلد بازی اور فساد سے روکیں، ان میں زائد لوگوں کو داخل نہ ہونے دیں، یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح پہچان لیں کہ کہیں وہ دشمن کے جاسوس ہی نہ ہوں اور ان کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان پہنچے۔

( تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 71، 72)

اسی طرح اپنے قائدین کو دشمن سے جہاد میں مرتدین سے تعاون لینے سے منع فرمایا اور یہ سب اسلامی فوج کے تحفظ و سلامتی کی خاطر تھا۔

(تاریخ الطبری:  جلد 4 صفحہ 163)

اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتوحات شام کے قائدین کو دشمن کے سفراء کے ساتھ حذر و احتیاط اور بیدار مغزی اختیار کرنے کی وصیت کی تاکہ وہ ان کی فوجی کمزوریوں کو بھانپ نہ سکیں اور انہیں حکم دیا کہ لشکر سے ملنے سے انہیں روکیں ان کے ساتھ بات چیت نہ کرنے دیں بلکہ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: جب دشمن کا سفیر تمہارے پاس آئے تو اس کا اکرام کرو، تمہاری طرف سے یہ پہلی خبر ان کو پہنچے گی اور انہیں جلد از جلد رخصت کر دو تاکہ وہ تمہارے امور پر مطلع نہ ہو سکیں اور اپنے لشکر کو ان سے بات چیت کرنے سے روک دو، خود ان سے گفتگو کرو، اپنے راز کو نمایاں نہ ہونے دو ورنہ مسئلہ ٹیڑھا ہو جائے گا۔

(مروج الذہب للمسعودی: جلد 2 صفحہ 309)

دشمن کے خطرہ سے بچاؤ کے لیے بحالت اقامت وسفر حفاظتی پہرہ

یہ اہتمام اس وقت نمایاں ہو کر سامنے آیا جب مرتد قبائل کے مدینہ پر حملہ آور ہونے کے خوف سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے راستوں پر حفاظت دستے بٹھائے اور جس وقت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین سے جہاد کے لیے روانہ کیا تو ان کو سوتے وقت اچانک دشمن کے حملے سے متنبہ کیا اور فرمایا: سوتے وقت حفاظتی انتظامات کا اہتمام کرنا کیونکہ عربوں کی عادت اچانک حملہ آور ہونے کی ہے۔

(نہایۃ الارب للنویری: جلد 6 صفحہ 168)

اور فتوحات شام کے قائدین اور امراء کو سیدنا ابوبکرؓ نے حفاظت انتظامات اور لشکر کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے محافظین اور پہرے داروں کو مقرر کرنے کی وصیت فرمائی اور انہیں محافظین کی اچانک تفتیش اور جانچ پڑتال کرنے کا حکم فرمایا تاکہ جس ذمہ داری پر ان کو مامور کیا گیا ہے اس سلسلہ میں اطمینان اور تاکید حاصل ہو جائے کہ وہ کماحقہ اس کو ادا کر رہے ہیں چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: محافظین کی تعداد میں اضافہ کرو اور اکثر و بیشتر رات دن میں ان کے پاس اچانک پہنچو۔

(مروج الذہب: جلد 2 صفحہ 309)

اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اپنے ساتھیوں کو پہرہ کا حکم دیں پھر تم ان کی کارکردگی پر برابر مطلع رہنے کی کوشش کرو اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات کے وقت مجلس طویل کرو، ان کے ساتھ رہو اور بیٹھو اٹھو۔

(فتوح الشام للواقدی: جلد 1 صفحہ 23)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے امراء وقائدین نے لشکر کے لیے اقامت و سفر کی حالت میں حفاظتی دستہ اور پہرہ دارمقرر کرنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مکمل پیروی کی۔

( الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 196)

لشکر کی ضرورت کے مطابق سازو سامان اور توشہ وچارہ تیار کرنا

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اونٹ، گھوڑے اور اسلحہ خریدتے اور اسے جہاد کے لیے وقف کر دیتے،

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 215)

اور اس کے ساتھ دشمن سے جو سازو سامان اور اسلحہ قبضے میں آتا وہ بھی اسی مقصد کے لیے ہوتا۔

(الخراج لابی یوسف: صفحہ 286، 287)

اور جس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین سے جنگ کا مکلف کیا تو ان کو اس بات کی نصیحت فرمائی کہ جب دشمن کی سرزمین میں پہنچیں تو اس وقت تک دشمن کی طرف نہ بڑھیں جب تک کہ سازوسامان اور توشہ کا انتظام اور تیاری مکمل نہ کر لیں۔

(نہایۃ الأرب للنویری: جلد 6 صفحہ 168)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قائدین جب دشمن سے مصالحت کرتے تو ان سے یہ شرط لگاتے کہ جو مسلمان ان کے پاس سے گذریں گے ان کے لیے حلال کھانے پینے کا انتظام کریں گے۔

(الخراج لابی یوسف: 289)

اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کی مہم پر روانہ ہونے والے اسلامی لشکر کو نصیحت کرتے ہوئے یہ اجازت دی تھی کہ وہ صرف کھانے کی غرض سے دشمن کے اونٹ اور بکری ذبح کر سکتے ہیں ورنہ نہیں۔

(نہایۃ الارب للنویری: جلد 6 صفحہ 168)


صفحہ 2 از 2